ایرانی فلم کو ملا آسکر ایوارڈ
امریکہ میں فلم اکیڈمی انعامات کے نواسیویں فنکشن میں ایرانی فلم فروشندہ یا سیلز مین کو بھی آسکر ایوارڈ دیا گیا۔ اس فلم کے ڈائریکٹر اصغر فرھادی ہیں۔ غیر انگریزی بیرونی فلم کی کیٹیگری میں ایرانی فلم فروشندہ کو سب سے اچھی فلم کا انعام دیا گیا۔اصغر فرھادی کا یہ دوسرا آسکر ایوارڈ ہے۔
فروشندہ یا سیلزمین نامی ایرانی فلم کے تکنیکی اور فلمی پہلووں سے قطع نظر ، کہ جو فلم آسکر کے جج پینل کی توجہ کا مرکز بنے، ہالیووڈ نے ایرانی فلم کو آسکر ایوارڈ دے کر واضح الفاظ میں ٹرمپ کی جانب سے اسلامی ملکوں کےباشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی پالیسی کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے اس ایگزیکیٹو آرڈر پر دستخط کئے جانے کے بعد فروشندہ نامی فلم کے ڈائریکٹر اصغر فرہادی اور اداکارہ ترانہ علی دوستی نے اعلان کیا کہ وہ ٹرمپ کے اینٹی امیگریشن آرڈر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکہ نہیں جائیں گے اور آسکر ایوارڈ فنکشن میں شرکت نہیں کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ان کا امریکہ جانا سات ملکوں بالخصوص ایران کے مسلمان باشندوں کےساتھ اظہار یکجہتی بھی ہے۔اصغر فرہادی نے دو افراد کو، جو ایرو اسپیس انڈسٹری میں نام کمانے میں کامیاب ہوئے ہیں، اپنا نمائندہ بنایا۔ یہ لوگ انوشہ انصاری اور فیروز نادری ہیں۔ انوشہ انصاری پہلی ایرانی خاتون ہیں جو خلا میں گئی تھیں اور فیروز نادری ناسا کے اعلی انجینیروں میں سے ہیں۔ انوشہ ایرانی نے آسکر ایوارڈ لینے کے بعد ایک متن پڑھ کر سنایا جس میں امریکی حکومت کی مہاجرت مخالف پالیسی کی مذمت کی گئی تھی۔ اس متن کا حاضرین نے تالیاں بجاکر خیرمقدم کیا۔
اگرچہ آسکر ایوارڈزمیں سیاست کا ہمیشہ دخل رہا ہے تاہم دوہزار سترہ کے آسکر ایوارڈز میں امریکہ میں آئیڈیالوجیکل شگاف اور وائٹ ہاوس اور ہالیووڈ کی صف آرائی دیکھی گئی۔ امریکہ کے لبرل دھڑے کو، کہ جو ہالی ووڈ میں بے پناہ اثر و رسوخ رکھتا ہے، ڈونالڈ ٹرمپ کے قدامت پسندانہ پروگراموں پر شدید تشویش لاحق ہے۔ چند نسلوں کی شراکت کے پروگرام کی نفی، قومیت اور مذہب کی بناپر تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی، سرحد پر حائل دیوار بنانے کا پروگرام اور مخالف میڈیا کو سرکوب کرنا ایسے اقدامات ہیں جن سے انتہا پسندانہ اور فسطائی رجحانات کے پنپنے کا اندیشہ ہے۔ اسی بنا پر آسکر فنکشن اس مرتبہ ایسے جلسے میں تبدیل ہوگیا جس نے ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں کو چیلنج کیا۔ مثال کے طورپر ججوں نے ایرانی فلم فروشندہ کو آسکر انعام دیا، اس فلم کے ڈائریکٹر کی طرف سے ٹرمپ حکومت کی امیگریشن پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی جس کا حاضرین نے تالیاں بجاکر خیرمقدم کیا۔ امریکہ کی سرحدوں سے باہر بھی ایرانی فلم فروشندہ ٹرمپ کی انتہا پسندانہ کرتوتوں پر تنقید کا بہانہ بنی۔ لاس اینجلس میں آسکر ایوارڈز کا فنکشن شروع ہونے سے کچھ گھنٹے قبل لندن کے ایک چوراہے پر ہزاروں لوگ فروشندہ فلم دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ لندن کے مسلمان میئر صادق خان نے اس فلم کو دکھائے جانے سے پہلے عوام سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔لندن میں بسنے والی تمام اقوام نے ایرانی فلم فروشندہ کی خوب پذیرائی کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نسل اور مذہب کی بنیاد پر غیر اصولی حدود اور دیوریں کھڑی کرنا دنیا کے کسی بھی کونے میں ناقابل قبول ہے۔
البتہ ٹرمپ کا امریکہ کا صدر بن جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان اعتراضات پر چندان توجہ نہیں کی جاتی اس کے باوجود نسلی مذہبی اور قومیتی امتیاز و تعصب کے خلاف عالمی تحریک کا مقابلہ کرنا جو کہ امریکی صدر کے اینٹی امیگریشن پروگرام کی بنا پر ظہور پذیر ہوئی ہے خود ٹرمپ کے لئے آسان نہ ہوگا۔