صدر جناب حسن روحانی کا دورہ مسقط اور کویت
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی آج صبح عمان کے دورے پر مسقط پہنچے ہیں۔صدر جناب روحانی آج شام کو کویت کا دورہ بھی کریں گے
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرنےعمان اور کویت کے ایک روزہ دورہ پر روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک نے ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے ان دوروں کے نہایت اہم ہونے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اچھی ہمسائیگی کے اصولوں اور ہمسایہ ملکوں سے تعلقات قائم کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
صدر جناب روحانی کا خلیج فارس کے دوملکوں کا دورہ موجودہ حالات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ واضح سی بات ہے کہ اس دورے میں علاقے میں جاری بحران اور علاقے بالخصوص عراق، شام اور یمن کے حالات پر گفتگو ہوگی۔ ایران اور خلیج فارس کے عرب ملکوں کے تعلقات تقریبا چار دہائیوں سے نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں - سیکورٹی کے بہانے علاقے کے امور میں بیرونی ملکوں کی مداخلت ایران اور خلیج فارس کے عرب ملکوں کے درمیان سب سے زیادہ بحث کا موضوع رہی ہے۔ ان اقدامات کا ایک نمونہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئے کا دورہ بحرین ہے جس میں انہوں نے خلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی اور تفرقہ انگیز بیانات دئے تھے۔ انہوں نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ ایران علاے میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے۔ یہ فنتہ انگیزی جو علاقے میں برطانیہ کی موجودگی سے شروع ہوئی ہے اس کے علاقے سے نکلنے کے بعد امریکہ کی فوجی موجودگی اور بحرین و سعودی عرب میں فوجی اڈے قائم کرنے سے جاری ہے۔ واضح ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس حساس وقت میں ان تمام حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور علاقے میں جنگ و خونریزی کے شعلے خاموش کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ تجربہ سے پتہ چلتا ہے کہ علاقے میں سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے تعاون کے بہت سے مواقع ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ صدر جناب روحانی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ علاقائی ممالک بخوبی خلیج فارس کے علاقے میں امن قائم کرسکتے ہیں اوراس سلسلے میں کافی شعور کے حامل ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض ممالک اتحاد پر یقین نہیں رکھتے اور ان کی اپروچ علاقے میں اختلافات پھیلانے پر مبنی ہے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ علاقے میں حقیقی خطروں کا سرچشمہ خواہ ماضی میں ہو یا اس وقت ہو بیرونی ممالک ہیں۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی اور داعش گروہ کہ جس نے پورے علاقے پر خوفناک سایہ ڈال رکھا ہے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی پالیسیوں اور منصوبوں کا نتیجہ ہے۔ بحرین اور یمن کے مسائل کو بھی دوسروں پر الزام لگا کر یا جنگ و لشکر کشی اور آہنی مکے سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح سے شام میں تجربہ کیا گیا ہے کہ علاقے کے بحرانوں کی واحد راہ حل، سیاسی ہے اور اسے علاقے کے ملکوں کی شرکت سے حل کیا جا سکتا ہے ۔ علاقے میں کشیدگی اور اختلافات کا جاری رہنا کسی بھی ملک کے فائدے میں نہیں ہے۔عمان اگرچہ سعودی عرب پر بھی نگاہ رکھتا ہے لیکن اس نے اختلافات کو منقطی لحاظ سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تقریبا دو ہفتے پہلے کویت کے وزیرخارجہ بھی امیرکویت کی جانب سے دوستانہ پیغام لے کر تہران آئے تھے۔ اب دوبارہ یہ موقع ملا ہے جس کی دو طرح سے تشریح کی جاسکتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک ، صدر جناب حسن روحانی کے دورہ عمان اور کویت سے فائدہ اٹھا کر ایران سے تعلقات کو بہتر بنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں اور دوسری بات یہ کہ اشتعال انگیز اقدامات سے پرہیز کریں کیونکہ ان سے صرف بیرونی ملکوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ صدر جناب حسن روحانی کے دورہ عمان و کویت کو، علاقے میں تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مل کر چلنے کا سنجیدہ ارادہ سمجھا جاسکتا ہے لیکن کیا خلیج فارس کے ممالک بھی ایسا ہی عزم و ارادہ رکھتے ہیں ، یہ صدر حسن روحانی کے عمان اور کویت میں مذاکرات سے معلوم ہوجائے گا۔