مغربی موصل کی آزادی کا آغاز، داعش سے مقابلے کا اہم ترین مرحلہ
عراق کے وزیر اعظم 'حیدر العبادی' نے اتوار کے روز ملک کے سب بڑے صوبے موصل کے مغربی علاقوں سے داعش کے دہشتگردوں کو نکالنے کے لئے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کردیاہے-
عراق کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر حیدر العبادی نے مغربی موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اسے دہشت گردوں کے قبضے سے عراق کی آزادی کا آخری اور حتمی مرحلہ قرار دیا اور کہا کہ انسانی اقدار کی رعایت کرتے ہوئے پناہ گزینوں کی ضرورتوں کو فراہم کیا جانا ترجیحات میں شامل ہے- موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی کے پہلے مرحلے میں موصل کے مشرقی علاقوں کی آزادی کو ترجیح حاصل تھی چنانچہ مشرقی علاقے، جو موصل کے ایک تہائی حصے کو تشکیل دیتے ہیں، چوبیس جنوری دوہزار سترہ کو داعش دہشت گردوں کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرالئے گئے-
عراقی وزیراعظم العبادی نے اتوار کو اپنے خطاب میں کہا کہ مسلح افواج نینوا کے علاقے میں داخل ہورہی ہیں جس کے بعد مغربی موصل کو آزاد کرانے کے لئے آپریشن حساس مرحلے میں داخل ہوگا- انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن کے دوران لوگ اپنے گھروں میں رہیں اور گھربار چھوڑ کر نہ جائیں- دہشت گرد عناصر حالات کو درھم برھم کرنے اور افراتفری کی صورتحال پیدا کرنے میں کوشاں ہیں تاکہ سیکورٹی فورسیز کی پیشقدمی میں رکاوٹیں کھڑی کریں- افسوس کی بات یہ ہے کہ عراق میں بعض گروہ ایسے بھی ہیں جو داعش دہشت گردوں کو معلومات فراہم کررہے ہیں یہ افراد یا ایجنٹ ہیں یا خواب غفلت میں ہیں- اور یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ بعض عراقی سیاستداں بھی اپنی باتوں میں داعش کے موقف کو بیان کر رہے ہیں- انہوں نے کہا کہ عراقی سیکورٹی فورسز، تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے شہریوں کو آزاد کرانے کے لئے پیشقدم ہیں- یاد رہے کہ موصل پر داعش نے جون 2014 میں قبضہ کیا تھا اور موصل ہی میں داعش دہشتگرد تنظیم کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا.
مغربی موصل کی آزادی کا مرحلہ ایسے میں انیس فروری سے شروع ہوا ہے کہ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ ان علاقوں کی آزادی کا مرحلہ، مشرقی علاقوں کی آزادی سے کہیں زیادہ سخت ہوگا- کیوں کہ بہت سے دہشت گرد مشرقی موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی کے دوران مغربی موصل فرار کرگئے ہیں-اس لئے عراق کی مشترکہ فورسیز کو اس مرحلے میں دہشت گردوں سے بھرپور جنگ کرنا پڑے گی- مغربی موصل میں زیادہ دہشت گردوں کی تعداد، مشترکہ فورسیز خاص طور پر حشدالشعبی کے خلاف ذرائع ابلاغ کے منفی پروپگنڈے کا سبب بن سکتی ہے کیوں کہ یہ ذرائع ابلاغ دہشت گردوں کو موصل کا شہری بتاتے ہیں- اس لحاظ سے عراقی وزیر اعظم نے مغربی موصل کی آزادی کی کاروائی شروع ہونے کے اپنے فرمان میں، پناہ گزینوں پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا ہے- العبادی نے مونیخ سیکورٹی کانفرنس میں بھی موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی میں حشد الشعبی کے موثر کردار کو سراہا اور اس کاروائی میں عام شہریوں کی جانوں کے تحفظ پر تاکید کی- العبادی نے موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی کو ایک پاک و صاف جنگ سے تعبیرکیا کہ جس میں انسانوں کی نجات اور آزادی، مکان اور جگہ کی آزادی پر مقدم ہے- عراقی وزیر اعظم نے ان بیانات کے ذریعے، مخالف میڈیا کی نفسیاتی جنگ سے مقابلے کے لئے پیشگی قدم اٹھایا ہے-
مغربی موصل کو آزاد کرانے کی کاروائی کے مشرقی موصل سے زیادہ سخت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مغربی موصل میں الغزلانی فوجی اڈہ اور اسی طرح موصل ایئرپورٹ واقع ہے اور اسی سبب سے شہر کے اس علاقے کو زیادہ اہمیت حاصل ہے- الغزلانی اسٹریٹیجک فوجی اڈہ اس وقت داعش دہشت گردوں کے قبضے میں ہے - عراق کی مشترکہ فورسیز ، اس فوجی اڈے کو آزاد کرانے کے ساتھ ہی دہشت گردوں کو دفاعی پوزیشن میں لاسکتی ہیں - البتہ موصل ایئرپورٹ پر بھی فوج کا کنٹرول حاصل کرنا اس کاروائی کا ایک اہم مقصد ہے- عراقی فوج کے توسط سے اس فوجی اڈے پر کنٹرول کے ساتھ ہی ، عراقی فوج کے جنگی طیارے اس فوجی اڈے سے پرواز کرسکیں گے اور عراقی فوجیوں کو دیگر علاقوں منجملہ مشرقی علاقے سے مغربی علاقوں میں منتقل کرنے میں بھی آسانی ہوجائے گی- مغربی موصل کی آزادی، عراق میں داعش کے اختتام کا باعث بنے گی-