پاکستان دہشتگردوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i272844-پاکستان_دہشتگردوں_سے_ڈٹ_کر_مقابلہ_کرے
پاکستان کے تاریخی شہر لاھور میں امن و صلح کانفرنس ایک ایسا مناسب موقع تھا جس میں شیعہ مسلمانوں اور اھل سنت کے علماء نے ایک بار پھر دہشتگردی کی مذمت کی اور اسے حرام قراردیا۔علماء اسلام نے کہا کہ شیعہ اور اھل سنت  مسلمانوں کے خلاف حملوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۲۲, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۲ Asia/Tehran
  • پاکستان دہشتگردوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرے

پاکستان کے تاریخی شہر لاھور میں امن و صلح کانفرنس ایک ایسا مناسب موقع تھا جس میں شیعہ مسلمانوں اور اھل سنت کے علماء نے ایک بار پھر دہشتگردی کی مذمت کی اور اسے حرام قراردیا۔علماء اسلام نے کہا کہ شیعہ اور اھل سنت  مسلمانوں کے خلاف حملوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

پاکستان کے تاریخی شہر لاھور میں امن و صلح کانفرنس ایک ایسا مناسب موقع تھا جس میں شیعہ مسلمانوں اور اھل سنت کے علماء نے ایک بار پھر دہشتگردی کی مذمت کی اور اسے حرام قراردیا۔علماء اسلام نے کہا کہ شیعہ اور اھل سنت  مسلمانوں کے خلاف حملوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اھل سنت اور شیعہ علماء نے کہا ہے کہ کوئی بھی دین اور مذہب بے گناہ عوام کے قتل عام کو جائز نہیں سمجھتا ہےاور جو لوگ دین اور مذہب کے نام عوام کا قتل عام کرتے ہیں وہ دہشتگرد ہیں اور اپنے ان اقدامات سے اسلام کی شبیہ بگاڑ کر پیش کررہے ہیں۔لاھور کانفرنس میں علماء شیعہ اور اھل سنت نے کہا کہ اسلام دین امن و آشتی ہے اور اسلام میں انتہا پسندی اور دہشتگردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس امر کے پیش نظر کہ تکفیری دہشتگرد اسلامی تعلیمات کے بہانے لوگوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور ان مظالم کا وہابیت کے مطابق جواز فراہم کرتے ہیں لھذا علماء شیعہ اور اھل سنت کی طرف سے اس کی مذمت کیا جانا نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے انتہا پسند اور دہشتگردگروہوں کو حقیقی اسلام سے الگ کردیا جاتا ہے اور عوام بالخصوص نوجوان طبقے کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے جال میں پھنسے سے دور رکھتا ہے۔ پاکستان کے حالات پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں شیعہ مسلمان اور اھل سنت ہمیشہ سے پرامن زندگی گذارتے آئے ہیں۔ اور اپنے ملک کی ترقی کے لئے دونوں نے ہی مل کر کام کیا ہے۔ لیکن تقریبا تین دہائیوں پہلے سے سعودی عرب کی حمایت میں تکفیری اور وہابی دہشتگردوں کو مضبوط بنائے جانے کے بعد پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشتگردی بھی آگئی۔ دہشتگرد اور فرقہ وارانہ گروہ جیسے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی اور دینی مدارس کو سعودی عرب نے  پاکستان میں وجود بخشا۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی نے دینی مدارس کے ہمراہ پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشتگردی  پھیلانے میں بڑا ہی گھناونا کردار ادا کیا ہے۔اس مثلث کو سعودی عرب کی مدد حاصل تھی۔ البتہ پاکستانی حکومت اور فوج سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنے میں جو تحفظات رکھتی ہے اسی وجہ سے وہ وہابیوں کے زیر سرپرستی دینی مدارس کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی ہے لیکن ہمیشہ ان گروہوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کے وعدے ضرور کرتی ہے شاید یہی وجہ ہے تکفیری دہشتگرد گروہ آج بھی پاکستان میں دنداتے پھر رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان میں سیاسی اورمذہبی حلقے قوم کو تکفیری دہشتگردوں اور وہابیوں کی مذموم سازشوں سے آگاہ کرنے نیز اتحاد و ہمدلی کی  ترغیب دلانے میں مستقل اور آزاد علماء کے کردار کو نہایت اہم قراردیتے ہیں۔شیعہ اور سنی علماء کو اسلام کے نام پر دہشتگرانہ کاروائیاں انجام دینے کو حرام قراردیتے ہیں وہ کسی بھی طرح سے دہشتگرد گروہوں اور دینی مدارس کی سرپرستی کرنے میں ہرگز ملوث نہیں ہیں۔ پاکستان کے عوام کواپنے حکومت اور فوج سے یہ توقع ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے کے مطالبات کا احترام کرتے ہوئے ان دینی مدرسوں کے خلاف سخت اقدام کرے گی جو فرقہ واریت اور دہشتگردی کو رواج دیتے ہیں اور دہشتگردوں اور فرقہ وارانہ گروہوں کو افرادی قوت فراہم کرنے والے مراکز کا کام کرتے ہیں۔پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کے جاری رہنے  اور ان کے بھیانک نتائج سے پائی جانے والی تشویش اس قدر زیادہ ہے کہ حال میں صوبہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر بسم اللہ خان کاکڑ نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے حملوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ادھر جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلام امن و صلح و برادری کا دین ہے اور یہ مغربی اور صیہونی ممالک ہیں جو دہشتگردوں اور فرقہ پسند عناصر کو استعمال کرکے اسلام کو انتہا پسند دین  کی حیثیت سے اس کا چہرہ مسخ کرکے پیش کرتے ہیں لھذا پاکستان میں حکومت اور فوج کے کندھوں پر بڑی سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشتگردانہ افکار اور گروہوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔