ترکی علاقے میں اپنی پالیسیوں کو ناکامی سے روکنے کا درپے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i271205-ترکی_علاقے_میں_اپنی_پالیسیوں_کو_ناکامی_سے_روکنے_کا_درپے
ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے دفاع نے بدھ کے روز ریاض میں گفتگو کی ہے-اس گفتگو کے دوران، علاقے میں ترکی کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں بھی تبادلۂ خیال ہوا-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۹ Asia/Tehran
  •  ترکی علاقے میں اپنی پالیسیوں کو ناکامی سے روکنے کا درپے

ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے دفاع نے بدھ کے روز ریاض میں گفتگو کی ہے-اس گفتگو کے دوران، علاقے میں ترکی کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں بھی تبادلۂ خیال ہوا-

اس ملاقات کے موقع پر ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ شام میں نام نہاد امن کے علاقے قائم کئے جانے کے بارے میں پینتالیس منٹ تک  ٹیلیفونی گفتگو کی اور کہا جا رہا ہے کہ فریقین نے شام کے علاقوں، رقہ اور الباب میں فوجی تعاون کے بارے میں اتفاق کیا ہے- سیاسی حلقوں کے نقطہ نگاہ سے علاقے میں ترک حکام کے تبادلۂ خیالات ، علاقے خاص طور پر شام اور عراق میں ان کی سیاسی اور فوجی میدانوں میں شکست خوردہ پالیسیوں کو بچانے کی نئی کوشش ہے- شام میں ترکی کے فوجی اقدامات ، اس کے خاص سیاسی اور فوجی اہداف کے حامل ہیں- ترکی کے لئے شہر الباب ، شہر حلب میں داخل ہونے کا اسٹریٹیجک راستہ ہے - الباب پر ترکی کا قبضہ ، عفرین علاقے سے مشرقی فرات کے علاقوں کو متصل کرنے کی کردوں کی کوششوں کو ناکام بنا دے گا - شام میں فوجی اقدامات سے ترکی کا ایک اہم مقصد بھی کردوں کو ترکی کی جنوبی سرحدوں سے دور کرنا ہے لیکن ابھی تک ترکی اپنے اس ہدف کے حصول میں ناکام رہا ہے کیوں کہ انقرہ اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتا کہ کردستان ورکرز پارٹی کے سناریو کو، شام کے ساتھ ملحقہ ترکی کی سرحدوں پر دوبارہ دوہرایا جائے- - یہ بات واضح ہے کہ ترکی شام میں اپنی روز افزوں مداخلت اور پے در پے ناکامیوں کے باوجود ، خود کو ان ناکامیوں سے بچانے کی کوئی تدبیر نہیں کرسکا ہے اور بدستور شام کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے- 

ترکی کے صدر رحب طیب اردوغان بارہا کہہ چکے ہیں کہ شام میں ترک فوج کی موجودگی کا مقصد بشار اسد کی حکومت کا تختہ پلٹنا ہے- ترکی نے اسی مقصد سے شمالی شام میں اگست مہینے سے اپنی کاروائیوں کا آغاز کیا- ان اقدامات سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام کے خلاف ترکی کی جارحیت کا مقصد، علاقے میں بحران پیدا کرنا ہے ، اگر چہ ترکی خود بھی دہشت گرد گروہوں کے اڈے میں تبدیل ہوگیا ہے- ترکی کی پالیسیاں اس بات کی غماز ہیں کہ یہ ملک شام میں دہشت گردی سے مقابلے کا درپے نہیں ہے- ترکی کے حکام کے بیانات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کا جواب دہ ہونے سے فرار کا ایک طریقہ سمجھا جاسکتا ہے کہ جو یہ پوچھتے ہیں کہ شام اور عراق میں ترکی کی کئی سالہ مداخلت کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟

شام میں امن کا علاقہ قائم کرنے کے اردوغان کے اقدام کو بھی، کہ جسے اقوام متحدہ نے مسترد کردیا ہے، حلب میں گھرے ہوئے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کا اقدام قراردیا جاسکتا ہے- بہر صورت ترک حکام کی غیر محتاط اور غلط پالیسیاں اس بات کا باعث بنی ہیں کہ ترکی گذشتہ چند مہینوں کے دوران بدامنی کے باعث  بدترین حالات سے دوچار رہا ہے- انقرہ نے شام کے سلسلے میں اپنی پالیسیاں روس اور ایران سے قریب کرنے کے ساتھ ہی، قزاقستان کے آستانہ اجلاس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ سیاسی طرز عمل اختیار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن یہ بات علاقے میں امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے مشترکہ اہداف سے دور ہونے کے مترادف ہے- مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ترکی کی کوششیں علاقے میں خود کو مکمل ناکامی سے دوچار ہونے سے روکنے کے لئے ہیں- البتہ سعودی عرب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ علاقے میں ترکی کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کوئی مدد کرسکے خاص طور پر ایسے میں جبکہ ریاض خود بھی علاقے میں بحران پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، یہ مسئلہ ترکی کو مزید  مشکلات کے دلدل میں دھنسا دے گا-