یمن کو تقسیم کرنے کی سازش
یمن کے مفرور اور مستعفی صدر عبدربہ منصور ہادی نے، اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ وہ یمن کو عوامی رضاکار فورس یعنی حوثیوں کےہاتھ میں جانے نہیں دیں گے ، کہا کہ ہم یمن کو ایک فیڈرل سسٹم کے تحت چلائیں گے۔
عبدربہ منصور ہادی نے منگل کے دن جنوبی یمن میں واقع جزائر سُقُطریٰ (Socotra) میں سیکورٹی کمیٹی کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میں منصور ہادی نے یمن میں وفاقی نظام کے نفاذ پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یمن کو اسی نظام کے تحت چلایا جانا چاہئے۔
یمن میں سعودی عرب اور مغرب کا پٹھو شمار ہونے والے عبدربہ منصور ہادی کے بیانات سے یمن کے خلاف کی جانے والی سازش ماضی سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے چھبیس مارچ سنہ 2015 سے یمن کے مفرور مستعفی صدر عبدربہ منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانے اور اس ملک پر اپنا تسلط جاری رکھنے کے لئے اس ملک کے خلاف جارحیت شروع کر رکھی ہے۔ یمن میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی مداخلتوں کا جائزہ یمن میں آل سعود اور مغرب کے ناجائز مفادات کے حصول کے کوششوں کےتناظر میں ہی لیا جانا چاہئے کیونکہ آل سعود حکومت ہمیشہ ہی یمن کی صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے اورمختلف طریقوں سے اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کے درپے رہی ہے۔
اس کے علاوہ یمن پر قبضہ اور اس کی سرزمین کے زیادہ تر حصے خصوصا متنازعہ زمینوں کو سعودی عرب کی سرزمین میں شامل کرنا آل سعود کے ایجنڈے میں رہا ہے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کے ٹیلی ویژن نے کچھ عرصہ قبل ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں یمن کے مقبوضہ علاقوں کو سعودی عرب کی سرزمین ظاہر کیا گیا تھا۔ ماضی سے ہی یمن کے تین صوبوں عسیر، نجران اور جیزان پر سعودی عرب کا قبضہ چلا آ رہا ہے اور حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب نے عملی طور پر اپنی سرزمین کا حصہ بنا لیا ہے۔
ریاض نے نہ صرف جیزان، عسیر اور نجران پر قبضے پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ حالیہ برسوں کے دوران اس نے حضرموت کے علاقے پر قبضے کی بھی بہت سی سازشیں تیار کیں۔
سعودی عرب یمن میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے علاوہ یمن کو دو حصوں شمالی اور جنوبی یمن میں تقسیم کر کے متعدد علاقوں پر مشتمل ایک فیڈرل حکومت کی تشکیل پر مبنی امریکی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے۔ اس سازش کا مقصد یمن کو کمزور کرنا ہے۔
ان حالات میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن کو مختلف صوبوں میں تقسیم کرنے پر مبنی منصوبے کا مقصد اس ملک کو چند چھوٹے اور کمزور حصوں میں تقسیم کرنا ہے تاکہ ان پر آسانی کے ساتھ حکومت کی جاسکے اور یہ چیز آخرکار یمن کے زوال پر منتج ہوگی۔
یمن کو چھوٹے اور کمزور علاقوں میں تقسیم کرنے اور اس ملک میں فیڈرل سسٹم لانے کی مشکوک تجویز ایسی حالت میں پیش کی جا رہی ہے کہ جب حالیہ برسوں کے دوران امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک کی جانب سےنئے مشرق وسطی کی تشکیل کے لئے خطے کے ممالک کو تقسیم کئے جانے پر مبنی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔ دریں اثناء یمنی عوام کے قیام کو روکنے یا اسے اس کے راستے سے ہٹانے میں ناکامی کا شکار ہونے والے عبدربہ منصور ہادی کے پٹھو یمن کو تقسیم کرکے اس ملک کے عوام سے انتقام لینے کے درپے ہیں۔
یمن کو متعدد علاقوں میں تقسیم کر کے فیڈرل سسٹم قائم کرنے پر عبدربہ منصور ہادی کے اصرار سے اس کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں اور رائے عامہ میں یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ عبدربہ منصور ہادی یمن کے لوگوں کے اذہان کو اختلافات پیدا کرنے والی سازشوں میں الجھا کر اس ملک میں بنیادی سیاسی تبدیلیاں لائے جانے کی روک تھام کرنا اور عوام کی توجہ ان کے انقلاب کے اصل اہداف سے ہٹانے کے درپے ہے۔