شام کے خلاف امریکی سازشیں جاری
وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ بعض ملکوں نے شام میں پرامن علاقے قائم کرنے کے سلسلے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کی حامی بھرلی ہے۔
شان اسپائسر نے کہاکہ امریکی حکومت نے شام میں پرامن علاقے قائم کرنے کے سلسلے میں بعض ملکوں سے اس کام کے لئے بجٹ فراہم کرنے کے وعدے لے لئے ہیں اور یہ مسئلہ اب امریکی وزارت خارجہ میں زیر غور ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض عرب حکام نے شام میں امریکہ کے اس خطرناک اقدام کا ساتھ دینے کی حامی بھرلی ہے۔
شام میں ممنوعہ علاقے قائم کرنے سے امریکی صدر کا ہدف دہشتگردوں کے لئے پرامن علاقے قائم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی حلقوں نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ یک طرفہ اور کثیر فریقی آپشن منجملہ فوجی آپشن، انٹیلیجنس اور اقتصادی تعاون کی راہوں کا جائزہ لے رہی ہے تا کہ شام میں جنگ کی صورت میں ان مسائل سے نمٹا جا سکے۔ دہشتگردوں کو مزید ہتھیار فراہم کرنا اور ان کے لئے پرامن علاقے بنانا امریکہ کا بنیادی ہدف ہے۔ نام نہاد پرامن علاقے بنانے سے امریکہ کے ہاتھوں شام کو ٹکڑے کرنے کی سازشوں پر عمل کرنے کا ہتھکنڈا لگ جائے گا۔ شام کے خلاف سازشوں کو اس خطے کو ٹکڑے کرنے کی مغرب کی سازشوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ حیرت کی بات یہ ہے خلیج فارس کے عرب ممالک امریکہ کی ان سازشوں کے لئے مالی بجٹ فراہم کررہے ہیں۔ دہشگردوں کے لئے بے پناہ رقم فراہم کرنے اور امریکہ کی سازشوں پر عمل درآمد کرنے سے یہ ممالک شدید اقتصادی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک امریکی سازشوں کے ہمنوا بن کر سقوط کے دہانے تک جا پہنچےہیں۔
شام کی حکومت کے مخالفین کے اقدامات اور سازشیں شام کے اقتدار اعلی کے لئے بھرپور خطرہ شمار ہوتی ہیں۔ اس مسئلے سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شام کی حکومت کے مخالفین کی سازشوں اور اقدامات سے شام کا شیرازہ بکھرجائے گا۔ شام کی رائے عامہ نے مخالفین کے اس موقف پر کڑی تنقید کی ہے۔ شام میں نام نہاد پرامن علاقے قائم کرنے پر امریکی صدر کا اصرار جاری ہے اور یہ ایسا منصوبہ ہے جو مختلف زاویوں سے ناقابل عمل ہے اورعملی طور پر شام کے بحران کو حل کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوگا۔ شام کو اس وقت سیاسی راہوں کی ضرروت سے جن سے پورے ملک میں امن قائم ہوسکے اور جب تک عالمی برادری دہشتگردی کو نابود کرنے کے لئے شام کی بھرپور مدد نہیں کرتی تب تک یہ بات ممکن نہں ہے۔ شام کے خلاف امریکہ کے منصوبے منجملہ شام میں پرامن علاقے بنانے کے منصوبے نہ صرف علاقے اور دنیا میں امن قائم کرنے میں مدد نہیں کریں گے بلکہ امریکہ کے عوام فریبانہ اور مذموم اہداف کے پیش نظر مختلف علاقوں بالخصوص دہشتگردوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بدامنی میں شدت کا سبب بنیں گے۔
امریکہ شام میں نام نہاد پرامن علاقے قائم کرنے کے بہانے صرف اور صرف دہشتگردوں کی پوزیشن مضبوط بنانے اور ان کے خلاف جاری کاروائیوں میں وقفہ لانے کے درپے ہے۔