رہبر انقلاب اسلامی کے زاویۂ نگاہ سے مسئلہ فلسطین
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i272708-رہبر_انقلاب_اسلامی_کے_زاویۂ_نگاہ_سے_مسئلہ_فلسطین
مسئلہ فلسطین تمام مسلمانوں کے اتحاد کا مرکزی نکتہ ہے۔ منگل کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے خطاب سے بین الاقوامی فلسطین کانفرنس کا آغاز ہوا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۲:۳۱ Asia/Tehran
  • رہبر انقلاب اسلامی کے زاویۂ نگاہ سے مسئلہ فلسطین

مسئلہ فلسطین تمام مسلمانوں کے اتحاد کا مرکزی نکتہ ہے۔ منگل کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے خطاب سے بین الاقوامی فلسطین کانفرنس کا آغاز ہوا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں مسئلۂ فلسطین کے سلسلے میں اسٹریٹیجیک اور بنیادی مسائل بیان فرمائے۔  آپ نے قدس کی آزادی کی امنگ کی اہمیت کم کئے جانے کو خطے میں مسلط کردہ جنگوں کا ایک ہدف بتایا۔ آپ نے فلسطین کے استقامتی گروہوں کے قومی،مذہبی اور داخلی اختلافات سے اجتناب کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام اسلامی اور قومی گروہ فلسطینی کاز کے لئے کام کرنے کے پابند ہیں۔ آپ نے مزیدفرمایا کہ جن طاقتوں نے صیہونی حکومت کو جنم دیا ہے ان کا ہدف ایک طویل المیعاد تنازعہ مسلط کر کے علاقے میں ترقی اور امن و استحکام کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنا ہے اور وہی طاقتیں موجودہ سازشوں کے پیچھےموجود ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے خطے میں برپا کئے جانے والے فتنوں کو اقوام کی صلاحیتوں کے بے کار جھڑپوں میں ضائع ہونے اور غاصب صیہونی حکومت کے طاقتور ہونے کا سبب قرار دیا اور فرمایا کہ ان حالات میں ملت اسلامیہ کے خیرخواہ، اہل خرد اور دانشمند افراد ہمدردی کےساتھ ان اختلافات کوحل کرنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن افسوس کہ دشمن اپین سازش پیچیدہ کے ذریعے بعض حکومتوں کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اقوام پر خانہ جنگی مسلط کرنے، ان کو آپس میں لڑانے اور ملت اسلامیہ کے خیر خواہ ان افراد کی کوششوں کا اثر کم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔

بلاشبہ مسئلہ فلسطین ملت اسلامیہ کے مشترکہ مسائل میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس اہمیت کی بہت سی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ایک ملک پر قبضہ اور ایک قوم کو اس کی سرزمین سے نکال باہر کیا جانا ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی قانون اور اصول کے تحت اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ دوسری وجہ فلسطینی قوم پر روا رکھا جانے والا غیر انسانی اور تاریخی ظلم ہے۔ تیسری وجہ مسلمانوں کے قبلۂ اول کے انہدام کی کوشش ہے۔

صیہونی حکومت اسلامی دنیا کے حساس ترین علاقے میں موجود فلسطینی سرزمین پر قبضہ کرکے اسلام اور مسلمانوں سے مقابلے کے لئے سامراجی طاقتوں کے فوجی ، سیکورٹی اور سیاسی اڈے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر بھی ، کہ اسرائیل علاقے اور دنیا کے لئے بدامنی اور دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے، مسئلہ فلسطین پر توجہ دیا جانا ضروری ہے۔

صیہونزم برطانیہ جیسے سامراج کے تعاون اور امریکہ کی مالی اور فوجی حمایت کے ساتھ فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کر کے دنیا میں اپنے تسلط اور اثر ورسوخ میں اضافہ کرنے کے درپے ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ آج اسلامی دنیا خصوصا فلسطین کو جس خطرے کا سامنا ہے اس کا سبب خطے میں صیہونی حکومت کے خطرات سے غافل ہونے کا ہی نتیجہ ہے۔ بلاشبہ کئی ملین فلسطینی پناہ گزینوں کی ختم نہ ہونے والی مشکلات  اور اسلامی دنیا کے تاریخی اور اسلامی تشخص کو مٹانے کی کوشش سے اس حقیقت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس غاصب حکومت کے خطرات زیادہ گہرے اور وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں۔

اگرچہ فلسطینی قوم نے اپنی بے مثال استقامت اور انتفاضہ کے ذریعے اپنے ایثار اور ثابت قدمی کو ثابت کر دکھایا ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اسلامی دنیا پر کوئی فرض عائد نہیں ہوتا ہے۔ اس حساس دور میں مسئلہ فلسطین اور انتفاضہ قدس ملت اسلامیہ کے تقدیر ساز مرحلے کا آغاز شمار ہوتا ہے اور اس کی حمایت ایک طاقتور ، ترقی یافتہ اور مربوط اتحاد کے وجود میں آنے اور ملت فلسطین پر روا رکھے جانے والے تاریخی ظلم اور صیہونی حکومت کے قبضے کے خاتمے پر منتج ہوسکتی ہے۔ آج کے دور میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت ماضی سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور فلسطینی قوم کو اس صورتحال میں اسلامی ممالک سے زیادہ توقعات  وابستہ کرنےکا حق حاصل ہے۔ آج فلسطین کی تقدیر تمام مسلمانوں کی جانب سے اس تاریخی فرض اور دینی ذمےداری کی ادائیگی پر موقوف ہے۔ اسلامی دنیا کو ہمیشہ کے لئے یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ اب وہ فلسطین کی حمایت کے سلسلے میں پرعزم ہے۔ مستقبل قریب میں تاریخ اس عظیم اسلامی اور انسانی فرض اور ذمےداری کے بارے میں فیصلہ کرے گی اور اس بات کو واضح طور پر بیان کرے گی کہ اسرائیل کا ساتھ دینے والی اور اس کے جرم میں شریک اسلامی حکومتیں اور اس کے ساتھ سازباز کرنے والے گروہ انتفاضہ اور استقامت کی روک تھام  کرنے اور ملت فلسطین سے ناجائز صیہونی حکومت کو تسلیم کروانے پر قادر نہیں ہیں۔

جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں فرمایا ہے کہ انتفاضہ کی حمایت کی کانفرنس کا ایک ثمرہ عالم اسلام اور دنیا کے حریت پسندوں  کی پہلی ترجیح یعنی مسئلہ فلسطین کو بیان کرنے اور اتحاد کی فضا پیدا کرنے سے عبارت ہے تاکہ فلسطینی قوم اور حق و عدل پر مبنی ان کی جدوجہد  کی حمایت کا عظیم مقصد حاصل ہو سکے۔ کبھی بھی فلسطینی عوام کی سیاسی حمایت کی اہمیت سے غفلت نہیں برتنی چاہئے کیونکہ یہ مسئلہ آج خاص ترجیح کا حامل ہے۔ مسلمان اور حریت پسند اقوام ہر سلیقے اور روش کے ساتھ ایک ہدف یعنی فلسطین اور اس کی آزادی کی کوشش کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر آپس میں متحد ہوسکتی ہیں۔