روس دوبارہ افغانستان میں داخل ہونے کے لئے کوشاں
افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی آج روس کے دورے پر جانے والے ہیں، اس موقع پر روس نے کہا ہے کہ افغانستان شنگھائی تعاون تنظیم کو دوبارہ فعال کرنا حکومت کابل کی حمایت کرنے کے لئے ایک معقول اور مناسب اقدام ہوگا۔
روسی سفارتخانے، نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہ صلاح الدین ربانی روس کا دورے کر رہے ہیں، کہا کہ روس شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ کابل کے تعاون کی پالیسی کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا۔ ماسکو افغانستان میں اپنی حمایت یافتہ جماعتوں کو مضبوط بنانے کے لئے افغانستان میں ایک عرصے سے موجود ہے اور روس ہی نے اس ملک میں فوجی بغاوت کرا کے حکومت تبدیل کروائی تھی۔ اس کے علاوہ روس کی سرخ فوج نےستّر کی دہائی کے آخری برسوں میں افغانستان پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا جس کی وجہ سے روس افغان عوام کے نزدیک قابل نفرت ہے۔ اسی بنا پر روس کسی بھی طرح سے افغانستان کے سیاسی میدان میں دوبارہ نہیں اترسکتا۔ البتہ ماسکو نے حال ہی میں یہ کوشش کی ہے کہ طالبان کے ذریعے اور اس گروہ کے ساتھ تعاون کرکے افغانستان میں اپنی موجودگی کی زمین ہموار کرے لیکن اسے افغانستان میں وسیع مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تین سال پہلے تک جب تک داعش کی موجودگی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا روس افغانستان کے حالات پر زیادہ حساسیت نہیں دکھاتا تھا اور افغانستان میں موجود رہنے کے لئے کوئی خاص دلچسپی بھی ظاہر نہیں کرتا تھا کیونکہ کوئی بھی افغانستان میں اس کا استقبال کرنے والا نہیں تھا۔ لیکن جب یہ بات سامنے آئی کہ افغانستان میں داعش نے موجودگی کا اعلان کردیا ہے اور اس سے روس، مرکزی ایشیا اور قففاز کو سکیورٹی خطرہ لاحق ہے تو روس نے افغانستان میں فعال ہونے کےلئے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اگرچہ روس یہ امید رکھتا ہے کہ وہ منسوخ شدہ پرچم اور خلق نامی پارٹیوں سے وابستہ بعض عناصر کے سہارے افغانستان میں فعال ہوجائے گا لیکن ماسکو نے طالبان کے ساتھ تعاون کرکے بھی معلومات حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔ افغانستان کے بارے میں ماسکو میں ہونے والی حالیہ نشست سے ، کہ جس میں چین اور پاکستان نے بھی شرکت کی تھی، معلوم ہوتا ہے روس افغانستان میں اثر و رسوخ حاصل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ لیکن اگر روس پاکستان کے ذریعے افغانستان میں داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے افغانستان میں اپنی موجودگی قائم کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی کیونکہ افغانستان میں پاکستان کی بھی پوزیشن کچھ اچھی نہیں ہے اور افغانستان میں پاکستان اور روس کے تعاون کی وسیع پیمانے پر مخالفت کی گئی ہے۔ایسے عالم میں روس شنگھائی تعاون تنظیم کے سہارے افغانستان میں دوبارہ قدم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے علاوہ ماسکو یہ بھی کوشش کررہا ہے کہ افغانستان کو شنگھائی تعاون تنظیم میں لاکر افغانستان اور اس تنظیم کا ایک رابطہ گروہ بنا دے اور شنگھائی تعاون تنظیم کو نیٹو کے مقابل کھڑا کردے، کیونکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک افغانستان میں داعش کی موجودگی سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطروں کے پیش نظر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ واضح رہے روس یکطرفہ طور پر یا چین کی مدد سے افغانستان میں داخل ہونے کے بجائے افغانستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ سکیورٹی تعاون کرنا چاہتا ہے۔ روس کو امید ہے کہ افغانستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے فعال ہونے سے روس کے اس ملک میں دوبارہ آنے کے سلسلے میں افغان حکومت اور مختلف گروہوں کی حساسیت کم ہوجائے گی اور اس بات کا امکان بھی ختم ہوجائے گا کہ روس مارکسسٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں کی مدد کرسکے گا۔