چین کا امریکہ کو سخت انتباہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i273492-چین_کا_امریکہ_کو_سخت_انتباہ
بیجنگ سے شائع ہونے والے  اخبار گلوبل ٹائمز نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی چین کا سمندر کیریبین سمندر نہیں ہے اور زرد اژدھوں کو رام نہیں کیا جاسکتا۔
(last modified 2026-07-27T14:26:43+00:00 )
Feb ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۵ Asia/Tehran
  • چین کا امریکہ کو سخت انتباہ

بیجنگ سے شائع ہونے والے  اخبار گلوبل ٹائمز نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی چین کا سمندر کیریبین سمندر نہیں ہے اور زرد اژدھوں کو رام نہیں کیا جاسکتا۔

امریکہ اور تھائی لینڈ کی فوجوں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران تھائی لینڈ کے جنگلی علاقوں میں مشترکہ فوجی مشقیں انجام دی ہیں اور ان مشقوں کا نام گولڈ کوبرا رکھا ہے۔ ان فوجی مشقوں میں بری اور بحری فوجیں، ٹینک چھاتہ بردار فوجی اور ہیلی کاپٹر گن شپ شریک تھے اور انہوں نے ایک حقیقی جنگ کا نقشہ پیش کردیا ۔ یہ فوجی مشقیں ایسے عالم میں انجام پائی ہیں کہ امریکی طیارہ بردار بیڑا یو ایس ایس کارل وینسن ، گشت زنی کے لئے جنوبی چینی سمندر میں پہنچا ہے۔ چین، جنوبی چینی سمندر کے تمام علاقے پر مالکیت کا دعوی کرتا ہے اور دیگر ملکوں جیسے ویتنام، فلپائن، تائیوان، ملیشیا اور برونئی کے مالکیت کے دعووں کو مسترد کرتا ہے۔

جنوبی چینی سمندر اس بات کا سبب بنا ہے کہ امریکہ ، چین اور علاقے کے دیگر ملکوں کے درمیان کشیدگی پھیل گئی ہے - یہ ممالک بعض تجارتی لائنوں اور معدنی ذخائر پر قبضہ کرنے کے درپے ہیں۔ ان حالات میں چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا ہے کہ چنوبی چین کا سمندر، کوئی کیریبین سمندر نہیں ہے کہ امریکہ اپنی گستاخانہ روش کو جاری رکھ سکے۔ ادھر امریکی جرنیلوں نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو جنگ ناگزیر ہوجائے گی۔ چین کے میڈیا نے، جو بیجنگ حکومت کی ترجمانی کرتا ہے، بالاتفاق لکھا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی فوج ہمیشہ آمادہ ہے تا کہ اپنے اقتدار اعلی اور اپنی قومی سرحدوں کا دفاع کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کے خلاف صدر ٹرمپ کی پالیسیاں بھی سابق صدر اوباماکی فوجی پالیسیوں سے تھوڑے سے فرق کے ساتھ ، وہی مشرق پر تمرکز کرنے کی اسٹریٹیجک پالیسیاں ہیں۔

اوباما نے کسی زمانے میں کہا تھا کہ ہم امن تک  پہنچنے کے لئے جنگ کریں گے اوراب ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ طاقت کے بل بوتے پر امن چاہتا ہے۔ بیجنگ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس طرح کے اقدامات اور ان پر مرتب ہونے والے اثرات سے کیا یہ واضح نہیں ہے کہ چین کو خطرے لاحق ہیں؟ لہذا واضح سی بات ہے کہ  امریکہ کی فوجی موجودگی جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور جنوبی ایشیا میں امریکہ کا اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں انجام دینا، چین کے خلاف شدید خطرہ ہیں۔ یہ کشیدگی ایسے عالم میں پیدا ہوئی ہے کہ گزشتہ بیس برسوں میں امریکہ کے لئے چین کی اہمیت بین الاقوامی نظام میں امریکہ کی اسٹریٹیجک پالیسیوں میں بڑھتی رہی ہے۔

بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے ناقابل پیشگوئی ہونے کی بناپر چین بہت تیزی سے اپنی بحریہ کو ترقی سے ہمکنار کردے گا۔ شاید چین کی نگاہ سے مبصرین کا یہ نظریہ صحیح نہ ہو تاہم چین چھے دہائیوں سے امریکہ کے امپیریلسٹک فلسفے سے آشنا ہے اور وہ امریکہ کے ہر اقدام کے تناسب سے ہی اپنے دفاع کے لئے قدم اٹھائے گا۔ مارچ کے مہینے میں چین کی پارلیمنٹ عوامی قومی گانگریس اپنا سالانہ اجلاس کرتی ہے اور اس نشست میں چین کے رہبر اور پولٹ بیورو کے ارکان کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اسی کانگریس میں اہم ترین فیصلے خاص طور پر امریکہ کی کارکردگی کے تعلق سے اہم فیصلے کئے جاتے ہیں۔