ایران کے خلاف نئی پابندیاں؛ امریکہ قابل اعتماد نہیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i270581-ایران_کے_خلاف_نئی_پابندیاں_امریکہ_قابل_اعتماد_نہیں
امریکہ نے ایران کے میزائل تجربے کا بہانہ بنا کر اسلامی جمہوریہ ایران کی بعض شخصیات اور اداروں پر پابندیاں لگادی ہیں.
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۲:۱۰ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف نئی پابندیاں؛ امریکہ قابل اعتماد نہیں

امریکہ نے ایران کے میزائل تجربے کا بہانہ بنا کر اسلامی جمہوریہ ایران کی بعض شخصیات اور اداروں پر پابندیاں لگادی ہیں.

جمعے کے روزامریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران سے منسلک بعض شخصیات اور اداروں پر پابندیاں لگادیں- امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں 13 افراد اور 12 کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے- پابندیوں کی شکار ہونے والی  بعض کمپنیاں لبنان، متحدہ عرب امارات اور چین میں موجود ہیں-

امریکہ نے ایران کے ایٹمی معاملے سے متعلق اپنے دعووں میں شکست کھانے اور مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط کے بعد بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات سے دستبردار ہونے والا نہیں ہے- اسی سبب سے امریکی رویوں کی ماہیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس نے صرف اپنی روش اور منظرنامہ تبدیل کرلیا ہے- امریکہ اپنے اس اقدام کے ذریعے دو مقصد کا درپے ہے - پہلا ہدف علاقے میں ایرانو فوبیا کی پالیسی کو جاری رکھنا ہے لیکن دوسرا امریکی ہدف اور مقصد ، علاقائی اور عالمی سطح پر ایران کا مثبت کردار سامنے آنے کے بعد اس کے خلاف سازشیں رچنا ہے-

اس کے باوجود بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ،  ایران کے ایٹمی معاہدے کو پھاڑ کر پھیکنے کے بجائے ‎اس مسئلے کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح سے وہ مشترکہ جامع ایکشن پلان یا وہی ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کو مزید سخت بنادے تاکہ اس معاہدے کے سلسلے میں دوبارہ مذاکرات ہوں- ایٹمی معاہدے کے حوالے سے جن آپشنز کا امریکی حکومت جائزہ لے رہی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی، ایران کے خلاف سخت پالسیاں اور موقف اپنائے- لیکن اس بات میں شبہ پایا جاتا ہے کہ  ٹرمپ دنیا کے دیگر ملکوں کو بھی اس کھیل میں شامل کرنے میں مجبور کرسکیں گے-  

اس بناء پر اس وقت ٹرمپ کے اقتدارمیں آنے کے ساتھ ہی  واشنگٹن میں صورتحال بہت ناپائیدارہے اور یقینی طور پر امریکی صدر کے رویوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا- خاص طور پر ایسے میں کہ جب ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں متضاد پالیسی اختیار کر رکھی ہیں - ٹرمپ نے بعض مواقع پر کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ ، وحشتناک ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات بہت برے اندازمیں ہوئے ہیں- لیکن ساتھ ہی بعض مواقع پر، مثال کے طورپر ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کے ساتھ ایربس کی فروخت کے معاہدے پر دستخط کے وقت، امریکہ اور بوئینگ کے تجارتی مفادات کے مسئلے کا ذکر کیا اور کہا کہ کیا وجہ ہے کہ یورپی اور ایشیائی ممالک تو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں مگر امریکہ نہیں کرسکتا- لیکن حقیقت مسئلہ ان باتوں سے ماوراء ہے-

اس لئے کہ امریکہ کے ماضی کے رویوں پر  نظر ڈالنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ کے سابق  صدر اوباما نے اپنے دوسرے دورۂ صدارت میں، مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط کرنے کے باوجود واضح طور پر یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنی ماضی کی پالیسیوں پر کاربند تھے اور اسی کی راہ پر ٹرمپ بھی چل رہے ہیں- جبکہ وائٹ ہاؤس میں مسلسل یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ ایران کے خلاف نامعلوم مدت تک  پابندیاں جاری رہنا ممکن نہیں ہے- لیکن امریکہ نے ہمیشہ پیچیدہ انداز اور رویے اپنائے ہیں اور ان رویوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا مسئلہ ، ملت ایران کا انقلابی ہونا اور اس کے آزادانہ مواقف ہیں ساتھ  ہی امریکہ کی تسلط پسندی اور منھ زوری کے خلاف ایرانی قوم کی استقامت اور مخالفت ہے-

واضح سی بات ہے کہ جب تک یہ صورتحال جاری رہے گی امریکہ کے نقطۂ نگاہ سے ایران خطرہ شمار ہوگا لہذا ان تمام اقدامات کے پس پردہ ایک اہم اور بنیادی نکتہ موجود ہے اور وہ عبارت ہے اس سے کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے-