افغانستان پر پاکستانی فوج کی گولہ باری
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i272426-افغانستان_پر_پاکستانی_فوج_کی_گولہ_باری
پاکستان کی سرزمین سے افغان کے مشرقی علاقے پر گولہ باری جاری ہے۔افغان حکام نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے توپوں سے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار کے شہر لعل پور پر گولہ باری کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۹, ۲۰۱۷ ۰۹:۲۸ Asia/Tehran
  • افغانستان پر پاکستانی فوج کی گولہ باری

پاکستان کی سرزمین سے افغان کے مشرقی علاقے پر گولہ باری جاری ہے۔افغان حکام نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے توپوں سے افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار کے شہر لعل پور پر گولہ باری کی ہے۔

صوبہ ننگر ہار کے گورنر عطاءاللہ خوگیانی نے کہا ہے کہ کنر اور ننگر صوبوں پر پاکستان کے راکٹ حملوں میں دو عام شہری جاں بحق اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ان حملوں کی وجہ سے ایک سو خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پرمجبور ہوگئے ہیں۔صوبہ کنر اور ننگر ہار پر کم از کم دو سو راکٹ گرے ہیں۔ افغانستان کے مشرقی علاقوں پر پاکستان کی جانب سے راکٹ حملوں کے بعد کابل میں پاکستان کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا ہے۔ افغانستان کےنائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کابل میں پاکستان کے سفیر ابرار حسین سے ملاقات میں پاکستانی فوج کے افغانستان کے سرحدی صوبوں پر راکٹ حملوں کی مذمت کی اور پاکستانی سفیر سے ان حملوں کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ پاکستان سے افغانستان پر توپوں کے حملے ،جو افغاں حکام کے بقول پاکستانی فوج کررہی ہے، سندھ میں حالیہ بم دھماکے کے بعد بڑی حدتک غور طلب ہیں۔ سندھ میں بم دھماکے کے بعد پاکستانی فوج کے حکام نے کہا تھا کہ یہ حملہ بیرونی دشمنوں کی جانب سے انتہا پسند عناصر کی حمایت کا نتیجہ ہے۔پاکستانی فوج نے یہ بھی الزام لگایا ہےکہ افغانستان دہشتگردوں کے لئے  پرامن پناہ گاہ بن چکا ہے۔ یادر ہے سندھ بم دھماکے کے بعد پاکستانی فوج نے تورخم اور چمن کی مشترکہ سرحدوں کو بند کردیا اور سفارتی آداب کے برخلاف اسلام آباد میں تعینات بعض افغان سفارتکاروں کو طلب کیا تھا اور انہیں چوہتر دہشتگردوں کی ایک فہرست دے کر انہیں پاکستان کے حوالے کرنے یا ان کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سندھ دہشتگردانہ واقعے کے بعد پاکستان نے کابل کے خلاف سخت پالیسیاں اپنائی ہیں اور کوشش کررہا ہےکہ حکومت کابل پر اس دہشتگرانہ واقعے کا الزام لگائے۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرزمین سے پاکستانی فوج توپخانے سے حملے کررہی ہے اور اس کا مقصد افغانستان کو یہ سمجھانا ہے کہ ہر طرح کی جھڑپوں میں پاکستان کو برتری حاصل رہے گی۔ یہ ا یسے عالم میں ہے کہ حالیہ برسوں میں گولہ باری پر افغانستان کے احتجاج کے بعد پاکستان نے یہی کہا تھا اس کے فوجیوں نے  غلطی سے گولہ باری کردی ہے یا یہ انتہا پسند گروہوں کا اقدام ہے جو پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت افغانستان نے پاکستان کی ان باتوں کو ناقابل اطمینان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے کی جانے والی یا پاکستانی فوج کی جانب سے غلطی سے ہونے والی اس گولہ باری کو بند کراے۔