ایران کے خلاف امریکہ کی نئی چالیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i272474-ایران_کے_خلاف_امریکہ_کی_نئی_چالیں
امریکی حکومت ایران کے خلاف بعض عرب ملکوں کے تعاون سے نیٹو جیسا اتحاد قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔نیٹو کی طرح کا دوطرفہ فوجی اتحاد جس میں وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مصر، اردن،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہونگے
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۱۹, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۳ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف امریکہ کی نئی چالیں

امریکی حکومت ایران کے خلاف بعض عرب ملکوں کے تعاون سے نیٹو جیسا اتحاد قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔نیٹو کی طرح کا دوطرفہ فوجی اتحاد جس میں وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مصر، اردن،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہونگے

 

 

امریکی حکومت ایران کے خلاف بعض عرب ملکوں کے تعاون سے نیٹو جیسا اتحاد قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔نیٹو کی طرح کا دوطرفہ فوجی اتحاد جس میں وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مصر، اردن،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہونگے۔یہ امریکہ کی نئی حکومت کا ایک نیا منصوبہ شمار ہوتا ہے۔البتہ امریکہ کا ایران کے خلاف اتحاد بنانا کوئی نہیں بات نہیں ہے، دراصل ڈونالڈ ٹرمپ اپنے مختلف نظریات کے باوجود اپنے سے پہلی حکومت کی پالیسیوں پر گامزن رہنے پر زور دے رہے ہیں اور ایرانو فوبیا کے سناریوں کو اسی پہلی حکومت کے دائرہ کار میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکہ کے سابق صدر اوباما کی حکومت بھی اپنے اسی ھدف تک پہنچنے کےلئے ایک غیر واقعی اصطلاح  ایران کے خطرے سے استفادہ کرتی تھی اور ان سے پہلے بھی جارج بش نے بزعم خویش ایران کو بدی کے محور میں شامل کررکھا تھا۔

بلاشک ان تمام اقدامات کا مقصد سکیوریٹی کے لحاظ سے ملکوں کو امریکہ سے وابستہ کرنا ہے۔یہ وابستگی گذشتہ چند برسوں میں خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ہاتھوں ایک سو تیس ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر منتج ہوئی ہے۔البتہ ٹرمپ ایران کے خلاف اتحاد بنانے میں مزید محرکات کے حامل ہیں کیونکہ وہ سکوریٹی کو ایک تجارت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب کو اگر سکیوریٹی چاہیے تو انہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی، ٹرمپ نے یہی بات شام میں نام نہاد پرامن علاقے قائم کرنے کےبارے میں بھی کہی ہے۔ٹرمپ کے ان مواقف سے پتہ چلتا ہےکہ انہوں نے ہتھیار بیچنے کےساتھ ساتھ امریکی طرز پر سیکوریٹی کو کمرشیل بنانے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بھی حساب کتاب کررکھا ہے۔امریکہ کے لئے اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے بگڑے ہوئے اقتصادی حالات اور قومی سطح پر پائے جانے والے شگاف کو پر کرسکے لیکن گذشتہ ایک مہینے میں ٹرمپ کے بدلتے ہوئے ٹیکٹیکل موقف کی بنا پر علاقائی اور عالمی سطح پر امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی شگاف بڑھ گئے ہیں اور تشویشوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی نگاہ میں تین بنیادی عناصر داعش، ایران کی میزائلی طاقت کو لے کر سکوریٹی کے خطروں کابہانہ بنانا اور دیگر ملکوں کے ساتھ امریکہ کے سکیورٹی تعلقات کی ایک بار پھر سے تعریف کرنا علاقے میں امریکہ کے تعلقات کی سطح کا تعین کرتا ہے۔اسی اساس پر ٹرمپ نے آل سعود اور علاقے کے دیگر عرب ملکوں کو امریکہ کی طرف مائل کرنے کےلئے ایران پر الزامات لگانے کی چال چلی ہے تا کہ ایک طرف سے امریکہ کی بیمار معیشت کو پٹرو ڈالرز سے بہرہ مند کرسکیں اور دوسری طرف سے علاقے میں اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے امریکہ کے نئی سکیورٹی منصوبے میں اپنے پٹھووں کو الگ الگ ذمہ داری سونپی ہے۔ لیکن اس منصوبے میں امریکہ کی روبہ زوال طاقت، اور سکیوریٹی اور فوجی آپشنوں میں نہایت محدودیت جس کا سبب عراق و افغانستان میں امریکی جنگیں ہیں نظر میں رکھنی چاہیں۔ اس کے باوجود بعض ذرایع ابلاغ نے ڈونالڈ ٹرمپ کی جو تصویر کھینچی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک تاجر ہیں اور انہوں نے ایرانو فوبیا کو عرب ملکوں سے تاوان لینے کا ہتھکنڈا بنایا ہے اور انہیں مذہبی جنگ میں مشغول کردیا ہے۔ اس نقطہ نظر سے امریکہ کے  اتحاد میں شرکت کرنے والے ممالک اس سے پہلے کے ایران کے خلاف اتحاد میں شامل ہوں امریکہ کے ایک نئے جال میں پھنس جائیں گے جو ان کے لئے سیاسی خودکشی کے برابر ہوگا۔ مشہور عرب تجزیہ نگار اور مصنف عبدالباری عطوان کہتے ہیں کہ اس اتحاد کا حقیقی ھدف ایران کے خلاف اعلان جنگ کرنا نہیں ہے بلکہ ایک خیالاتی دعوے سے استفادہ کرنا ہے جسے ایران کے بڑے خطرے کا نام دیا جاتا ہے۔ اس خیالاتی دعوے کا مقصد سنی عرب ملکوں کے صیہونی حکومت کے ساتھ مکمل تعلقات قائم کرنے اور خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں کی باقی ماندہ دولت کو لوٹنا تا کہ امریکہ کی بنیادی تنصیبات میں سرمایہ کاری کی جاسکے جس کا وعدہ ٹرمپ نے اپنی انتخاباتی سرگرمیوں میں دیا تھا۔