رہبر انقلاب اسلامی کی نظر امریکی پالیسیوں کی ماہیت
اسلامی جمہوریہ کی فضائیہ کے افسروں اور جوانوں نے منگل کے دن رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر امریکی صدر کے اس بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایران کو امریکہ کی سابق حکومت کا شکر گزار ہونا چاہیے، فرمایا کہ امریکہ کے نئے صدر کے بیانات اور اقدامات سے امریکی حکومتوں کی ہمہ گیر بدعنوانی اور خرابیوں سے متعلق ایران کے اڑتیس سالہ بیانات کی حقانیت ثابت ہوگئی ہے۔آٹھ فروری سنہ انیس سو اناسی کے دن ایرانی فضائیہ کے افسروں کی جانب سے امام خمینی رح کی تاریخی بیعت کئے جانے کی مناسبت سے انجام پانے والی اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر اس حقیقت کی یاددہانی کرائی کہ شیاطین پر اعتماد کرنا اور اسلام کی بالادستی کے نظام کے مخالفین سے آس لگـانا بہت بڑی غلطی ہے۔ امریکہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے تقریبا چار عشروں کے عرصے کے دوران ایرانی قوم کے ساتھ نیک نیتی پر مبنی رویہ اختیار نہیں کیا ہے۔ یہ تصور باطل اور غلط ہے کہ اوباما کا رویہ دوسرے ہر امریکی صدر کے رویئے سے مختلف تھا اور اس طرح کی بات امریکہ کی حقیقی ماہیت سے عدم واقفیت کی علامت ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیانات سے ثابت کر دیا ہے کہ ان کو امریکہ کے ماضی اور حال کا صحیح ادراک نہیں ہے۔
جب اوباما نے رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق امریکہ کا آہنی مکّا مخملی دستانوں میں چھپا رکھا تھا اور وہ تبدیلی کی بات کرتے تھے اس زمانے میں ایران اوباما کے بیانات سن کر خوش نہیں ہوا تھا کہ آج اسے ٹرمپ کے زعم کے مطابق اسے ماضی پر افسوس کرنا پڑے یا اوباما کی جانب سے ایران کے ساتھ نرم رویہ اختیار کئے جانے کی بنا پر امریکہ کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت ہو۔ اگر ٹرمپ ماضی پر ایک سرسری بھی نظر ڈالیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ اوباما نے نہ صرف یہ کہ ایران کے ساتھ نرم رویہ اختیار نہیں کیا تھا بلکہ جو کچھ بھی ان سے ہوسکتا تھا انہوں نے امریکہ کی ساکھ بچانے کے لئے کیا اور میز پر تمام آپشن موجود ہونے کی بات کی۔ باراک اوباما نے حتی وائٹ ہاؤس میں اپنے عہد صدارت کے آخری دنوں میں ایران مخالف پابندیوں میں توسیع اور ایران سے متعلق ایمرجنسی کی حالت جاری رکھنے کے قانون پر دستخط کر کے دکھا دیا کہ انہوں نے ٹرمپ کے لئے ایران کے ساتھ دشمنی جاری رکھنے کے سارے دروازے کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اوباما جارج بش کے جانشین اور وارث تھے اور اب ٹرمپ کو اوباما کی میراث ملی ہے۔ جارج بش کی مخاصمانہ پالیسیوں کے تحت ایران پر بہت سے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ چینج کے نعرے کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں پہنچنے والے باراک اوباما نے بھی صرف اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکہ نے ایران کے سلسلے میں بہت غلطیاں کی ہیں۔ اوباما نے سنہ 1953 میں ایران کی قانونی حکومت کے خلاف کودتا میں امریکہ کے ملوث ہونے سے لے کر ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں صدام کی حمایت کے کردار کی بھی بات کی۔ اوباما نے مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط کرتے وقت کہا تھاکہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں ایران کےایٹمی پروگرام کی بساط لپیٹ کر رکھ دیتا۔ آخرکار اوباما اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اپنی ساکھ بچانے کے لئے ان کو مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط کرنا ہی پڑیں گے۔ شاید ٹرمپ مشترکہ جامع ایکشن پلان سمیت بعض امور کے بارے میں مختلف پالیسیاں اختیار کریں لیکن اس طرح کی پالیسیوں کی ان کو یقینا قیمت چکانی پڑے گی کیونکہ ایران کی نظر سے واضح ہے کہ ٹرمپ کے عہد صدارت کا امریکہ وہی امریکہ ہے جو گزشتہ اڑتیس برسوں کے دوران رہا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ صرف دشمنی ہی کی ہے اور امریکہ میں برسراقتدار آنے والی ہر جماعت ایران کے دشمن محاذ میں ہی رہی ہے۔ اس لئے ایران سے متعلق امریکہ کی پالیسیوں اور اہداف کے پیش نظر اوباما اور ٹرمپ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران، اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ امریکہ میں کونسی جماعت کی حکومت ہے، اپنی اصولی پالیسیاں جاری رکھے گا۔