عراق کو اتحاد کی ضرورت ہے۔
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے بغداد میں مقتدی صدر کے حامیوں کے مظاہروں کے نتیجے میں ہونے والی حالیہ بدامنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو داخلی جنگ کی سمت نہیں لے جانا چاہیے۔
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے بغداد میں مقتدی صدر کے حامیوں کے مظاہروں کے نتیجے میں ہونے والی حالیہ بدامنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو داخلی جنگ کی سمت نہیں لے جانا چاہیے۔
عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے منگل کو بغداد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ عراق کا بنیادی ھدف دہشتگردی سے مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ تخریبکاروں کو گرفتار کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اشتعال پھیلانے والے عناصر نے مظاہرین کو سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کا اشتعال دیا تھا۔ واضح رہے سنیچر کو مقتدی صدر کے حامیوں نے بغداد کے گرین زون میں مظاہرے کرکے انتخابات کے قانون میں اصلاحات کی مانگ کی تھی عراق میں روان برس کے مہینے ستمبر میں مقامی انتخابات ہونے والے ہیں۔ عراقی خبری ذرایع کے مطابق ہفتے کے مظاہرے میں آٹھ افراد جاں بحق اور ساڑھے تین سو زخمی ہوئے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
اس بات سے قطع نظر کہ اس گروہ نے سنیچر کو مظاہروں میں شرکت کی تھی یہ مظاہرے عراقی معاشرے کے زندہ ہونے کا ثبوت ہیں۔جدید عراق کی جہموریت پر بنیاد رکھی گئی ہے اور عراق نےدوہزار تین میں خونخوار ڈکٹیٹر صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد گورنمنٹ اور نیشن کی تعمیر کی سمت قدم اٹھایا ہے۔ جمہوری حکومتوں کی خصوصیت سیاسی میدان میں عوام کی بھرپور شراکت اور انتخابات سمیت دیگر اہم مسائل میں ان کی رائے کا لیا جانا ہے۔ عوام کی سیاسی طاقت اس وقت عروج پر پہنچتی ہے جب وہ آزاد انتخابات میں شرکت کرکے اھل افراد کو ملک کے مختلف شعبوں کے چلانے کے لئے چنتے ہیں۔ اس لحاظ سے عراق کے بلدیہ کے انتخابات خاص اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ہر علاقے کے امور مقامی افراد کے ہاتھوں میں آجاتےہیں جن کا انتخاب عوام کرتے ہیں۔ انتخابات سے پہلے ایسا مکینیزم موجود ہے جس سے انتخابات میں حصہ لینے والوں کی اہلیت ثابت ہوتی ہے، عوام کا مطالبہ ہے کہ یہ مکینیزم شفاف ہو۔ عراق میں کرپشن سے مقابلہ محض اقتصادی امور میں ہی محدود نہیں ہے بلکہ سیاسی امور میں بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، گذشتہ سنیچر کو مقتدی صدر کے حامیوں کے مظاہرے اسی تناظر میں انجام پائے تھے۔ بغداد کے گرین زون میں جو کچھ ہوا ہے اگرچہ اسے عراق میں سیاسی بالیدگی کا نام دیا جاسکتا ہے لیکن حاشیے سے جنم لینے والے واقعات کو اصل واقعات پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان سے عراق کے قومی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔البتہ عراق اسی طرح سے دھیرے دھیرے سیاسی تجربے حاصل کرے گا اور اس راہ میں عوام اور سیاسی دھڑوں کی ہوشیاری ضروری ہے تا کہ سیاسی لحاظ سے عراق کی ترقی کی ضمانت دی جاسکے۔ عراقی وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ ملک کو داخلی جنگ کی سمت نہیں لےجانا چاہیے اسی تناظر میں قابل غور ہے۔ عراق چونکہ متعدد قوموں پر مشتمل ہے لھذا اسے تمام میدانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے ورنہ اس کے دشمن عوام کے ہر اقدام سے غلط فائدہ اٹھا کر اسے داخلی جھڑپوں میں تبدیل کرسکتے ہیں۔
موصل اور دیگر علاقوں میں داعشی دہشتگردی کے خلاف عراق کی کامیابی عوام اور مختلف سیاسی گروہوں کی حمایت پر منحصر ہے اور اس سے عراق میں مثالی اتحاد قائم ہوا ہے۔ اسی سے عراق کے نئے جمہوری معاشرے کو استحکام حاصل ہوگا اور یہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ عوام کا کردار صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔