صدر روحانی کا مختصر دورہ عمان و کویت
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے گذشتہ روز عمان اور کویت کا مختصر دورہ کیا جس سے ایک بار پھر ایران کے ساتھ خلیج فارس کے عرب ہمسایہ ملکوں کے تعلقات سیاسی حلقوں کی توجہ کا باعث بن گئے ہیں۔
صدر جناب حسن روحانی نے ان دوروں کا آغاز مسقط سے کیا اور ایران اور اسلامی ملکوں کے تعلقات میں توسیع لائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔ اس کے بعد انہوں نے کویت کا بھی دورہ کیا۔ صدر ایران اور کویت کے امیر نے علاقے کے ملکوں میں امن و سلامتی کے قیام اور ترقی وپیشرفت کی غرض سے علاقے کے ملکوں کے درمیان ہم فکری، باہمی تعاون اور ہماہنگی پر تاکید کی۔ صدر جناب حسن روحانی کا دورہ ، کویت کے دورے سے اختتام پذیر ہوا۔ کویت کےامیر نے صدر جناب حسن روحانی سے ملاقات میں ان کے دورہ کویت اور ان کے اتحاد آفرین نظریات اور موقف پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کےحالات ہم سب سے یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات رکھیں لھذا ہم تہران کے ساتھ تمام میدانوں میں اپنے تعلقات بڑھانے کے لئے آمادہ ہیں۔ صدر جناب حسن روحانی نے اس ملاقات میں علاقے کے حالات بالخصوص علاقے کو لاحق دہشتگردی کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی بڑی مشکلات جیسے دہشتگردی ایک بڑا اور ہمہ گیر خطرہ ہے اور اس سے مقابلہ کرنے کی واحد راہ اس کے مقابلے میں علاقے کے تمام ملکوں اور پڑوسی ملکوں کا ایک ساتھ ڈٹ جانا ہے۔
یہ بیانات دراصل صیہونی حکومت اور علاقے کے بعض ملکوں کے ہمہ گیر پروپگینڈے کا جواب ہیں کہ جن کا مقصد اسلامی ملکوں کے درمیان بحران کھڑا کرنا اور اختلافات پھیلانا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر روحانی کا دورہ عمان و کویت اس نقطہ نگاہ سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ علاقائی ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات دوبارہ زندہ ہونے چاہیں۔ علاقے کے ملکوں کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں ایران کی طویل مدت پالیسی متوازن ، باہمی احترام اور تعاون نیز باہمی اتحاد پر مبنی تعلقات قائم کرنے پر استوار ہے۔ ایران کے ساتھ مختلف میدانوں میں عمان اور کویت کے تعلقات قائم کرنے کی توانائیاں پائی جاتی ہیں۔ ان توانائیوں کو دوطرفہ مفادات اور علاقائی مفادات کی راہ میں فعال کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر روحانی نے گرچہ عمان و کویت کا دورہ اپنی میعاد صدارت کے آخری مہینوں میں انجام دیا ہے لیکن یہ اپنی نوعیت میں اور ایران کے ساتھ خلیج فارس تعاون کرنسل کے پرنشیب و فراز تعلقات کے پیش نظر ایک نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔ صدر روحانی کے دورہ مسقط و کویت میں جس چیز پر تاکید کی گئی وہ دراصل ایک مشترکہ قدر ہے اور وہ یہ کہ علاقے میں اسلامی ملکوں کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں نیز ان کی معیشتیں تباہ نہیں ہونی چاہئیں اور ان کے سرمائے کی تباہی اور علاقے میں بے سود جنگوں میں بے گناہ ا نسانوں کے عام کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ شیخ الصباح کی تعبیر میں تمام ملکوں کو ترقی و استحکام اور امن و سلامتی کی راہ میں قدم اٹھانا چاہیے۔
بلاشک ان دوروں میں جو بات چیت ہوئی ہے وہ خلیج فارس کے تمام ملکوں کے لئے تعلقات میں توسیع لانے، تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ طور پر سیکورٹی فراہم کئے جانے نیز متحدہ طور پر دہشتگردی، انتہا پسندی اور تشدد کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اچھی خبر ہونی چاہیے۔ صدر مملکت کا عمان و کویت کا دورہ علاقے میں دشمنوں کے لئے مایوس کن تھا کیونکہ دشمن نے اپنی امکان بھر کوشش کرڈالی ہے کہ ایران اور اس کے ہمسایہ ملکوں کے درمیان تعلقات خراب کرے۔ لھذا ان دوروں اور ان سے پیش آنے والے مواقع کو مناسب سجھنا چاہیے تا کہ اس سے علاقے میں دوستی و تعاون اور امن و سکیوریٹی میں فروغ لانے کے لئے استفادہ کیا جائے۔ یہ نکتہ وہی حقیقت ہے جس پر عمان کے سلطان قابوس نے صدر روحانی سے ملاقات میں تاکید کی ہے، انہوں نے اپنے ہمسایہ ملکوں سے قریبی تعلقات قائم کرنے اورعلاقائی سطح پر تعاون کرنے پر ایران کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور علاقے کے ملکوں کے درمیان تعلقات میں فروغ، علاقے کی ترقی، سیکورٹی اور استحکام کے فائدے میں ہے۔