ترکی میں آئیںی اصلاحات کے ریفرینڈم کے لئے سرگرمیاں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i273510-ترکی_میں_آئیںی_اصلاحات_کے_ریفرینڈم_کے_لئے_سرگرمیاں
ترکی میں انصاف و عدالت پارٹی نے ملک کے آئین میں ترمیم کے لئے ریفرینڈم کے لئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔
(last modified 2026-07-27T14:26:43+00:00 )
Feb ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۰ Asia/Tehran
  • ترکی میں آئیںی اصلاحات کے ریفرینڈم کے لئے سرگرمیاں

ترکی میں انصاف و عدالت پارٹی نے ملک کے آئین میں ترمیم کے لئے ریفرینڈم کے لئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔

ترک وزیر اعظم بن علی ییلدریم نے انقرہ میں اپنی پارٹی کے حامیوں کے اجتماع میں کہا کہ نیا آئین بیوروکریسی کو کم کرنے اور ملک کے انتظام کو بہتر طریقے سے چلانے میں مدد گار واقع ہوگا۔ انصاف اور عدالت پارٹی کے علاوہ قومی تحریک نامی قوم پرست پارٹی جو کہ حزب اختلاف میں ہے وہ بھی ریفرینڈم کی حمایت کررہی ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ اس قوم پرست پارٹی کے سربراہ اور بعض عہدیداروں کی جانب سے ریفرینڈم کی حمایت کے باوجود دیگر شہروں سے ایسی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ اس پارٹی کے بہت سے حامی رجب طیب اردوغان کے مد نظرآئینی اصلاحات سے متفق نہیں ہیں اور وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ریفرینڈم کے حامی دھڑے کے مقابل ترکی کی عوامی جمہوری پارٹی ہے جو حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی ہے اور اس نے گزشتہ پیر سے آئین میں اصلاحات کی مخالفت میں سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔اس پارٹی نے اپنی سرگرمیاں ترکی کے بڑے شہروں میں شروع کردی ہیں۔ آئینی اصلاحات کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اردوغان ترکی کو ڈکٹیٹر شپ کے راستے پر لے جارہے ہیں ایسا راستہ جس کے خدو خال حالیہ برسوں بالخصوص گزشتہ چند مہینوں میں صدر اردوغان نے ترک قوم کے لئے واضح کردئے ہیں اور وہ اس پر گامزن بھی ہوچکے ہیں۔ دراصل ترک صدر کی موجودہ پالیسیاں جن میں مخالفین کو گرفتار کرنا، ڈرانا دھمکانا  اور مخالف سیاسی رہنماوں کو جیلوں میں ڈالنا شامل ہے، ان چیزوں کو اردوغان کی ذاتی پالیسیاں قراردینا چاہیے۔ سولہ اپریل کے ریفرینڈم میں رجب طیب اردوغان کی شکست کے بعد ظاہر سی بات ہے کہ علاقے میں امریکہ کی پالیسیوں کی شکست، بعض یورپی ملکوں کی پالیسیوں کی ناکامی، صیہونی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی  اور خلیج فارس کے بعض پسماندہ عرب ملکوں بالخصوص سعودی عرب اور قطر کی پالیسیوں کی ناکامی دیکھنے کو ملے گی۔ حقیقت امر یہ ہے کہ اردوغان کی حکومت ایسی جنگ کی فرنٹ لائن پر ہے جو بعض عرب حکومتوں کے سرمائے اور مغربی ملکوں کی منصوبہ بندی اور مشاورت سے جاری ہے۔حکومت انقرہ نے ترکی پر ایسی فضا حاکم کردی ہے کہ ریفرینڈم کے موقع پر عوام ایک طرح سے خوف و ہراس میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ ترک عوام ریفرینڈم کے حامی اور ریفرینڈم کے مخالف دھڑوں میں تقسیم ہوچکے ہیں اور اس سے ترک عوام کو شدید تشویش لاحق ہوچکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ترک عوام نہایت نامناسب حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ترکی میں آئین میں اصلاحات ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی لے آئیں گی اور ایک صدارتی نظام جس پر مکمل طرح سے ایک پارٹی کا قبضہ ہوگا وجود میں آجائے گا اور صدر کو وزیر اعظم کے تمام اختیارات مل جائیں گے۔ یہ اصلاحات، جن میں آئین کے اٹھارہ قوانین میں ترمیم کی جائے گی، ان کے لئے سولہ اپریل کو ریفرینڈم ہوگا۔ ترک پارلیمنٹ میں دو پارٹیوں کی جانب سے آئینی اصلاحات کی مخالفت کے باوجود بعض دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی پارلیمنٹ کے باہر آئینی اصلاحات کی مخالفت شروع کررکھی ہے۔ایک شخصیت جس نے آئینی اصلاحات کی مخالفت کی ہےاسلام پسند پارٹی سعادت پارٹی کے سابق صدر مصطفی کامالاک ہیں۔ انہوں نے ترکی کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔انہوں نے ایک ٹیلی فونی گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ صدارتی نظام میں ترکی کا عدالتی نظام غیر جانبدارانہ اور آزادانہ نہیں رہے گا ۔ مخالف پارٹیوں اور عوام کے اعتراضات کے باوجود یہ واضح نہیں ہے کہ ترک صدر کس کی حمایت سے سولہ اپریل کے ریفرینڈم میں جیتنے کی امید رکھتے ہیں۔