افغانستان میں خشخاش کی کاشت میں اضافہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i273348-افغانستان_میں_خشخاش_کی_کاشت_میں_اضافہ
افغانستان میں خشخاش کی کاشت اور پیداوار میں اضافے کی بنا پر داخلی اور عالمی سطح پر تشویشوں کے بڑھنے کے بعد اس ملک کی وزیر برائے انسداد منشیات نے کہا ہے کہ افغانستان کی سیکورٹی کونسل نے تمام صوبوں میں خشخاش کے کھیتوں کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۲۶, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۳ Asia/Tehran
  • افغانستان میں خشخاش کی کاشت میں اضافہ

افغانستان میں خشخاش کی کاشت اور پیداوار میں اضافے کی بنا پر داخلی اور عالمی سطح پر تشویشوں کے بڑھنے کے بعد اس ملک کی وزیر برائے انسداد منشیات نے کہا ہے کہ افغانستان کی سیکورٹی کونسل نے تمام صوبوں میں خشخاش کے کھیتوں کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

سلامت عظیمی نے انسداد منشیات کی نشست میں اعلان کیا کہ ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گورنروں اور پولیس کی مدد سے خشخاش کے کھیتوں کو تباہ کرنے کی کارروائی شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی برادری نے منشیات کو تباہ کرنے کے لئے افغانستان کی مدد کی ہے لیکن اب بھی یہ لعنت افغانستان کے عوام اور ساری دنیا کی سماجی سیکورٹی کے لئے خطرہ شمار ہوتی ہے۔ افغانستان میں عرصے سے منشیات کی کاشت ہوتی آرہی ہے اور یہ، انتہا پسند اور دہشتگردوں کی آمدنی کا بہترین ذریعہ جبکہ افغان حکومت کے لئے ایک بڑی مشکل شمار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے سن دوہزار ایک میں طالبان کی حکومت کی سرنگونی کے بعد جرمنی میں بون کانفرنس کے بعد برطانیہ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ ہمہ گیر طریقے سے افغانستان میں منشیات کا مقابلہ کرے۔ اسی وجہ سے برطانوی فوجیوں کو صوبہ ہلمند میں تعینات کیا گیا تھا کیونکہ اسی صوبے میں منشیات کی کاشت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ برطانیہ اور دیگر بیرونی افواج نے عملی طور پر افغانستان میں منشیات کی مافیا کا مقابلہ نہیں کیا جس کی وجہ سے اس ملک  میں منشیات کی پیداوار میں اضافہ ہوتا رہا۔ واضح رہے کہ بیرونی افواج پر، جن میں برطانوی فوج بھی شامل ہے، یہ الزام ہے کہ وہ منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں افغانستان میں خشخاش اور دیگر منشیات کی کاشت داخلی اورعالمی سطح پر ایک اہم چیلنج بن گئي ہے۔ ہلمند صوبے پر قبضہ کرنے کے لئے  دہشتگردوں اور تشدد پسند گروہوں کے درمیان جھڑپوں کا سبب بھی یہی ہے کہ اس علاقے میں سب سے زیادہ خشخاش کی کاشت ہوتی ہے۔ دہشتگرد گروہ منشیات کو فروخت کرکے اپنی مالی ضرورتیں پوری کرتے ہیں اوریہ بھی حکومت افغانستان کی ایک مشکل ہے، مستزاد یہ کہ افغان عوام روز بروز منشیات کی لت میں گرفتار ہوتے جارہے ہیں۔ افغانستان کی وزیر برائے انسداد منشیات سلامت عظیمی کے مطابق تیس لاکھ سے زائد افغان باشندے منشیات کے عادی ہیں اور یہ افراد حکومت افغانستان کے لئے سماجی اور سیکورٹی کے لحاظ سے ایک بڑی مشکل بن چکے ہیں۔ منشیات سے مقابلے کے سلسلے میں علاقائی اور عالمی سطح پر افغان حکومت پر الزام ہے کہ اس نے انسداد منشیات کے لئے جو کام کئے ہیں وہ کافی نہیں ہیں۔ لہذا حکومت کابل نے خشخاش کے کھیتوں کو تباہ کرنے کا حکم جاری کرکے ایک طرف تو یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس مسئلے سے غافل نہیں ہے اور دوسری طرف وہ انتہا پسند اوردہشتگرد گروہوں کی آمدنی کے ذریعہ کو بھی تباہ کرنا چاہتی ہے۔ افغانستان میں بہت سے حلقے اس نظریے کے قائل ہیں کہ اگر منشیات کی پیداوار بند کردی جائے تو افغانستان کی بہت سی مشکلات حل ہوجائیں گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد خشحاش کی جگہ پر دیگر فصلیں اگانے کی تجویز پیش کی تھی تا کہ کسانوں کی آمدنی بھی ہوتی رہے اور عوام کی ضرورت کی چیزیں بھی فراہم ہوسکیں۔ اس کے باوجود سلامت عظیمی کا کہنا ہے کہ خشخاش کی کاشت سے مقابلہ بالخصوص صنعتی منشیات سے مقابلے اور اسکی جگہ پر دیگر فصلوں کے اگانے کے لئے بیرونی امداد کی ضرورت ہے۔ عالمی حلقوں کے مطابق حکومت کابل کی جانب سے منشیات کی مافیا کے خلاف سخت اقدامات اور اس سلسلے میں اعتماد سازی سے عالمی برادری مزید امداد فراہم کرنے کو راضی ہوسکتی ہے۔