بارہ بھمن ، اسلامی انقلاب کی کامیابی کی راہ میں عظیم تبدیلی کا آغاز
آج بارہ بھمن اکتیس جنوری کا دن ، بانی انقلاب اسلامی امام خمینی کی تاریخ ساز ایران واپسی کا دن ہے- اڑتیس سال قبل اسی دن حضرت امام خمینی نے برسوں تک جلاوطنی کی زندگی گذارنے کےبعد ، جوش و ولولے سے سرشار عوام کے درمیان ایران کی سرزمین پر قدم رکھا -
یہ وہ دن تھا جس دن ظالم شاہی حکومت کے خلاف ایرانی عوام کا جوش و جذبہ اپنے عروج کو پہنچ گیا تاکہ اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کریں-
بارہ بھمن کی تاریخ کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کی راہ میں ایک سنگ میل قرار دیا جاسکتا ہے- کیوں کہ امام خمینی (رح) کی ہدایت و رہنمائی کے سائے میں ظلم و ستم کے خلاف ایک طویل جنگ، کامیابی سے ہمکنار ہوئی- یہ انقلاب تقریبا چار عشرے سے ترقی و پیشرفت کی جانب گامزن ہے اور انقلابی اقدار اور اہداف کے حصول میں ذرہ برابر بھی پسپائی اختیار نہیں کی ہے-
گذشتہ اڑتیس برسوں کے کارناموں پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی جمہوری نظام نے افتخار اور سربلندی کے ساتھ ہارڈ وار سے لے کر سافٹ وار تک تمام سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے- اس سال بھی اسلامی انقلاب کی انتالیسویں بہار کا آغاز ایسی حالت میں ہو رہا ہے کہ ایران نے تمام شعبوں میں پوری قوت و اقتدار کے ساتھ دھمیکوں اور خطرات کا مقابلہ کیا ہے اور پورے عزم کے ساتھ آگے کی سمت قدم بڑھا رہا ہے-
اسلامی جمہوری نظام کے دشمنوں نے ان برسوں کے دوران مختلف سازشوں اور پروپگنڈوں کے ذریعے کوشش کی ہے کہ ایران کو الگ تھلگ کردیں اور ایرانی عوام کو انقلاب سے دل برداشتہ کردیں لیکن ان تمام سازشوں اور پروپگنڈوں کے باوجود وہ انقلاب کے ارکان اور اسلامی جمہوری نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے-
دنیا کی بڑی اور منھ زور طاقتوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت نے اسلامی انقلاب کی صلاحیتوں کو آشکارہ کردیا اور دنیا پر ظاہر کردیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران انقلابی و دینی اقدارپر مبنی حاکمیت کے ذریعے، اپنے اہداف کی سمت قدم بڑھا رہا ہے- یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے تمام شعبوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی با اقتدار پیشرفت کا مشاہدہ کرتے ہوئے، ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے- مغربی ملکوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی جانب سے ملت ایران کے خلاف اقتصادیاں پابندیاں بھی ، کہ جو ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے تھیں، انقلابی اہداف کی سمت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکیں-
امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے اقدامات انجام دیتے ہوئے پیہم یہ کوشش کی ہے ایران کو ایک خطرہ ظاہر کرے - اس وقت امریکی صدر ٹرمپ نے بھی سات مسلم ملکوں کے باشندوں کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے منافی قدم اٹھاتے ہوئے ، امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے اور ٹرمپ بھی ، دہشت گردی کے حامی ملکوں کی فہرست میں ایران کا نام شامل کرکے اپنے شکست خوردہ اقدامات کا ایک بار پھر اعادہ کر رہے ہیں-
امریکہ، ایران کے ایٹمی پروگرام کے مسئلے میں ناکامی کا منھ دیکھنے کے بعد بھی ، ایرانی قوم کے خلاف اپنے دشمنانہ اقدامات سے دستبردار نہیں ہوا ہے، البتہ صرف روش تبدیلی کردی ہے- اس وقت بھی یہ دشمنی، ایران کے دفاعی میزائل پروگرام یا ایران کو دہشت گردی کا حامی قرار دینے جیسی بہانہ تراشیوں کے ذریعے جاری ہے- امریکہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی دشمنی کا راستہ اپنایا تاکہ اس کے ذریعے سے اپنے اہداف کو حاصل کرسکے- لیکن ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جو بلند قدم اٹھائے اس کے سبب درحقیقت دشمنوں کے تمام تانے بانے بکھر گئے اور ان کے تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے-
اسلامی جمہوری نظام کے دشمنوں کے غلط اندازے اس بات کا باعث بنے کہ انہیں، ایران کے ساتھ دشمنی کا طویل راستہ طے کرنا پڑا - ان اقدامات نے لیکن ملت ایران کی عظمت و افتخار کو دوچنداں کردیا یہاں تک ایرانی قوم کے دشمنوں نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے- اسلامی جمہوری نظام نے تمام شعبوں میں عملی طور پر ثابت کردکھایا کہ اگر کوئی قوم ، عزت ، تشخص ، سلامتی اور اپنے مفادات کو حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پائیداری و استقامت اور خود اعتمادی پیدا کرے، اور عشرہ فجر دنیا والوں کو یہی پیغام دے رہا ہے -