اسلامی انقلاب کی 38 ویں سالگرہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i271319-اسلامی_انقلاب_کی_38_ویں_سالگرہ
آج اسلامی انقلاب کی 38 ویں سالگرہ ہے۔ 38 سال گزرجانے کے بعد بھی عالمی پیمانے پر صاحبان فکر و قلم کے لئے اس عظیم انقلاب کے بہت سے پہلو خصوصی توجہ و دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۵:۱۳ Asia/Tehran
  • اسلامی انقلاب کی 38 ویں سالگرہ

آج اسلامی انقلاب کی 38 ویں سالگرہ ہے۔ 38 سال گزرجانے کے بعد بھی عالمی پیمانے پر صاحبان فکر و قلم کے لئے اس عظیم انقلاب کے بہت سے پہلو خصوصی توجہ و دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

اس عظیم تحریک  نے اپنے انقلابی اور انصاف پسندانہ افکار کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ عملی طور پر ہر طرح کی تسلط پسندی کو مسترد کیا ہے اور ظالم طاقتوں کا مقابلہ کرکے تسلط پسند نظام کے سیاسی توازن کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔

اس تحریک کے آغاز میں ملت ایران نے آزاد و خود مختار رہنے اور ترقی کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ تسلط پسند طاقتوں کے مفادات کے ساتھ سازگار نہیں تھا۔ اس انقلابی تحریک کے افکار نے ایرانی سرحدوں کو عبور کرلیا اور یہ تحریک عالمی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کے ایک نمونے میں تبدیل ہوگئی نیز اس کے اثرات بدستور جاری و ساری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس انقلاب اور اس کے آفاقی پیغام کو بے اثر کرنے کے لئے دشمنوں کی سازشیں روز بروز پیچیدہ تر اور سافٹ وار کے میدان میں داخل ہوچکی ہیں۔

واضح سی بات ہے کہ ملت ایران جب تک دشمنوں کی تسلط پسندی اور توسیع پسندی کے سامنے ڈٹی رہے گی یہ مقابلہ بھی جاری رہے گا۔ البتہ اس سلسلے میں بڑے بڑے مسائل اور مشکلات بھی درپیش ہیں جن کا سلسلہ اقتصادی مسائل سے لے کر فوجی دھمکیوں تک جاری ہے۔ اس میدان میں مزاحمت سخت اور پیچیدہ ہے اور طاقت و پختہ ایمان کی متقاضی ہے۔ اس مزاحمت اور جد و جہد میں کامیابی کے لئے اتحاد و طاقت کا تحفظ ضروری ہے۔ دشمنوں نے برسوں سے اسلامی نظام کے خلاف وسیع اور پیچیدہ میڈیا وار شروع کر رکھی ہے جس کا اصل ہدف اسلامی جمہوریہ کی مضبوط و قوی چیزوں کو پوشیدہ کرکے لوگوں اور نوجوانوں میں ناامیدی اور مایوسی پیدا کرنے کے لئے منفی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے۔ اس دشمنی نے اسلامی نظام کی شناخت اور تشخص کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ لامتناہی سلسلے والی یہ دشمنی امریکی حکام  کے مواقف اور بیانات میں ہمیشہ واضح طور پر دکھائی دی ہے جو ایران سے امریکہ کی گہری کینہ توزی کی غماز ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق ان اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ کی ذات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور ایران سے امریکی رویہ کے سلسلے میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے افراد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے تقریبا˝ چار عشرے کے دوران امریکہ کی طرف سے مشکلات کھڑی کئے جانے اور اس کی تمام تر دشمنی کے باوجود اپنے اہداف و مقاصد سے دوری اختیار نہیں کی ہے نیز ملت ایران اتحاد و یکجہتی کے ساتھ انقلابی اہداف کی راہ پر گامزن ہے۔ ایران کا اسلامی نظام مسلط کردہ جنگ سے لیکر ظالمانہ اقتصادی پابندیوں تک کے وسیع دباؤ اور سازشوں کے باوجود مستحکم اور مؤثر انقلاب کی حیثیت سے مقام بنانے اور اپنی راہ پر گامزن رہنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تسلط پسند طاقتوں کے مقابل ملت ایران کی مزاحمت محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ اسلامی انقلاب نے دنیا کے عظیم ترین عوامی انقلاب کی حیثیت سے عظیم توانائیاں پیدا کی ہیں اور عزم و ارادے اور اطمینان کے ساتھ اپنے اہداف کی طرف گامزن رہنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

جو لوگ اس انقلاب کے افکار سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ انقلاب کی سالگرہ پر نکلنے والی ریلیوں میں عوام کی شرکت اسلامی انقلاب کے اہداف و مقاصد کے ساتھ تجدید عہد کے مترادف اور  سازشوں اور دشمنیوں کے مقابل ملت ایران کی ثابت قدمی کی علامت ہے۔ آج کی ریلیوں میں بھی عوام  کی بھرپور اور وسیع شرکت تسلط پسند طاقتوں کے مقابل مزاحمت پر ایک بار پھر تاکید اور وائٹ ہاؤس کی دھونس اور دھمکیوں کا بھرپور جواب ہے۔ یہ وہی حقیقت ہے جو آج ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی غصہ اور برہمی کا سبب بنی ہے۔