ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹیں؛ ایک تیر سے دو نشانہ
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں، جو دنیا میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق تیار کی گئی ہے، بعض ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کا ذکر کیا ہے اور ایران کو بھی نشانہ بنایا ہے-
اس رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ ایران میں حکومت پر تنقید کرنے والوں پر مبہم اور خود ساختہ الزامات عائد کرکے ان کے خلاف عدالتی کاروائی کی جاتی اور ان کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے- ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دعوے کے مطابق ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، خبریں سنسر کی جاتیں اور مخالفین کو جیلوں میں ایذائیں دی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ برا سلوک روا رکھا جاتا ہے - اس رپورٹ میں اسی طرح ایران کی عدالتوں کے خودمختار نہ ہونے کا بھی الزام عائد کیا ہے- البتہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی جامع رپورٹ میں دنیا کے مختلف ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق بعض ملکوں منجملہ یمن میں سعودی عرب کی جارحیتوں اور دیگر مسائل کا بھی ذکرکیا ہے - ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے لئے ہتھیاربھیجے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر روک لگائے جانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان ہتھیاروں کو جنگی جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے- در حقیقت ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے اس سمجھے بوجھے اقدام کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ ایک تیر سے دو نشانے کی پالیسی اختیار کرے-
یعنی جہاں اس ادارے نے انسانی حقوق کی حقیقی خلاف ورزی کرنے والے بعض ملکوں کا ذکر کیا ہے وہیں اس فہرست میں ایران کا نام بھی شامل کرلیا ہے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کے نقطہ نظر سے ایرانو فوبیا کے سناریو کی تکمیل کرے- ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے اس نقطہ نگاہ کے ذریعے درحقیقت ایران مخالف انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹر کی خود ساختہ رپورٹوں کی توثیق کردی ہے- جبکہ ایران کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل جو دعوے کئے ہیں ان کا ، سعودی عرب ، بحرین اور یا یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، کسی طوربھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا- بہت سے انسانی حقوق کے دعویدار مغربی ممالک منجملہ امریکہ، کینیڈا ، فرانس اور برطانیہ ، مقامی افراد کے حقوق کی، جو اس سرزمین کے اصلی مالک ہیں، آشکارہ خلاف ورزی کر رہے ہیں- لاکھوں انسان امریکہ ، یورپ اور کینیڈا میں امتیازی سلوک سے دوچار ہیں جو انسانی حقوق سے محروم ہیں اور ان کے ساتھ نسل پرستانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے-
انسانی حقوق کے جھوٹے دعویدار ملکوں کی نظر میں انسانی حقوق کا مسئلہ درحقیقت خود مختار ملکوں کے خلاف دباؤ ڈالنے کے ایک ہتھکنڈے میں تبدیل ہوچکا ہے- مغربی ممالک جسے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نام دے رہے ہیں اور اس کی بابت اپنی تشویش بھی ظاہر کر رہے ہیں، درحقیقت ان کی یہ تشویش ان جعلی رپورٹوں کی بنیاد پر ہے جو اکثر و بیشتر اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے توسط سے ان تک منتقل ہوتی ہیں- واضح ہے کہ اس طرح کہ رپورٹوں کا مقصد ایرانو فوبیا کو ہوا دینا ہے - بہرصورت انسانی حقوق کے مسئلے کوعالمی حیثیت حاصل ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی اقدام کے لئے دوہرے معیار کو بالائے طاق رکھنا پڑے گا- چنانچہ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ اور اس کی کارکردگی کے مدنظر، اس ادارے کی جانب سے انسانی حقوق کے بارے میں حقائق کا پیش کیا جانا خود جائے سوال ہے- انسانی حقوق کا مسئلہ اسی وقت انسانی اقدار کی ارتقاء میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جب عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور انسانی حقوق کے سلسلے میں دوہرے معیار کی پالیسی اپنائی نہ جائے-