صہیونی حکومت سے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی نفرت
انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے ، صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کو لے جانے والے ہوائی جہاز کو اپنے ملک کی فضا سے عبور کرنے کی اجازت نہ دینے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صیہونیوں کے باطل خیالات کے باوجود ، اسلامی ممالک بدستور اس جارح اور غاصب حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کر رہے ہیں اور صہیونی حکومت مکمل طور پر گوشہ نشیں ہوچکی ہے-
صیہونی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے یہ ظاہر کرنے کے لئے اسرائیل عالمی سطح پر گوشہ نشیں نہیں ہوا ہے ، سب سے پہلے جنوب مشرقی ایشیا کے ملک سنگاپور کا دورہ کیا اور پھر وہاں سے آسٹریلیا جانے کے لئے انڈونیشیا کی حکومت سے اجازت مانگی کہ ان کے طیارے کو اپنی فضا سے عبور کرنے کی اجازت دے تاہم جکارتہ حکومت نے اس کی مخالفت کردی- واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی نتنیاہو نے انڈونیشیا کی حکومت سے تعلقات برقرار کرنے کی کوشش کی تھی جسے جکارتہ حکومت نے مسترد کردیا تھا لیکن ایک بار پھر نتنیاہو نے انڈونیشیا کی فضا سے اپنے طیارے کے عبور کرنے کی اجازت مانگی تاہم جکارتہ نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صیہونیوں کی اس درخواست کو بھی مسترد کردیا - انڈونیشیا کی حکومت کا یہ موقف ، فلسطینی عوام کی نئی انتفاضہ قدس کے پیش نظر کہ جس نے صیہونیوں کی سیاسی زندگی کو لرزہ براندام کردیا ہے، نتنیاہو کے لئے ایک کاری ضرب شمار ہوتا ہے- انڈونیشیا ایک گھنی آبادی والا اسلامی ملک ہے کہ جو بدستور صیہونی حکومت کا مخالف اور فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کر رہا ہے- اگرچہ بعض عرب ملکوں کے حکام فلسطینی عوام کی امنگوں اور ان کے اہداف کو نظر انداز کرکے فلسطینیوں کے خلاف چال چل رہے ہیں، لیکن دنیا کے حریت پسند مسلمانوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی بھی طور پر صہیونیوں کے وجود کو تسلیم نہیں کریں گے-
انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نتنیاہو کے طیارے کو اپنے ملک کی فضا سے عبورکرنے کی اجازت نہ دینے کے موقع پر، انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد صالح نے، انتفاضہ فلسطین کی حمایت سے متعلق تہران میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا ہے کہ اگرچہ فلسطین سے انڈونیشیا کے درمیان ہزاروں کیلو میٹر کا فاصلہ ہے لیکن ہم ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی اور ہمدردی کا اعلان کرتے رہیں گے اوربھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے لئے اپنی حمایت جاری رکھیں گے-
ناوابستہ تحریک میں انڈونیشیا کی پوزیشن کی اہمیت کے پیش نظر، قدس کی غاصب حکومت جکارتہ کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کے ساتھ ہی اس تحریک کو فلسطین کے مسئلے میں ناکامی سے دوچار کرنے کے درپے ہے لیکن ابھی تک اسے اس میں کامیابی نہیں مل سکی ہے - جنوب مشرقی ایشیا کے دوسرے اہم اسلامی ملک کی حیثیت سے، ملیشیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر امین مولیا کا دورہ تہران اور انتفاضہ فلسطین کی حمایت سے متعلق تہران میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی کانفرنس میں ان کی شرکت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فلسطین کے مسئلے میں اسلامی ملکوں کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی صیہونیوں کی کوششیں نہ صرف ناکام ہوئی ہیں بلکہ اسلامی ممالک بدستور صیہونی حکومت کو ریاستی دہشت گردی کا مظہر اورعالمی امن کو نیست و نابود کرنے اور دنیا میں بدامنی پھیلانے کا عامل قرار دیتے ہیں-
ان حقائق کے پیش نظر اور فلسطینی عوام کے خلاف صیہونیوں کے روزافزوں مظالم اور جارحیتیں جاری رہنے سے اس امرکی نشاندہی ہوتی ہے کہ عالمی رائے عامہ بھی صیہونیوں کی شدت سے مخالف ہے- صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر سیڈنی میں وسیع پیمانے پرمخالفتیں اس سلسلے میں غور طلب ہیں- آیرلینڈ کی ڈوبلین یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے تیرینیٹی اکیڈمی میں صیہونی وزیر اعظم کی تقریر کی مخالفت، کہ جو اس تقریر کے منسوخ ہونے کا باعث بنی ، سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ صیہونیوں کی مخالفت صرف مسلمان ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہر حریت پسند اور وہ افراد جو صیہونی حکومت کی ریاستی دہشت گردی کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ، وہ چاہے جہاں کہیں بھی ہوں ، صیہونیوں سے مقابلہ کر رہے ہیں- اور یہ صورتحال ماضی سے زیادہ فلسطینی عوام کی تقویت کا باعث بنی ہے اور تحریک انتفاضہ اور صیہونی حکومت کی گوشہ نشینی یہ دونوں چیزیں بدستور اس غاصب حکومت کے لئے ڈراؤںا خواب بنی ہوئی ہیں-