طالبان اور روس کے تعلقات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i271820-طالبان_اور_روس_کے_تعلقات
طالبان کے زمانے میں اس گروہ کے وزیر قانون اکبرآغانے گذشتہ تین برسوں میں طالبان اور روس کے تعلقات سے پردہ اٹھایا ہے اورکہا ہےکہ  طالبان، امریکہ کو افغانستان سے نکالنے کے لئے روس سے تعلقات قائم کرنےکے درپئے ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۳:۱۱ Asia/Tehran
  •  طالبان اور روس کے تعلقات

طالبان کے زمانے میں اس گروہ کے وزیر قانون اکبرآغانے گذشتہ تین برسوں میں طالبان اور روس کے تعلقات سے پردہ اٹھایا ہے اورکہا ہےکہ  طالبان، امریکہ کو افغانستان سے نکالنے کے لئے روس سے تعلقات قائم کرنےکے درپئے ہے۔

     

طالبان کے زمانے میں اس گروہ کے وزیر قانون اکبرآغانے گذشتہ تین برسوں میں طالبان اور روس کے تعلقات سے پردہ اٹھایا ہے اورکہا ہےکہ  طالبان، امریکہ کو افغانستان سے نکالنے کے لئے روس سے تعلقات قائم کرنےکے درپئے ہے۔

محمد اکبر آغا نے روس کے ایک اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ  طالبان علاقے میں امریکہ کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے روس سے سیاسی تعلقات چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے گذشتہ تین برسوں میں بارہا روس سے یہ تقاضہ کیا ہے کہ وہ  قطر میں طالبان کے دفتر میں اس کے نمائندوں سے ملاقات کرے۔ اکبرآغا نے دعوی کیا ہے کہ روس کی جانب سے طالبان کی حمایت کے بدلے میں روس طالبان سے چاہتا ہے کہ روس کی سرحدوں پر امن قائم رکھاجائے۔

طالبان کی سابق حکومت کے اس سابق عھدیدار کے بیان سے جنہیں روس کے ساتھ تعلقات کے بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے والا کہا جارہا ہے، افغانستان اور امریکہ کی حکومت کے ساتھ روس کے مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اکبر آغاکا یہ دعوی ایک مہینہ قبل ماسکو میں افغانستان کے امن اجلاس کےبعد سامنے آیا ہے جس میں کابل حکومت کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی جس کے بعد کابل نے ماسکو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ کابل حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کے عمل کے مذاکرات میں اسکی قائدانہ پوزیشن پر توجہ کئےبغیر مداخلت کرنا افغانستان کے قومی اقتدار اعلی کو کمزور بنانے اور علاقائی اور غیر علاقائی فریقوں کے افغانستان میں مداخلت کا سبب بنے گا۔ طالبان اور روس کے تعلقات  کا اعتراف  اس سے قبل کابل میں روس کے سفیر نے کیا تھا، انہوں نے یہ  اعتراف افغان پارلیمنٹ کے نمائندوں سے خطاب میں کیا تھا۔

طالبان کے سابق وزیر قانون کے بیان میں جو اہم بات ہے یہ ہے کہ انہوں نے طالبان اور روس کے مجوزہ تعاون کی صورت میں روس کے اسٹراٹیجیک ھدف کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ روس کی سرحدوں پر امن قائم رکھنا ہے، اس بات سے کابل اور روس کے درمیان بالخصوص کابل میں افغان اجلاس کے بعد بے اعتمادی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

طالبان کے سابق وزیر قانون کے بیان سے پہلے روس یہ کوشش کررہا تھا کہ اپنی سرحدوں پر امن قائم رکھنے کے  اسٹراٹیجیک اھداف کو افغانستان میں امن قائم کرنے اور کابل و طالبان کے مذاکرات کو زندہ کرنے کے پیرائے میں حاصل کرسکے۔

اکبر آغا کا بیان روس اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنے کےساتھ ساتھ واشنگٹن ۔ماسکو کے تعلقات پر بھی منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ ممکن ہے امریکہ کو یہ تاثر ملے کہ روس افغانستان میں طالبان کو امریکہ کے خلاف مضبوط بنا رہا ہے۔ان حالات سے واضح ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں افغانستان میں مداخلت کرکے دہشتگردی اور تشدد کو کنٹرول کرنے کے بجائے اپنے اھداف اور مفادات حاصل کرنے کی فکر میں ہیں۔