چین دنیا کی قیادت حاصل کرنے کے لئےکوشاں
دنیا کی قیادت حاصل کرنے پر مبنی چین کے صدر شی جین پنگ کے واضح بیانات امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی کے بالکل خلاف ہیں۔
چین کے صدر اور کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل شی جین پنگ نے پہلی مرتبہ کہا ہے کہ دنیا کی قیادت نئے نظام کے ساتھ کی جانی چاہئے اور چین دنیا کے اس نظام کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔ چین کے صدر نے پارٹی اسکول میں تقریر کرتے ہوئے مزید کہا کہ چین ایک نیا عالمی نظام قائم کرنے، اس کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے اور دنیا کی سلامتی کا تحفظ کرنے کے لئے تیار ہے۔ دو عشروں سے زیادہ عرصے سے چین چند بلاکی نظام کی تشکیل کا دفاع کرتا چلا آ رہا ہے۔
چین کے صدر نے تجارتی تعلقات کے زیادہ آزاد اور عالمگیر ہونے پر بھی تاکید کی ہے۔ ان کا خیال ہےکہ کوئی بھی ملک سرد جنگ کے زمانے میں واپس لوٹنے اور امریکہ کی سرپرستی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایک اور زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو دنیا کے ایک سو پچاس سے زیادہ ممالک کے ساتھ چین کے سفارتی تعلقات قائم ہیں اور بیجنگ نے امریکہ کے برخلاف باہمی تعاون کے لئے کوئی شرط مقررنہیں کی ہے۔ چین نے تین عشروں سے زیادہ عرصےسے جو قدم اٹھایا ہے اس کی وجہ سے بیجنگ کے ساتھ باہمی تعاون کے سلسلے میں دنیا کے ممالک کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ چین پوری طاقت کے ساتھ بین الاقوامی منظر میں ظاہر ہوا ہے۔ اس ملک کا اقتصاد ایشیا بلکہ بعض مواقع پر دنیا کی اقتصادی ترقی کا سبب بنا ہے۔ چین کے سامان نے امریکہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب چین نے اپنی فوج کو جدید ترین بنانے کے لئے متعدد اور مفصل پروگراموں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ چین عالمی سفارت کاری اور معیشت میں بھی تدریجا سرگرم کردار ادا کرنے لگا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہےکہ بیدار ہونے والا یہ اژدہا دوسری دنیا کو کس آنکھ سے دیکھتا ہے؟ ان پیرامیٹرز کے علاوہ جغرافیہ اور آبادی بھی چین کے لئے بہت موثر عناصر شمار ہوتے ہیں۔
طاقت کی بنیاد پر عالمی نظم کی مینیجمنٹ ہمیشہ سے عالمی حالات میں اہم کردار ادا کرنے والوں کے پیش نظر رہی ہے۔ اس تناظر میں دوبلاکی نظام قائم ہوا۔ اور مشرقی بلاک کا شیرازہ بکھرنے کے بعد امریکی حکام نے دنیا پر بلاشرکت غیرے اپنی حکمرانی کی بات کی۔ اور اسی پالیسی کو آگے بڑھاتے رہے۔ البتہ دوسرے حریفوں کی موجودگی کی وجہ سے امریکی حکام اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اب بین الاقوامی نظام کی سطح پرایسی طاقتیں منظر عام پر آچکی ہیں جو امریکہ کے عالمی تسلط کو برداشت نہیں کرتی ہیں۔ اقتصادی میدان میں چین جیسی طاقتیں اور یورپی یونین یا بریکس جیسے یونینیں عالمی معاملات میں زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے کی علمبردار ہیں۔ برطانوی جیوپالیٹیشن (geopolitician) سر ہلفورڈ مکینڈر کا کہنا ہے کہ کسی ملک کا رقبہ جتنا زیادہ ہوتا ہے اس ملک تہذیبی طاقت کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی اور اقتصادی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بنابریں چین اس طرح کی خصوصیات کی وجہ سے اپنے آس پاس موجود سمندروں پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکتاہے۔ یہ سمندری طاقت درحقیقت عالمی اسٹریٹیجی کی کنجی شمار ہوتی ہے۔ امریکی صدور کم از کم سنہ 1979 سے اس بات کا اعتراف کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ایک حریف کے طور پر چین قابل احترام ہے اور ایک مخالف کے طور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے اور ایک شریک کے طور پر یہ ایک اچھا ساتھی ثابت ہوسکتا ہے۔