امریکہ میں ایک اور واٹر گیٹ کا امکان
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i271798-امریکہ_میں_ایک_اور_واٹر_گیٹ_کا_امکان
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلین نے غیر متوقع طور پر اپنے عھدے سے استعفی دیدیا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کے تسلیم کرنے کے بعد، کہ انہوں نے وائٹ ہاوس کے اعلی حکام منجملہ امریکہ کے نائب صدر مایک پنس کو گمراہ کیا تھا، امریکہ کے اہم ترین سکیورٹی عھدے سے استعفی دیدیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۰:۳۴ Asia/Tehran
  • امریکہ میں ایک اور واٹر گیٹ کا  امکان

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلین نے غیر متوقع طور پر اپنے عھدے سے استعفی دیدیا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کے تسلیم کرنے کے بعد، کہ انہوں نے وائٹ ہاوس کے اعلی حکام منجملہ امریکہ کے نائب صدر مایک پنس کو گمراہ کیا تھا، امریکہ کے اہم ترین سکیورٹی عھدے سے استعفی دیدیا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکہ کی انٹلیجنس سروسز کو امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر مایکل فلین کی روسی سفیر کے ساتھ ٹیلفونی گفتگو کا پتہ چلا تھا۔ مایکل فلین نے اس دن روسی سفیر سے بات کی تھی جس دن امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت اور سائبرحملوں کی خبر سننے کے بعد روس پر  پابندیاں بڑھا دی تھیں۔اسی موقع پر مایکل فلین نے واشنگٹن میں روسی سفیر سرگئی کیسلیاک کو اطمینان دلایا تھا کہ اوباما کے زمانے میں روس پر لگائی گئی پابندیاں ٹرمپ کے زمانے میں ہٹا دی جائیں گی۔ امریکہ کے منتخب صدر کے اعلی ترین سکیورٹی عھدیدار کی جانب سے اس طرح سے اظہار نظر کیا جانا اور وہ بھی روس کے بارے میں امریکہ کی مرکزی حکومت کے قوانین کےخلاف ہے اور امریکی قومی سلامتی کے توڑنے سے مترادف ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ امریکہ کی وزارت قانون نےچند ہفتے قبل خبردار کیا تھا کہ ممکن ہے مایکل فلین پر روس نے تعاون کے لئے دباؤ ڈالا ہوگا۔

بہرحال اب جبکہ ٹرمپ کی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے ایک ماہ سے کم کا عرصہ ہوا ہے انہوں  نے ایک غیر دوست حکومت کے ساتھ پس پردہ تعاون کرنے اورجاسوسی سے شباہت رکھنے والے اقدام کے الزام میں اپنا اہم ترین سکیورٹی معاون کھودیا ہے۔ یہ واقعہ ٹرمپ کی حکومت پر سکیورٹی  لحاظ سے کاری ضرب ہے اور اس سے ان کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ٹرمپ پر کئی مہینوں سے یہ الزامات لگائے جارہے تھے کہ وہ روس کے ہمنوا بن چکے ہیں یہانتک کہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی مد مقابل  ہلیری  کلنٹن نے ٹرمپ پر کرملین کے اشاروں پر ناچنے کا  باضابطہ طور پر الزام بھی لگایا تھالیکن ان الزامات کی بعد میں پیروی نہیں کی گئی اور اب جب جبکہ روس کے ساتھ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کا خفیہ رابطہ ثابت ہوچکا ہے تو امریکی صدر ایک بار پھر الزامات کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔واضح رہے امریکی صدر نے کئی مہینوں پہلے سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ اورروس کےکشیدہ تعلقات میں بہتری لائیں گے۔ البتہ مایکل فلین کا استعفی یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس کا مخالف دھڑا امریکی حکام اور سیاست دانوں میں اس قدر طاقتور اور اثر و نفوذ کا حامل ہے کہ اس نے امریکہ کی نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے ایک مہینے کے اندر اندر امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی کواستعفی دینے پر مجبور کردیا یہی نہیں بلکہ روس کے جزیرہ کریمہ کے الحاق کے تعلق سے ٹرمپ کو اپنا پہلے والا موقف بدلنے پر بھی مجبور کیا ہے۔انتخاباتی سرگرمیوں کے دوران ٹرمپ نے اشارے کنائے میں کریمہ کے الحاق کو تسلیم کرلیا تھا لیکن وائٹ ہاوس میں آنے کےبعد انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک روس کریمہ میں باقی ہے اوباما حکومت کی جانب سے روس پر لگائی گئی پابندیاں جاری رہیں گی۔ روس پر امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی یونین کی پابندیوں کے جاری رہنے سے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیاں کسی بھی طرح کی آشتی کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں ۔ اس درمیان امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے استعفی کے نتیجے میں موجودہ حکومت کی خارجہ اور سکیورٹی  پالیسیوں میں بوکھلاہٹ اور ابھامات اس استعفی اور رسوائی کے دیگر نتائج میں سے ہونگے۔اسی کے ساتھ ساتھ مایکل فلین کا استعفی داخلی سطح پر امریکہ پر کافی اثرات کا حامل ہوگا۔ ایسا نہیں لگتا کہ دونوں  پارٹیوں میں ٹرمپ کے سیاسی رقباء روس کے سائبر حملوں کے متنازعہ موضوع سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ۔ اس وقت امریکہ کی دونوں پارٹیاں اس سلسلے میں کانگریس کے توسط سے تحقیقات انجام دے رہی ہیں۔ اس ضمن میں تحقیقات سے شاید دیگر امریکی حکام کے نام بھی سامنے آجائیں اور انہیں بھی فلین کی طرح استعفی دینا پڑے اور اگر تحقیقات میں صدر ٹرمپ کا نام بھی لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا راستہ بھی ہموار ہوجائے۔اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ واٹر گیٹ کی رسوائی میں اس وقت کے صدر ریچرڈ نیکسن کو استعفی دینا پڑا تھا اور یہ سلسلہ وائٹ ہاوس کے بعض حکام کے خفیہ اقدامات کی تحقیقات سے شروع ہوا تھا۔ یہ امر کہ روس سے مایکل فلین کے خفیہ مذاکرات امریکہ میں ایک اور واٹر گیٹ کو جنم دیں گے وقت گذرنے  اور اس متنازعہ کھیل کے مزید پہلووں کے سامنے آنے سے واضح ہوگا۔