پاکستان: افغان سفارت کاروں کی طلبی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i272310-پاکستان_افغان_سفارت_کاروں_کی_طلبی
 پاکستان کی فوج نے سفارتی آداب کے برخلاف اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے بعض سفارت کاروں کو طلب کیا تھا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۸, ۲۰۱۷ ۱۰:۱۲ Asia/Tehran
  • پاکستان: افغان سفارت کاروں کی طلبی

 پاکستان کی فوج نے سفارتی آداب کے برخلاف اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے بعض سفارت کاروں کو طلب کیا تھا۔

پاکستان کی فوج نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیاہے کہ افغانستان کے بعض سفارتکاروں کو طلب کرکے انہیں چوہتر دہشتگردوں کی ایک فہرست دی گئی ہے اور حکومت کابل سے کہا گیا ہے کہ ان دہشتگردوں کو فوری طورپر پاکستان کے حوالے کردے یا پھر ان کے خلاف اقدامات کرے۔ پاکستان کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو وارننگ دی ہے کہ بعض گروہ ان شہروں میں دھماکے کرنے کے لئے داخل ہوگئے ہیں، اس امر کے پیش نظر ان سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے عوام سے کہا ہے کہ مصروف علاقوں میں ضروری کام ہونے کی صورت میں ہی آئیں۔

پاکستانی فوج نے جمعرات کی رات  صوبہ سندھ کے جنوب میں ایک درگاہ میں ہونے والے دہشتگردانہ بم دھماکے کے بعد افغانستان کے بعض سفارتکاروں کو طلب کیا تھا، اس دہشتگردانہ بم دھماکے میں ستر سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس بم دھماکے میں وہ لوگ ملوث ہیں جو پاکستان کے بیرونی دشمن  سے ہدایات لیتے ہیں اور افغانستان میں ان کی پرامن پناہ گاہیں ہیں۔ ان امور کے پیش نظر لگتا ہےکہ پاکستانی حکام اس حملے کو بیرونی عوام کی کارستانی سمجھتے ہیں۔ البتہ حکومت پاکستان نے صوبہ سندھ کے دہشتگردانہ واقعے کے بعد افغانستان پر پاکستان میں بدامنی  پھیلانے کا الزام لگانے کی پالیسی کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان تورخم کی سرحد بند کردی ہے۔

پاکستان کی فوج کی جانب سے اسلام آباد میں افغانستان  کے بعض سفارتکاروں کا طلب کیا جانا تمام ملکوں کی نظرمیں سفارتی آداب کے خلاف ہے اور پاکستان کو اس کے الٹے نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان میں یہ افغان سفارتکاروں کی ایک طرح کی توہین ہے اور جبکہ وزارت خارجہ کی پوزیشن کو نظرانداز کرنے کے معنی میں بھی ہے۔ پاکستانی فوج کے اقدام سے یہ تاثر بھی ملتا ہےکہ اس نے افغاں سفارتکاروں کی  بے عزتی کی ہے۔

پاکستان نے  سندھ دہشتگردانہ بم دھماکے میں غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کی بات کی ہے اور یہ بھی الزام لگایا ہے کہ افغانستان دہشتگردوں کی پرامن پناہ گاہ ہے جبکہ افغانستان کا کہنا ہے پاکستان کے قبائلی علاقے دہشتگردوں خاص طور سے طالبان کی پرامن پناہ گاہ ہیں۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگ و تشدد کا جاری رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی حکومت دہشتگردی کے تعلق سے دوہرے رویوں پر عمل کررہی ہےاور انتہا پسندی کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی۔

افغانستان کا یہ موقف کابل حکومت اور پاکستان کی ان قومی، سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کا مشترکہ موقف ہے جو نواز شریف کو دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں ناتواں اور انتہا پسندی کو کنٹرول کرنے کے عزم سے عاری سمجھتی ہیں۔ اسی بنا پر حکومت پاکستان نے بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر تنقید کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت کر رہا ہے جبکہ پاکستانی رائے عامہ کے لئے حکومت کی یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔