یہودی کالونیوں کی تعمیر میں ٹرمپ کی شراکت
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i272592-یہودی_کالونیوں_کی_تعمیر_میں_ٹرمپ_کی_شراکت
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے کہا ہے کہ غرب اردن میں نئی کالونیوں کی تعمیر کے بارے میں مشترکہ کمیٹی کی تشکیل دینے کے لئے امریکہ کی نئی حکومت کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۷ Asia/Tehran
  • یہودی کالونیوں کی تعمیر میں ٹرمپ کی شراکت

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے کہا ہے کہ غرب اردن میں نئی کالونیوں کی تعمیر کے بارے میں مشترکہ کمیٹی کی تشکیل دینے کے لئے امریکہ کی نئی حکومت کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے-

بنیامین نتنیاہو نے اتوار کی رات کو امریکہ سے واپسی کے بعد، اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کمیٹی غرب اردن میں یہودی کالونیوں کی تعمیر کا جائزہ لے گی-

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مثالی اقدام عمل میں لاتے ہوئے 23 دسمبر 2016 کو اسرائیل کے ہاتھوں یہودی آبادکاری اور صیہونی بستیوں کی تعمیر کی مذمت اور تعمیرات کا عمل فوری طور پر روکنے کے لئے چار ملکوں ملائیشیا، ونزوئیلا، سینیگال اور نیوزی لینڈ کی مجوزہ قرارداد کے مسودے کی منظوری دی تھی۔ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو اس عالمی ادارے کے پندرہ میں سے چودہ رکن ملکوں کی حمایت سے منظوری دی گئی جبکہ امریکہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

بعض نے امریکہ کی جانب سے اس ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کو اسرائیل کی تنبیہ اور اسرائیل کے خلاف عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگ اور ہم فکر ہونے سے تعبیر کیا ہے لیکن اس قرارداد کی منظوری کو تقریبا دو ماہ کا عرصہ گذرنے کے باوجود ٹرمپ کی حکومت ، یہودی کالونیوں کی تعمیرکے حقیقی شریک میں تبدیل ہوگئی ہے- اس پالیسی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ امریکہ میں برسر اقتدار آنے والی سبھی حکومتیں ، بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کی حمایت کرتی ہیں اور وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں میں نظر آنے والی جزئی تبدیلیاں ، اس غاصب حکومت کی حمایت میں کمی کی آئینہ دار نہیں ہیں- سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قرارداد منظور ہونے کے ساتھ ہی، نتنیاہو نے ٹرمپ کی بے دریغ حمایت کرتے ہوئے یہودی کالونیوں کی تعمیر کو اپنی جنگ پسندانہ کابینہ کے ایجنڈے میں قرار دے دیا اور حتی ایک قدم آگے بھی بڑھایا ہے- صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ "کینسٹ" نے حال ہی میں ایک قانون منظور کیا کہ جس کی رو سے غرب اردن میں فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے کو قانونی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے-

اسرائیلی پارلیمینٹ کینیسٹ کے اس اقدام کے بعد، صیہونی فوجیوں نے مقبوضہ فلسطین کے علاقوں سے غرب اردن میں صیہونی کالونیوں کو متصل کرنے کے لئے بڑی بڑی سرنگوں کی تعمیر کا آغاز کردیا-  ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی اسرائیل اورامریکہ کے باہمی تعاون،  مختلف پہلو اختیار کرگئے ہیں اور ماضی کی مانند دونوں فریق کا تعاون صرف سالانہ مالی اور فوجی امداد تک ہی محدود نہیں رہ گیا ہے- یہودی کالونیوں کی تعمیر کے سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان باہمی اتفاق، معنی خیز ہے اس لئے کہ امریکہ کی سابق حکومت نے رائے عامہ کے دباؤ کے سبب، اس سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ اتفاق نہیں کیا تھا اور یہودی کالونیوں کی تعمیر کو، دو ریاستی حل کے عمل میں رکاوٹ قرار دیا تھا-

نتنیاہو نے واشنگٹن میں ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس میں یہ دعوی کیا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر میں توسیع ، فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں امن و صلح کی راہ میں اصلی رکاوٹ یا تنازعہ کی بنیاد نہیں ہے- ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نتنیاہو کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ واشنگٹن ، دو ریاستی حکومت کی تشکیل سے موسوم راہ حل میں کسی عہد کا پابند نہیں ہے -

یہودی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں نتنیاہو کے ساتھ ٹرمپ کا تعاون، دراصل  ایک آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کے عمل میں بنیادی رکاوٹ ہے اس لئے کہ ٹرمپ نے تل ابیب میں ایسے سفیر کا انتخاب کیا ہے جو یہودی بستیوں کی تعمیر کا شدت سے حامی ہے اور اس اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ نتنیاہو جوکچھ چاہتا ہے ٹرمپ اس کو عملی جامہ پہنانے میں کوشاں ہے-

فلسطین اور علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کے اس تعاون کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج ہوا ہے اور یقینا اس میں اس وقت مزید شدت آجائے گی جب امریکی سفارتخانے کی، تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس ممکنہ منتقلی ، عملی شکل اختیار کرے گی- اس لئے کہ فلسطین کے عوام اور حکام کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی، عالم اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہے-

یہودی کالونیوں کی تعمیر و توسیع کے سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعاون سے بعض عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب اور بحرین کے رویوں میں بھی قابل ذکر تبدیلی آئی ہے- اور اسرائیلی وزیر ا‏عظم نتنیاہو کے بقول عرب اب اسرائیل کے دشمن نہیں رہے اور نتنیاہو کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے سامنے اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کے لئے، عرب ممالک کی سطح پر فلسطینی عوام کے سوا اور کوئی ٹھوس رکاوٹ موجود نہیں ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی حکومت ، عالم اسلام اور عربوں کی دشمن نمبر ایک ہے اور وہ فلسطینی علاقوں میں اسلامی و فلسطینی علامات اور نشانات کو نابود کرنے کے درپے ہے-