لیبیا کا بحران حل کرنے پر مبنی ہمسایہ ممالک کی کوشش
لیبیا کابحران سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لئے علاقائی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس ملک کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بحران کو فوجی طریقے سے حل کئے جانے کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
مصر، تیونس اور الجزائر کے وزرائے خارجہ نے لیبیا کے بحران کے سیاسی حل پر تاکید کی ہے۔ لیبیا کے ہمسایہ ممالک اس ملک کے بحران کے داخلی حل تک رسائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ الجزائر کے وزیر خارجہ عبدالقادر مساہل نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، کہ لیبیا کے مستقبل کا فیصلہ لیبیا کے عوام کو ہی کرنا چاہئے، کہا کہ مصر، الجزائر اور تیونس ہر طرح کے دباؤ سے اجتناب کرتے ہوئے لیبیا کے گروہوں کے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔
تیونس اجلاس لیبیا کے بحران کے سیاسی اور پائیدار حل کے مقصد سے تیونس کے صدر باجی قائد السبسی کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد سے بلایا گیا ہے۔ یہ اجلاس تینوں ممالک تیونس ، مصر اور الجزائر کے آئندہ ہونے والے سربراہی اجلاس کا پیش خیمہ ہے۔ لیبیا سنہ دو ہزار گیارہ میں ڈکٹیٹر کرنل قذافی کی حکومت کی سرنگونی کے بعد سے یورپی ملکوں خصوصا نیٹو کی فوجی مداخلت کی وجہ سے بدامنی کا شکار ہے۔ اگرچہ اس ملک کے بحران کے حل کے لئے علاقائی اور عالمی سطح پر بہت سی کوششیں انجام دی جا چکی ہیں لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ان کوششوں کے کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ مختلف ممالک کی جانب سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کی کوشش اور لیبیا کے تمام گروہوں کا اس بحران کو حل کرنے میں کوشش میں شامل نہ ہونا بھی ہے۔ اس صورتحال اور لیبیا کے موجودہ حالات کے جاری رہنے سے علاقے کے دوسرے ممالک کی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے۔ لیبیا کی جانب غیر قانونی مہاجرت، لیبیا کا مہاجروں کی گزرگاہ میں تبدیل ہوجانا، دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور اس ملک کی سرحد سے دوسرے ہمسایہ ممالک میں دہشت گردوں کی آمد و رفت اس وقت اہم مشکلات ہیں۔ بہت سے دہشت گرد گروہ لیبیا کی سرزمین سے تیونس، الجزائر اور دوسرے ممالک میں داخل ہوئے ہیں اور انہوں نے ان ممالک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب ان ممالک کو داخلی سطح پر بھی بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ تیونس کو بدستور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ دہشت گرد گروہوں اور بدامنی میں اضافے سے اس ملک کی اقتصادی حالت خراب اور سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ مصر کو بھی سیاسی کشیدگی کا سامنا ہے۔ الجزائر کی صورتحال اگرچہ بہتر ہے لیکن اس ملک میں دہشت گردوں کے داخلے اور دہشت گردی میں شدت پیدا ہونے کا خطرہ پایاجاتا ہے۔ دوسری جانب لیبیا کا بحران مغربی اور خطے کے بعض عرب ممالک کی مداخلت کا بہانہ بن چکا ہے۔ بعض مغربی ممالک لیبیا میں فوجی مداخلت کا موقع تلاش کر رہے ہیں۔ یہ ممالک اس موقع سے اپنے مفادات اور پالیسیوں کے لئے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ جبکہ خطے کے بعض عرب ممالک سیاسی اختلافات کو ہوا دینے اور اس ملک کو مسلسل بحرانی صورتحال میں رکھنے کے ذریعے خطے میں اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے درپے ہیں۔ان مشکلات کا صرف لیبیا کو سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک کو بھی ان کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ایک بار پھر اس ملک میں فوجی مداخلت کی مخالفت کا اعلان کیا ہے اور وہ لیبیا کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے مشترکہ حل تلاش کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ لیکن یہ کوششیں صرف اسی صورت میں کامیاب ہوں گی جب یہ ممالک اپنے حصے کے حصول کا مطالبہ ترک کر دیں گے اور لیبیا کی جماعتیں بھی اس بحران کو ختم کرنے کے سلسلے میں پرعزم ہوجائیں گی۔