ترکی کی مداخلت کے بارے میں عراق کے صدر کا موقف
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i271547-ترکی_کی_مداخلت_کے_بارے_میں_عراق_کے_صدر_کا_موقف
عراق کے صدر فواد معصوم نے اپنے ملک اور خطے کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ عراق میں ترکی کے اقدامات جارحیت ہیں۔ فواد معصوم نے اس کے ساتھ ساتھ عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر عراق میں عوامی رضاکار فورس نہ ہوتی تو دہشت گرد گروہ داعش کربلا سمیت عراقی سرزمین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیتا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۲:۰۴ Asia/Tehran
  • ترکی کی مداخلت کے بارے میں عراق کے صدر کا موقف

عراق کے صدر فواد معصوم نے اپنے ملک اور خطے کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ عراق میں ترکی کے اقدامات جارحیت ہیں۔ فواد معصوم نے اس کے ساتھ ساتھ عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر عراق میں عوامی رضاکار فورس نہ ہوتی تو دہشت گرد گروہ داعش کربلا سمیت عراقی سرزمین کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیتا۔

عراق کے صدر نے ملک کی موجودہ صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی کے اقدام کو جارحیت اور اپنے ملک کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ ترکی کی جارحیت کے خلاف عراقی حکام کے رد عمل اور عراق کی عوامی رضاکار فورس کی دوٹوک حمایت سےاس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عراقی عوام اور حکام اپنے ملک کے اقتدار اعلی کے منافی اور اس ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنے والے ہر طرح کے اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور اس سلسلے میں اپنے مواقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عراق سمیت خطے میں ترکی کی مہم جوئی کا سبب اس ملک کا داخلی بحران اور مسائل ہیں۔ ترک حکام خطے کے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کے ذریعے رائے عامہ کی توجہ اپنے داخلی مسائل سے ہٹانا، رائے عامہ کی توجہ بیرونی مسائل کی جانب مبذول کرانا اور خطے میں انقرہ کی غیر معقول پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔

ترکی نے سنہ 2015  کےآخری دنوں سے اپنے سیکڑوں فوجی غیر قانونی طور پر عراق کے صوبہ نینوا کےصدر مقام موصل کے فوجی اڈے بعشیقہ میں کرد پیشمرگہ فورس کی تربیت اور دہشت گردوں کے مقابلے کے بہانے سے تعینات کر رکھے ہیں۔ ترکی ایسی حالت میں اپنے ہمسایہ ملک یعنی عراق کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی کر رہا ہے کہ جب اس نے عراق میں فوجی موجودگی کے لئے اس ملک کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں اور عراقی حکام اس بات پر بھی تاکید کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی ترکی سے اپنے فوجی عراق بھیجنے کی درخواست نہیں کی ۔ ترکی کی حکومت کی جانب سے عراق اور شام میں سیف زون قائم کئے جانے جیسے عوام کو دھوکہ دینے والے حربوں اور کردوں کے مسائل کے بہانے ان دونوں ملکوں میں کئے جانے والے فوجی اقدامات اور اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ترکی خطے میں مداخلت کر رہا ہے۔

دوسری جانب عراق کے حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ الحشد الشعبی سے فائدہ نہ اٹھانے سے متعلق غیر ملکی خصوصا سعودی عرب اور امریکہ کے دباؤ کے باوجود عراقی حکومت الحشد الشعبی کی عظیم صلاحیتوں سےفائدہ اٹھانے کے سلسلے میں پرعزم ہے۔ کچھ عرصہ قبل عراق کی پارلیمنٹ نے الحشد الشعبی کو فوج میں شامل کرنے کا بل منظور کیا تھا جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عراقی عوام کے مختلف طبقات میں الحشد الشعبی کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ عراقی حکومت نے جون سنہ 2014 میں الحشد الشعبی سمیت عراق کی مختلف فورسز پر بھروسہ کرتے ہوئے دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ شروع کیا۔ ان حالات میں ملکی اور غیر ملکی مخالفین نے اختلافات ڈالنے پر مبنی سازشیں تیار کر کے عوامی رضاکار فورس کو شیعہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ جن غیر شیعہ خصوصا سنّی آبادی والے علاقوں کو آزاد کرایا گیا ہے ان علاقوں کے لوگوں پر عوامی رضاکار فورس نے مظالم ڈھائے ہیں۔ حالانکہ عراق کی عوامی رضاکار فورس میں سیکڑوں سنی بھی موجود ہیں۔ مخالفین ایسی حالت میں الحشد الشعبی پر فرقہ واریت کا الزام عائد کرتے ہیں کہ جب دہشت گردگروہ داعش کا زیادہ تر مقابلہ عراق کے سنی آبادی والے علاقوں میں کیا گیا ہے اور ان علاقوں کو دہشتگردی کے چنگل سے آزاد کرائے جانے کے لئے زیادہ کوششیں کی گئی ہیں۔ ان حالات میں عراق کی حکومت اور عوام نے اپنے ملک کے دشمنوں کی سازشوں سے آگاہی حاصل کر کے ہمیشہ اغیار کے دباؤ اور ان کے بے بنیاد الزامات کے مقابلے میں الحشد الشعبی اور دفاعی میدان میں ان کے کردار کو سراہا ہے اور عراق کے صدر کے بیانات کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہئے۔