ایران کی میزائلی صلاحیت اور امریکہ کی تشویش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i270211-ایران_کی_میزائلی_صلاحیت_اور_امریکہ_کی_تشویش
حالیہ دنوں میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے ایران کے میزائل تجربے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر بائیس اکتیس کے منافی قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران نے ایسے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جو ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۱:۱۸ Asia/Tehran
  • ایران کی میزائلی صلاحیت اور امریکہ کی تشویش

حالیہ دنوں میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے ایران کے میزائل تجربے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر بائیس اکتیس کے منافی قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران نے ایسے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جو ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے منگل کے دن  ایک بیان میں کہا کہ امریکہ بقول ان کے ایران کے اشتعال انگیز اور غیر ذمےدارانہ اقدامات سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اسے ان اقدامات پر شدید تشویش ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی امریکہ کو خطے کی صورتحال پر تشویش لاحق ہے۔ اور یہ کہ کونسے بین الاقوامی کنونشن کے مطابق دفاعی ہتھیار کے طور پر میزائیل کا حامل ہونا خطرہ شمار ہوتا ہے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران نے دفاعی میدان میں بڑے قدم اٹھائے ہیں لیکن امریکہ ایسی حالت میں ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں تشویش کا دعوی کر رہا ہے کہ جب وہ خود میزائلی جارحیت کے مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے مشترکہ فوجی مشقیں انجام دے رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھا  کہ پینٹاگون نے سعودی عرب کے ہاتھ ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے اور اس کے علاوہ وہ سعودی عرب کو دسیوں ارب ڈالر کی مالیت کے میزائل سسٹم سے لیس کرنے کے معاملے پر بھی اس ملک کے حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ امریکی حکام ہمیشہ سے ہی ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں۔ اس پالیسی کے سلسلے میں امریکہ میں کام کی تقسیم ہوئی ہے۔ بعض اقدامات امریکہ کی وزارت خارجہ اور بعض امریکی کانگریس انجام دیتی ہے۔ امریکہ نے ایران کا نام امریکہ کو لاحق دہشت گردانہ خطروں کی فہرست میں قرار دینے کے علاوہ میزائل تجربے کے بہانے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھا کر ایک نیا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن یہ اجلاس بھی بغیر کسی واضح نتیجے کے اختتام پذیر ہوگیا۔

امریکہ نے اس سے قبل بھی دعوی کیا تھا کہ خلیج فارس میں ایران کی فوجی مشقوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ اب مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہونے کے ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد اور ڈونلڈ ٹرمپ کا عہد صدارت شروع ہونے کے بعد نئے انداز سے ایران کے خلاف ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔   

اسلامی جمہوریہ ایران نے خطرات کی سطح، دفاعی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھ کر اپنی دفاعی حکمت عملی تیار کی ہے۔ اور یہ حکمت عملی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی نہیں ہے بلکہ خطے میں قیام امن اور استحکام کی ضامن اور ہر جارحیت کرنے والے کی ممکنہ مہم جوئی اور جارحیت کو روکنے والی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد ایک قرارداد منظور کر کے اعلان کیا کہ ایران کی جائز اور معمول کی فوجی سرگرمیوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ بات مسلّم ہے کہ امریکہ کے اقدامات دفاعی امور سے متعلق بین الاقوامی کنونشنوں اور قوانین کے منافی ہیں اور اس مسئلے کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے اٹھایا جانا چاہئےکیونکہ امریکہ نے دفاع کے جائز حق کو پامال کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام نے بھی بارہا کہا ہے کہ ان کو ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنے آپ کو ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے این پی ٹی کا پابند جانتے ہیں۔ بنابریں ایران کے بیلیسٹک میزائل ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کے لئے ڈیزائن ہی نہیں کئے گئے ہیں۔ امریکہ ان اقدامات کے ذریعے ایران کی دفاعی صلاحیت کے لئے مشکلات پیدا کرنا چاہتاہے لیکن اسے کبھی بھی اپنے اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔