تہران میں عالمی فلسطین کا نفرنس
تہران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں کانفرنس ایسے عالم میں جاری ہے کہ عرب اور مغربی ملکوں نے فلسطین کے مسئلے کی اہمیت کو گھٹانے کے لئے بے پناہ کوششیں جاری رکھی ہیں۔
تہران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں کانفرنس ایسے عالم میں جاری ہے کہ عرب اور مغربی ملکوں نے فلسطین کے مسئلے کی اہمیت کو گھٹانے کے لئے بے پناہ کوششیں جاری رکھی ہیں۔
فلسطین کی تحریک انتفاضہ کی حمایت میں چھٹی کانفرنس تہران میں اکیس فروری کو شروع ہوئی۔مسئلہ فلسطین کے بارے میں متعدد سوالات موجود ہیں جن کا جواب دیا جانا نہایت ضروری ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ آخر کس وجہ سے بعض ممالک یہ کوشش کرتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین کو سردخانے میں ڈال دیا جائے اور یہ مسئلہ عالم اسلام کے ترجیحی مسائل میں قرار نہ پائے۔اس سوال کا جواب صیہونی حکومت کے انسانیت سوز جرائم کے مقابل میں فلسطینی قوم کی مظلومیت میں پنہاں ہے۔صیہونی حکومت مشرق وسطی کے علاقے میں مغرب کی اہم ترین اتحادی ہے اور اس کو جنم دینے والی مغربی طاقتیں بالخصوص برطانیہ ہے۔صیہونی حکومت ایک غیر قانونی حکومت ہے کیونکہ اس کا کوئی وطن نہیں ہے بلکہ اس نے سرزمین فلسطین پر برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے قبضہ کیا ہے اور آج بھی اس کا غاصبانہ قبضہ جاری ہے۔اس نقطہ نظر کی بناپر فلسطین کا مسئلہ اور فلسطینی قوم کی مظلومیت کے مسئلے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دینے کی ضرورت ہے تا کہ سرزمین فلسطین پر صیہونی حکومت کی مجرمانہ کاروائیاں جاری رہیں اور یہودی کالونیوں کے تعمیر کے عمل پر بھی پردہ پڑا رہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ فلسطین کی عربی اسلامی شناخت ہے اس کے باوجود کچھ عرب ممالک جیسے سعودی عرب مظلوم فلسطینی عوام کا دفاع کرنے کےبجائے صیہونی حکومت سے قریب ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اکثر عرب ممالک کی حکومتیں اپنی بقا کے لئے مغربی ملکوں بالخصوص امریکہ کی احسان مند ہیں۔ عرب حکام کی حمایت کے لئے امریکہ کی ایک بنیادی شرط صیہونی حکومت سے دشمنی نہ کرنا بلکہ اس کے ساتھ مکمل تعلقات قائم کرنا ہے۔اس سلسلے میں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکریٹری جنرل احمد جبرئیل کہتے ہیں کہ میں سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگرعرب ممالک نہیں جاتا ہوں۔ بض لوگ یہ فخر کرتے ہیں کہ وہ ان ملکوں سے پیسہ لیتے ہیں جبکہ وہ زہریلا پیسہ ہے۔اس پیسے کا ھدف یہ ہے کہ وہ آپ کو یاتو اپنا ہمنوا بنانا چاہتے ہیں یا پھر اخلاقی لحاظ سے فاسد کرنا چاہتے ہیں اور ہم نے گذشتہ برسوں میں ایسا پیسہ لینے سے انکار کیا ہے البتہ بہت کوششیں کی گئیں کہ ہم کو بھی یہ پیسہ دیا جائے لیکن نے ہم نے بھی اپنے آپ کو اس زہریلے دلدل سے بچائے رکھا اور مردانگی اور دلیری سے اس دلدل کے باہر ہی رہے۔
قابل ذکرہے کہ اگرچہ فلسطین کا تشخص عربی اسلامی ہے لیکن عرب ملکوں کے عوام کے لئے مسئلہ فلسطین کو اچھی طرح بیان نہیں کیا گیا ہے بالفاظ دیگر فلسطینی کاز عرب قوموں کے لئے اہمیت کا حامل ہے لیکن چونکہ اکثر عرب ملکوں کے حکام منتخب نہیں ہیں لھذا عوام کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے سیکریٹری جنرل رمضان عبداللہ کہتے ہیں کہ فلسطین کے اندرونی اختلافات اور عالم اسلام و عرب کے بحرانی حالات صیہونی حکومت کے طاقتور ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو چیز صیہونی حکومت سے تعلق رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے صیہونی حکومت تاریخ انسانیت کی سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ہم صیہونی حکومت سے مکمل آگہی کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو دنیا کہتی ہے ویسا نہیں ہے صیہونی حکومت کے حالات اچھے نہیں ہیں بلکہ مختلف بحران میں مبتلا ہے اس کے باوجود وہ تباہی کے کنارے پر بھی نہیں کھڑی ہے۔ صیہونی حکمت کے طاقتور ہونے کا اہم ترین سبب فلسطین کے اندر اختلافات اور عرب و جہان اسلام کا داخلی سطح پر انتشار ہے۔ہر چند مغربی ممالک فلسطینی قوم کی مظلومیت کے اجاگر ہونے اور صیہونی جرائم سے پردہ ہٹائے جانے کے حق میں نہیں ہیں اور عرب حکام کی بھی اکثریت نے مغربی ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کےلئے اسرائیل سے قربت حاصل کرنا شروع کردی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران مختلف طرح سے فلسطین کی حمایت کا پرچم لہرارہا ہے، تہران میں انتفاضہ کی حمایت میں کانفرنس بھی اسی امر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رمضان عبداللہ کہتے ہیں کہ تہران کانفرنس فلسطین اور فلسطینی عوام کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کا ٹھوس موقف ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں فلسطین کی حمایت ایک ثابت شدہ امر ہے کیونکہ جس طرح سے کہ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے تہران کانفرنس کے آغاز میں کہا تھا اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے متعدد قوانین منجملہ ایک سو باون اور ایک سو چون میں آیا ہے کہ ایران کی جانب سے عالم اسلام کی قوموں کو ہر لحاظ سے متحد کرنے اور ستم رسیدہ لوگوں کی بے دریغ حمایت کرنے پر تاکید کی گئی ہے، یاد رہے فلسطینی قوم مظلوموں میں سرفہرست ہے۔تہران کی کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر فلسطین کے عوام کے حقوق کا پر چم لہرایا ہے اور ان حقوق کے خلاف صیہونی حکومت کی مجرمانہ کاروائیوں کو طشت از بام کیا ہے۔