اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر یمن کا دورہ کریں: یمنی وزیر خارجہ
یمن کی قومی حکومت کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے حالات کا نزدیک سے معائنہ کرنے کے لئے یمن کا دورہ کریں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کے حالات کی تحقیقات کرنے کےلئے ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
ہشام شرف عبداللہ نے کہا ہےکہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے نشر کی گئی رپورٹ میں یمن کے شہر مخا میں گذشتہ دو ہفتے کے واقعات کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ واضح رہے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں نے اس شہر میں نہایت انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ یمن کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بہتر ہوگا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشنرر برائے انسانی حقوق سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کے جنگی طیاروں کی بمباریوں پر نظر رکھے جو کہ روزانہ تین سو مرتبہ یمن کے مختلف اداروں پر بمباری کرتے ہیں اور برطانیہ، امریکہ اور کینڈا کے دئے ہوئے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات پر دنیا نے خاموشی اختیار کررکھی ہے اور کسی طرح کا رد عمل نہیں دکھاتی۔
یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے آغاز سے اب تک یمن کے حکام اور عوام نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ہاتھوں یمن میں انسانی حقوق کی پامالی کا قریب سے معائنہ کرنے کےلئے یمن کا دورہ کریں لیکن انہوں نے اب تک یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں یمن میں آل سعود کے جرائم کے بارے میں ملنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی رائے عامہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یمن کے نہتے عوام پر کلسٹر اور فاسفورس بموں کی بارش کے بھیانک نتائج سے آگاہ ہوچکی ہے۔ جو چیز آل سعود اور ا سکے اتحادیوں کے جرائم کے جاری رہنے کا سبب بنی ہے وہ سعودی عرب کے جرائم سے اقوام متحدہ کی بے اعتنائی ہے۔ مثال کے طور پر اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل بان کی مون نے بچوں کی قاتل حکومتوں کی فہرست سے سعودی عرب کا نام نکال کر اس حکومت کو جرائم جاری رکھنے پر مزید گستاخ کردیاتھا۔ اقوام متحدہ کا اس طرح کا کمزور موقف ظاہر کرتا ہےکہ اقوام متحدہ کس حد تک مغربی حکومتوں اور عرب حکام کے پٹرو ڈالرز سے متاثر ہے۔ یہاں پر اہم نکتہ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے یہ ہے کہ یمن میں سعودی عرب کے وسیع جرائم کو جو عالمی عدالت انصاف کے مطابق انسانیت سوز، امن و صلح کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا مصداق ہیں لیکن سعودی عرب بڑی طاقتوں کی حمایت سے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن بن چکا ہے اور عبوری طور پر اس ادارے کے ماہرین کی کمیٹی کا بھی سربراہ بنادیاجاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ذمہ داری دنیا میں امن و صلح کا تحفظ کرنا ہے لیکن وہ یمن کے عوام کی حمایت کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے سعودی عرب کی لابی کے تحت اپنا موقف تبدیل کرکے آل سعود کےجرائم اور جارحیت کو نظر انداز کردیا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر مسلح تنازعات میں ایک اہم فریق اقوام متحدہ اور اسکے ذیلی ادارے بھی ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے سہارے عالمی سطح پر مسلحانہ جھڑپوں کو حل کرانے کی کوشش کرے۔اقوام متحدہ کے بعض ذیلی ادارے جیسے بچوں، آوارہ وطنوں خواتین اور جنگ سے متاثر افراد کو امداد پہنچانے،حقائق کی اطلاع حاصل کرنے نیز انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں رپورٹیں تیار کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ لیکن ان اداروں نے یمنی عوام کو امداد پہونچانے اور آل سعود کے جرائم سے پردہ اٹھانے میں اپنی ذمہ داریوں پرعمل کرنےمیں کوتاہی کی ہے۔ اقوام متحدہ نے یمن کے بارے میں جو واحد اقدام انجام دیا ہے وہ اس کے نمائندے اسماعیل ولد شیخ کی نگرانی میں ہونے والے بے نتیجے اور بے اثر مذاکرات ہیں۔ یہ کوششیں بھی ان کی نیت میں کھوٹ ہونے اور آل سعود کی خلاف ورزیوں کی بنا پر ناکام رہی ہیں۔ آل سعود نے اقوام متحدہ کے کمزور موقف سے آگہی کی بنا پر اور آل سعود کے جرائم سے سختی سے پیش آنے کے عزم کے فقدان کی بنا پر آسودہ خاطر ہوکر اپنے جرائم جاری رکھے ہیں۔