کابل میں حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i271203-کابل_میں_حملے_کی_ذمہ_داری_داعش_نے_قبول_کرلی
تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے شہر کابل میں افغانستان کی سپریم کورٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ، اس دھماکے میں کم از کم پچیس افراد جاں بحق اور دس دیگر زخمی ہوگئے-
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
Feb ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۷ Asia/Tehran
  • کابل میں حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے شہر کابل میں افغانستان کی سپریم کورٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ، اس دھماکے میں کم از کم پچیس افراد جاں بحق اور دس دیگر زخمی ہوگئے-

یہ حملہ ابوبکر التاجیکی نام کے ایک داعشی نے کیا ہے - کل بدھ کے روز ابوبکر التاجیکی نے سپریم کورٹ سے ملازمین کے نکلتے وقت خود کو دھماکے سے اڑالیا- یہ دہشت گردانہ اقدام مختلف پہلوؤں سے قابل غور ہے-  کابل مختلف وجوہات منجملہ افغانستان کا دارالحکومت ہونے، حکومتی ادارے اور سفارتخانے ہونے نیز علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندہ دفاتر کا مرکز ہونے کی بناء پر سیاسی اور سیکورٹی کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل شہر ہے- اسی لحاظ سے کابل میں دیگر شہروں کی بہ نسبت سیکورٹی تدابیربھی سخت اختیار کی گئی ہیں- اسی سبب سے کابل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے، افغانستان کے دیگر شہروں میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں سے زیادہ، عوام اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں-

کابل کی سپریم کورٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری داعش کے توسط سے قبول کئے جانے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ کابل میں مزید اثر و رسوخ کے درپے ہے- یہ پہلی بار ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ نے کابل میں کوئی دہشت گردانہ حملہ کیا ہے اور یہ مسئلہ دارالحکومت کابل میں داعش دہشت گرد گروہ کے نفوذ پیدا کرنے کے سلسلے میں، افغان حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے - داعش گروہ کہ جس کی بیشتر سرگرمیاں مشرقی افغانستان اور صوبہ ننگرہار میں مرکوز ہے، کابل میں دہشت گردانہ کاروائی کرکے حکومت افغانستان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ داعشی خود کو مشرقی علاقوں میں ہی محدود نہیں رکھیں گے بلکہ کابل تک ان کی رسائی ہے- داعش گروہ کابل تک اپنا دائرہ وسیع کرکے اب  طالبان کی طرح  خود کو بھی افغان حکومت کے لئے ایک خطرہ ظاہر کرنا چاہتا ہے-

چند ماہ قبل افغانستان کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ظاہر قدیر نے داعش دہشت گرد گروہ کے ساتھ کابل میں بعض سفارتخانوں کے رابطے کے بارے میں ثبوت و شواہد موجود ہونے کی اطلاع دی تھی اور اب کابل میں افغانستان کی سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے داعش کے اس دھماکے سے، افغان حکومت کی سیکورٹی کا جائزہ لیا جانا ایک ضروری امر ہوگیا ہے- یہ بھی کہا جارہا ہے کہ افغانستان میں داعش کا اثرو رسوخ بعض علاقائی اور غیر علاقائی ملکوں کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے کیوں کہ اگرچہ طالبان سے جدا ہونے والے بعض عناصر داعش میں شامل ہوگئے ہیں لیکن طالبان گروہ، داعش کے کسی بھی طرح کے اقتدار حاصل کرنے یا ان کے حریف میں تبدیل ہونے کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں داعش کا اثر و رسوخ  اور شہر کابل میں اس کا پہلا دہشت گردانہ حملہ بعض ملکوں کی حمایت کے بغیر انجام نہیں پا سکتا-