ایران گروپ ستتّر کا سربراہ مقرر
اقوام متحدہ کی جانب سے ایران کو گروپ ستتّر کا سربراہ بنائے جانے سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہےکہ ایران بین الاقوامی سطح پر مؤثر اور سرگرم کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں کا حامل ہے۔
ویانا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں جمعے کے دن انجام پانے والی تقریب میں اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب رضا نجفی کو ایک سال کے لئے گروپ ستتّر کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اس تقریب میں ویانا میں تعینات مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہ اور بعض ممالک کے سفیر اور نمائندے شریک تھے۔ اس سے قبل سنہ 2001 میں بھی گروپ ستتّر کی سربراہی ایران کے پاس تھی۔
گروپ ستتّر کو 15 جون سنہ 1964 میں 77 ترقی پذیر ممالک نے سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں تشکیل دیا۔ اس کی تشکیل کا مقصد بین الاقوامی سطح پر اقتصادی موضوعات اور ترقی کا سلسلہ آگے بڑھانا تھا۔ اس وقت اس گروپ کے ایک سو چونتیس ارکان ہیں اور یہ ترقی پذیر ممالک کا سب سے بڑا گروپ اور ترقی کے شعبے میں اقوام متحدہ کے مذاکرات میں اہم اور موثر گروپ شمار ہوتا ہے۔ البتہ تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس کو اب بھی گروپ ستتّر ہی کہا جاتا ہے۔
ایران پر خصوصا حالیہ ایک عشرے کے دوران پرامن ایٹمی پروگرام میں رکاوٹیں ڈالےجانے سمیت مختلف بہانوں سے بین الاقوامی سطح پر سیاسی دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ جس میں اقتصادی بائیکاٹ بھی شامل تھا۔ امریکہ اور بعض یورپی ممالک نے ان تمام برسوں کے دوران علاقائی اورعالمی سطح پر ایران کے لئے مشکلات کھڑی کرنےکی بہت کوشش کی تاکہ ایران بالکل الگ تھلگ ہو کر رہ جائے۔ بعض بین الاقوامی تنظیموں میں ایران کی شمولیت کی امریکہ کی جانب سے اسی تناظر میں مخالفت کی گئی۔ ان میں اقوام متحدہ کے آبادیاتی فنڈ (UNFPA)، ترقی کے پروگرام پر عملدرآمد کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی سربراہی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے متعلق انتخابات کے دوران رکاوٹیں کھڑی کیا جانا شامل ہے لیکن ان تمام تر رکاوٹوں کے باوجود ایران نے ای سی او اور ڈی ایٹ میں اہم اور موثر کردار ادا کر کے اور ناوابستہ ممالک کی تنظیم کی موثر سربراہی کر کے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران ناوابستہ ممالک کی تنظیم جیسے عظیم اداروں کی موثر سربراہی کے ذریعے عالمی امن و سلامتی کی تقویت اور پائیدار ترقی کے مقصد سے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے سلسلے میں اپنے نظریات کا تعمیری ہونا ثابت کر چکا ہے۔ گروپ ستتّر کی سربراہی بھی اس کردار کو جاری رکھنے کا ایک نیا موقع ہے۔ گروپ ستتّر اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ذیلی سیاسی ادارہ ہے۔ یہ گروپ رکن ممالک کے درمیان تکنیکی اور اقتصادی تعاون میں اضافے اور اقتصادی مسائل کے سلسلے میں اقوام متحدہ میں ان ممالک کے مذاکرات کی طاقت بڑھانے، ان کے مفادات کی سطح بلند کرنے اور ان کو بیان کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔ ایران اس زاویے سے بین الاقوامی اداروں اور اجلاسوں کے دوران اپنے تجربات سے فائدہ اٹھا کر بین الاقوامی مسائل اور باہمی تعاون کے سلسلے میں اس گروہ کے اہداف کے لئے اپنی سربراہی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرگرم سفارت کاری کے ایک اور میدان میں تبدیل کر سکتا ہے۔