ایران کے خلاف امریکہ کا نئے سرے سے پروپگیںڈا
وائٹ ہاوس نے ان دنوں ایران کے خلاف نئے سرے سےپروپگینڈا شروع کررکھا ہے جس میں دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ ان پروپگینڈوں کا بہانہ ایران کا میزائل تجربہ ہے۔
وائٹ ہاوس نے ان دنوں ایران کے خلاف نئے سرے سےپروپگینڈا شروع کررکھا ہے جس میں دھمکیاں بھی شامل ہیں۔ ان پروپگینڈوں کا بہانہ ایران کا میزائل تجربہ ہے۔ یہ پروپگینڈہ گذشتہ روزامریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مایکل فلین کی کے بیانات سے نئے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ مایکل فلین نے صحافیوں سے گفتگو میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ان کے بقول ایران کے عدم استحکام پیدا کرنے والے رویوں کو محدود کرنے کے لئے باراک اوباما کی اسٹراٹیجی موثر نہیں تھی۔ یورپی یونین سے لے کے علاقے کے ممالک تک صیہونی حکومت کے ہمنوا بہت سے سیاسی اور خبری حلقے اس نئے سناریوں کی پشت پر ہیں اور انہوں نے اپنی خبروں اور تجزیوں میں ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ بعض حلقوں نے اپنے صریحی البتہ بے بنیاد بیانات میں ایران کے میزائل پروگرام کو جامع مشترکہ ایکشن پلان سے جوڑنے کا دعوی کیا ہے اور کہا ہےکہ ایران نے اس طرح سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں نےمختلف زاویہ اور جامع مشترکہ ایکشن پلان سے ہٹ کر کہا ہے کہ امریکہ کا نیا سناریو صدر ٹرمپ کی حکومت کے آغاز میں امریکہ کی نئی مہم جوئی ہے۔ یہ تجزیہ نگار یہ قیاس آرائیاں کررہے ہیں کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے کے رویوں کو پرکھ رہے ہیں۔ یہ مفروضہ گرچہ تجزیہ میں پیش کیا جاسکتا ہے لیکن کسی جامع تجزیہ کی بنیاد نہیں بن سکتا ہے کیونکہ امریکہ کے نئے سناریو کی بنیادی وجہ بش کے دوران سے آج تک امریکہ کی پالیسیوں میں آنے والے نشیب و فراز ہیں اور امریکہ کی ماضی کی پالیسیاں ہیں۔ اسی بنا پر ایسا لگتا ہے کہ وائٹ ہاوس پہنچنے والے نئے حکام کے لئے ضروری ہے کہ ماضی پر بھی نگاہ رکھیں۔ باراک اوباما نے بارہا یہ جملہ استعمال کیا تھا کہ ایران کے خلاف تمام آپشن میز پر ہیں۔ لیکن باراک اوباما کی آٹھ سالہ صدارت کے عرصے میں ان کے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ امریکہ کے لئے حالات بہت زیادہ بدل چکے ہیں، کسی بھی ملک کے خلاف دھمکیاں محض ناپختگی اور کم معلومات کی نشانی ہے۔ ایک سال قبل امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولن پاول نے ایک انٹرویو ایران پر حملے کی باتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا اچھا ہوگا اگر حقیقت پسندی سے کام لیا جائے اور ایران کا یمن اور کسی اور ملک سے مقابلہ نہ کیا جائے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حتی ہم لوگوں نے بھی ایسا دعوی نہیں کیا ہے۔
آج شاید بعض وابستہ حکومتیں جیسے سعودی عرب یہ تصورکرتی ہیں کہ وہ اپنے نقش برآب ہونے والے منصوبے کو شاید ٹرمپ کے نئے کھیلوں سے حاصل کرسکتی ہیں لیکن یہ محض ایک خیال ہے کیونکہ امریکہ اس سے قبل تمام آپشنوں کو پراکسی وار میں ایران کے خلاف بالواسطہ طریقے سے یا براہ راست طریقے سے اپنا کر دیکھ چکااور پہلے سے ہی ان کے نتیجے سے واقف ہوچکا ہے۔ آج علاقے کے باہر کے جن دھڑوں نے عراق و افغانستان میں تبدیلیوں کے وعدوں پر بھروسہ کرکے مہم جوئی کا آغاز کیا ہے انہیں اب نہایت شدید جیلنج درپیش ہیں اور بنیادی طور سے وہ ایسے حالات میں نہیں ہیں کہ علاقے میں نئی مہم جوائی شروع کرسکیں۔ امریکہ کی نئی حکومت کے دھمکی آمیز بیانات سے امریکہ کے داخلی اختلافات کا پتہ چلتا ہے، ری پبلیکن ان رویوں سے امریکہ کے اندر اپنی متزلزل پوزیشن کو دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے منتازعہ فیصلوں سے رائے عامہ کی توجہ صدرات کے آغاز میں ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
بہرحال اس سلسلے میں ایران کا موقف واضح اور شفاف ہے ایران کے وزیر دفاع جنرل حسین دھقان نے امریکہ کے نئے پروپگینڈے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کو بھی اپنے دفاعی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دینگے لھذا یہ مسئلہ واضح ہے اور اس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ امریکہ کو وہی جواب ملے گا جو اسے اوباما کی صدارت اور ایٹمی مذاکرات کے دوران ملتا آیا ہے