آل سعود کے جارحانہ عزائم
آل سعود کے وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ شام میں بری فوج بھیجنے کو تیار ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے منگل کے دن اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگر ممالک شام فوجیں بھیجنے کےلئے آمادہ ہیں۔
آل سعود کے وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ شام میں بری فوج بھیجنے کو تیار ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے منگل کے دن اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگر ممالک شام فوجیں بھیجنے کےلئے آمادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب فوجیں امریکی فوج کے ساتھ شام میں تعاون کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ اس سلسلے میں ہماہنگی کریں گے اور دیکھیں گے کہ اس منصوبے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے تا کہ اس پرعمل کرسکیں۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے شام کے بحران کو حل کرنے کےبارے میں سعودی عرب کی کمزور اور مداخلت پسندانہ پالیسیوں کی تکرار کرتے ہوئے کہا کہ جینوا میں امن مذاکرات جو جمعرات کو شروع ہونےوالے ہیں ان کا ھدف یہ ہونا چاہیے کہ شام میں صدر بشار اسد کے بغیر اقتدار کی منتقلی انجام پائے اور عبوری حکومت آئے۔
سعودی عرب کو یمن کے نہتے عوام پر جارحیت سے لے کر علاقے میں تمام مذموم سازشوں میں ناکامی ہوئی ہے۔سعودی عرب امریکہ کی حمایت سے شام میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر عمل کرنے کے درپئے ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کے بیان سے یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ سعودی حکام خلیج فارس کے دیگر عرب ملکوں کے حکام کے ساتھ علاقے میں امریکہ کی سازشوں پر عمل درآمد کرنے والے پھٹو ممالک ہیں۔سعودی وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ ان کاملک امریکہ کے ساتھ شام میں فوجیں بھیجنے کو تیار ہے امریکہ کے نئے صدر کی خوشامد گوئی کا ایک نمونہ سمجھنا چاہیے کیونکہ امریکی صدر نے خلیج فارس کے بعض حکمرانوں کو فون کرکے شام میں نام نہاد پرامن علاقوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا اور یہ جتلانے کی کوشش کی تھی کہ شام میں عرب ملکوں کے پیسے سے نام نہاد پرامن علاقے قائم کئے جاسکتے ہیں۔ ایسے موقع پر شام میں اپنی فوجیں بھیجنے پر آمادگی کا اظہار کرنا جبکہ اس سے پہلے امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام میں فوجی بھیجنے کا جائزہ لے رہا ہے ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب علاقے میں دشمنوں کی سازشوں سے ہماہنگ دکھائی دیتا ہے۔
علاقے میں سعودی عرب کے فوجی اھداف جو حملوں اور ملکوں کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی پر استوار ہیں اس نے ایک بار پھر اپنی تشدد پسند ماہیت کو آشکار کردیا ہے۔ سعودی عرب کے اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود کا تشدد محض سعودی عرب کے عوام کی سرکوبی تک محدود نہیں ہے بلکہ علاقے کے عوام بھی سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے تشدد اور سازش پر مبنی مداخلتوں کا مشاہدہ کررہے ہیں۔
شام میں براہ راست مداخلت کرنے کے سعودی عرب کے اقدامات اس امر کے ساتھ ساتھ انجام پارہے ہیں کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پس پردہ صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کے خلاف مغربی حکومتوں اور صیہونی حکومت کو سازشیں کرنے پر اکسایا ہے۔بعض عرب اور مغربی ملکوں کے پھیلائے ہوئے فتنوں کے زیر اثر شام، دوہزار گیارہ سے دہشتگردی کی زد میں ہے اور یہ بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔
شام کے عوام اور صدر بشار اسد کی عوامی حکومت نے متحد ہوکر اور علاقے میں استقامت کی فورسز کی حمایت سے شام پر قبضہ کرنے کی دشمنوں کی سازشیں ناکام بنادی ہیں۔ایسے حالات میں جب عرب حکام شام میں خود کو شکست خوردہ دیکھ رہے ہیں تو شام میں براہ راست فوجی مداخلت کرکے اپنے پٹھووں کو مکمل شکست سے بچانا چاہتے ہیں۔واضح رہے سعودی عرب شام کے ساتھ ساتھ یمن میں بھی اپنی جارحانہ پالیسیوں کی ناکامی کو دیکھ رہا ہے اور مختلف طرح سے عالمی رائے عامہ کو اپنی شکستوں سے منحرف کرنے کی کوشش اور علاقے میں ایک نیا مہم جویانہ اقدام شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی جنگ پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے داخلی سطح پر شدید بحران منجملہ اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اپنی غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں جاری رکھے گا تو یہ ا پنے خود ساختہ دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا