ولایت پچانوے بحری مشقوں کا آخری مرحلہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کی ولایت پچانوے نامی فوجی مشقوں کا آخری مرحلہ اتوار کوبحریہ کے سربراہ کی موجودگی میں شروع ہوا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے سربراہ ایڈمیرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ ولایت پچانوے بحری مشقیں علاقے کے ملکوں کو ایران کی جانب سے امن اور دوستیکا پیغام دیتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان فوجی مشقوں کا ہدف دفاعی توانائیوں کو بڑھانا، علاقے میں سیکورٹی کی سطح بہتربنانا اور سمندری دہشتگردی سے مقابلہ کرنا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے دفاعی شعبوں میں بڑے بڑے قدم اٹھائے ہیں کیونکہ اسے اپنے اطراف شدید خطرے لاحق ہیں۔ امریکہ علاقے میں جارحانہ اہداف کے تحت مسلسل مشترکہ فوجی مشقیں کررہا ہے اور ان میں سے بعض فوجی مشقیں بعض عرب ملکوں کے منصوبوں کے تحت انجام پارہی ہیں۔ امریکہ دعوی کرتا ہے کہ علاقے کے سمندروں میں ایران کی فوجی مشقیں کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ دعوے امریکی اور برطانوی حکام کے علاقے کے دوروں کے ہمراہ بڑھتے جارہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران ان پروپگنڈوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اور خطرات، دفاعی ضرورتوں اور ترجیحات کے پیش نظراپنا دفاعی ڈاکٹرائن بناتا ہے اور اس طرح اپنی ڈیٹرینٹ طاقت کو منظم کرتا ہے۔ ایران کی یہ اسٹریٹیجی علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور کسی بھی ملک کی ممکنہ جارحیت اور مہم جوئی کو روکنے کے لئے ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلی ترین سطح پر بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ علاقے میں سیکیورٹی کی برقراری کے لئے باہمی اتحاد پر یقین رکھتا ہے لہذا ایران کی دفاعی طاقت نہ صرف علاقے کے امن و سلامتی سے تضاد نہیں رکھتی بلکہ علاقے کے لئے ضروری بھی ہے۔ اس اصول پر تاکید کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ولایت پچانوے بحری مشقیں آبی سرحدوں کے دفاع، بحری قزاقوں اور دہشتگردی سے مقابلے اور علاقے کے ملکوں کو امن و دوستی کا پیغام بھیجنے کےمقصد سے انجام پارہی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری فوج کو مقدس دفاع کے دوران گرانقدر تجربے حاصل ہوئے ہیں اور وہ اپنی اعلی توانائیوں اور صلاحیتوں کے سہارے ایک اسٹریٹیجک فوج بن گئی ہے۔ ایران کی بحریہ بحری لحاظ سے جیو اسٹریٹیجک علاقوں میں پہنچ کر خلیج فارس میں آبی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے بحیرہ عمان اور بحر ہند میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں ایران کے بڑے لمبے ساحل ہیں اور ایران ان ساحلوں پر امن قائم رکھنے کی اہمیت سے واقف ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ نے بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی بنائے رکھنے اور بحران کے موقع پر ممکنہ خطرات کو کم سے کم کرنے کے لئے خلیج فارس اور بحیرہ عمان سے ہٹ کر ایران کی آبی سرحدوں کی حفاظت شروع کردی ہے۔ ان اقدامات سے اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام قائم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔