امریکہ کے وزیر دفاع کا دورہ امارات
مریکہ کےوزیر دفاع جمیز میٹس مشرق وسطی کے پہلے دورے پر ہفتے کو متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں، امارات کو امریکہ کا ایک قریبی ترین اتحادی کہا جاتا ہے۔
امریکہ کےوزیر دفاع جمیز میٹس مشرق وسطی کے پہلے دورے پر ہفتے کو متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں، امارات کو امریکہ کا ایک قریبی ترین اتحادی کہا جاتا ہے۔جیمز میٹس متحدہ عرب امارات میں ابوظبی کے ولی عھد شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور امریکی سفارت خانے کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ امریکی حکومت نے جیمز میٹس کے دورہ متحدہ عرب امارات کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔البتہ وہائٹ ہاوس نے، ٹرمپ کی ابوظبی کے ولی عھد سے ٹیلیفونی بات چیت کے بعد کہا تھا کہ دونوں رہنماوں نے شام میں نام نہاد پرامن علاقے قائم کرنے کا جائزہ لیا ہے ۔
بے شک امریکہ اپنے فوجی اقدامات کے ذریعے نہ صرف مشرق وسطی میں عدم استحکام پھیلانے والا ملک شمار کیا جاتا ہے بلکہ شام اور عراق کے بحران بھی اسی کی مذموم اھداف پر مبنی مداخلت اور جارحانہ نیز دوہری پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ امریکی حکام کا شام میں نام نہاد پرامن علاقے قائم کرنے پر تاکید کرنا نیز اس طرح کی سازشوں کے لئے بجٹ حاصل کرنے کے لئے عرب حکام سے صلاح و مشورے کرنا علاقے میں امریکہ کی نئی سازشیں ہیں۔امریکی حکومت عرب حکام بالخصوص خلیج فارس کے عرب حکام کو اپنی باج خواہانہ پالیسیوں کا ہمنوا بنا کراپنی تسلط پسندانہ اور مداخلت پسندانہ سازشوں کے لئے بھاری سے بھاری بجٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی دائرہ کار میں امریکہ خلیج فارس کے ملکوں کو بے پناہ ہتھیار فروخت کررہا ہے اور اپنے فوجی اڈوں کوبرقرار رکھ کر انہیں وسعت بھی دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے قطر، سعودی عرب، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عمان میں اکیس فوجی اڈے قائم کررکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہےکہ امریکہ کس قدر وسیع پیمانے پر علاقے میں موجود ہے۔ بہرحال امریکہ کی جانب سے مشرق وسطی کو اپنی فوجی چھاونی میں تبدیل کرنے اور مختلف بہانوں سے فوجی اقدامات کرنے کا مرکز بنانے سے اس علاقے میں بدامنی پھیل چکی ہے اور اسے ملی ٹرائیز بھی کردیا گیا ہے۔ امریکی حکام علاقے بالخصوص عراق وشام میں اپنے مداخلت پسندانہ اھداف تک پہنچنے کے لئے ہر موقع اور ہتھکنڈے سے استفادہ کررہے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات واضح طور پر امریکہ کی سرکردگی میں دہشتگردی مخالف نام نہاد اتحاد قائم کرنے جیسی سرگرمیوں کے طورپرعراق و شام میں دیکھے جاسکتے ہیں۔عراق و شام میں دہشتگردی کے خلاف نام نہاد عالمی اتحاد ان ملکوں کی مرکزی حکومتوں اور افواج کی اجازت کے بغیر قائم کیا گیا ہے۔اس اتحاد کے اقدامات عملی طور پر دہشتگردی کے خلاف کاروائیوں اور دہشتگردوں کے خاتمے کی راہ میں بھر پور رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔مشرق وسطی میں امریکہ کی موجودگی میں توسیع آنے سے نہ صرف علاقے میں بدامنی پھیلی ہے بلکہ یہ علاقہ مختلف طرح کے تنازعات کا بھی شکار ہوچکا ہے۔
ایسے حالات میں امریکی حکام مختلف سازشوں منجملہ ایرانوفوبیا کا پروپگینڈہ اور جھوٹے دعوے کرکے مشرق وسطی کے علاقے کو بدامنی کا شکار ظاہر کرنا چاہتے ہیں، ان اقدامات سے امریکی حکام کا ھدف خلیج فارس کے علاقے میں تیل سے مالامال عرب ملکوں سے اقتصادی فائدے اٹھانا اور اپنے مداخلت پسندانہ اور فوجی اقدامات کا جواز پیش کرنا ہے۔