ایران نے کسی کو دھمکیاں نہیں دی ہیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i272328-ایران_نے_کسی_کو_دھمکیاں_نہیں_دی_ہیں
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جو مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کرنے جرمنی گئے ہوئے ہیں سی این این چینل سے گفتگو میں امریکہ کی جانب سے لاحق خطروں کے بارے میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے بھی ماضی میں ایران کو آزمایا ہے یہ جانتا ہے کہ ایرانیوں نے کسی کو بھی دھمکی نہیں دی ہے بلکہ وہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کا جواب دیتا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۸, ۲۰۱۷ ۱۲:۱۸ Asia/Tehran
  • ایران نے کسی کو دھمکیاں نہیں دی ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جو مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کرنے جرمنی گئے ہوئے ہیں سی این این چینل سے گفتگو میں امریکہ کی جانب سے لاحق خطروں کے بارے میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے بھی ماضی میں ایران کو آزمایا ہے یہ جانتا ہے کہ ایرانیوں نے کسی کو بھی دھمکی نہیں دی ہے بلکہ وہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کا جواب دیتا ہے۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جو مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کرنے جرمنی گئے ہوئے ہیں سی این این چینل سے گفتگو میں امریکہ کی جانب سے لاحق خطروں کے بارے میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے بھی ماضی میں ایران کو آزمایا ہے یہ جانتا ہے کہ ایرانیوں نے کسی کو بھی دھمکی نہیں دی ہے بلکہ وہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کا جواب دیتا ہے۔

امریکہ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں ایران پر ہمیشہ سے پابندیاں لگارکھی تھیں اور ایران کو دھمکیاں بھی دیتا تھا اور اس نے صدام جیسے خونخوار ڈکٹیٹر کی مسلط کردہ جنگ سے لے مفلوج کرنے والی پابندیوں کے تمام آپشن آزما کر دیکھ لئے ہیں۔ امریکہ نے اب ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ایٹمی معاہدے کے بعد ایران کی میزائل توانائی کا بہانہ اپنے ایجنڈے پر رکھ لیا ہے تا کہ ایران کو سکیورٹی لحاظ سے علاقے کے لئے خطرہ بنا کر پیش کرسکے۔ یہ الزام وہ لوگ لگاتے ہیں جو خود علاقے اور دنیاکے لئے خطرہ ہیں۔صیہونی وزیر اعظم نے بھی گذشتہ ہفتے امریکہ کے اپنے دورے میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کو علاقے اور دنیا کے لئے خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن یہی لوگ جو علاقے میں جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اور ہر روز بیان جاری کرتے ہیں اور میز پر تمام آپشنوں کےرہنے کی بات کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی حکومت بھی وہی کام کررہی ہے کہ جس کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے اشارہ فرمایا تھا اور کہا تھا کہ ٹرمپ نے ان اقدامات سے امریکہ کے حقیقی چہرے کو نمایان کردیا ہے۔رہبرانقلاب اسلامی نے گذشتہ ہفتے آذربائجان کے علاقے کے ہزاروں افراد سے ملاقات میں امریکہ کی سابق اور موجودہ حکومت کی جانب سے ایران کو جنگ کی دھمکی کی تکرار کے حقیقی ھدف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج بھی پہلے کی طرح وہ میز پر فوجی آپشن کے  ہونے کی بات کرتے ہیں جبکہ ہمارے اذھان کو حقیقی جنگ یعنی اقتصادی جنگ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ امریکہ زوال کی طرف بڑھ رہا ہے یہ نظریہ  امریکہ کے مخالفین کی طرف سے کوئی نعرہ نہیں بلکہ امریکہ کے اندر اور باہر بہت سے صاحب رائے افراد کا نظریہ ہے اور وہ اس امر پر تاکید کرتے ہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر،عالمی تعلقات کے مبصر اور امریکی خارجہ پالیسی کے نظریہ پرداز جان ایکنبری نے دوہزار چودہ میں اپنے ایک مضمون لیبرل ورلڈ آرڈر کے مستقبل میں لکھا تھا کہ دنیا کی طاقت میں تبدیلی اور امریکہ کی طاقت کا زوال اور دنیا کے یک قطبی نظام سے نکلنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔انہوں نے لکھا تھا کہ امریکہ کا زمانہ ختم ہورہا ہے۔اور ہم نئی طاقتوں کو ابھرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جبکہ امریکہ کی طاقت فرسودہ ہوتی جارہی ہے۔

امریکہ کے دانشور اور مفکر نوام چامسکی کہتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ کے تسلط پسندی کے اصولوں میں تبدیلیاں آئی ہیں لیکن انہیں لاگو کرنے کی توانائیوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔امریکہ داخلی اور بیرونی سطح پر سقوط کررہا ہے۔

ان امور کے پیش نظر امریکہ کی دھمکیاں اور اقدامات کس حد تک ٹرمپ کے دور میں عملی شکل اختیار کرتےہیں اور کیا ٹرمپ ایسی پوزیشن میں ہونگے کہ اپنی انتخاباتی سرگرمیوں کے انتہا پسندانہ نعروں پر پابند رہ سکیں، اس پر کافی بحث کی گنجائش ہے۔ البتہ اس  وقت تک جب ٹرمپ اور انکے ساتھیوں کو یہ ادراک ہو کہ واقعاامریکہ اور دنیا میں کیا ہورہا ہے ممکن ہے بہت سے غیر متوقع واقعات  پیش آجائیں جنکی امریکہ کو بڑی بھاری قیمت چکانا پڑے۔