پاکستان: فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنےکا فیصلہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274028-پاکستان_فاٹا_کو_کے_پی_کے_میں_ضم_کرنےکا_فیصلہ
پاکستان کی وفاقی حکومت نے پسماندہ علاقوں پر توجہ دیتے ہوئے فاٹا اصلاحات سے متعلق سرتاج عزیز کی سر براہی میں بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کی اصولی طور پر منظوری دیدی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۳, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۴ Asia/Tehran
  • پاکستان: فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنےکا فیصلہ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پسماندہ علاقوں پر توجہ دیتے ہوئے فاٹا اصلاحات سے متعلق سرتاج عزیز کی سر براہی میں بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات کی اصولی طور پر منظوری دیدی ہے۔

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ منظوری جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پسماندہ علاقوں کی توجہ دینے اور ان علاقوں کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیاکہ فاٹا کے عوام کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے سے ان کی محرومیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پاکستان کے مشیر خارجہ امور اور فاٹا اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ فاٹا کے عوام اگلے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپنے نمائندے منتخب کرسکیں گے، ایف سی آر کو منسوخ کر کے رواج ایکٹ لایاجائیگا اور تمام آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل رواں سال تیس اپریل تک مکمل کیا جائے گا جبکہ تعمیر نو کی سرگرمیاں دو ہزار اٹھارہ تک مکمل ہوں گی۔ فاٹا کو پانچ سال کے اندر خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے لیے دیگر ترقیاتی، آئینی اور قانونی اصلاحات کی جائیں گی جس کیلئے پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم منظور کرائی جائے گی۔ این ایف سی میں فاٹا کا تین فیصدحصہ ہوگا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں کا انتظام اس ملک کی مرکزی حکومت کے پاس نہیں ہے ،ان علاقوں میں قبائلی سسٹم رائج ہے اور یہ علاقے پاکستان کے پسماندہ ترین علاقے شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں قبائلی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان علاقوں کا دہشت گرد گروہوں کے محفوظ مقامات میں تبدیل ہوجانے کے پیش نظر ہی امریکہ نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان علاقوں میں فوجی آپریشن کرے۔ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے منفی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت نے شروع میں اس علاقوں کے عمائدین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سیکورٹی کی صورتحال اپنے قابو میں لینے کی کوشش کی۔ لیکن امریکہ نے ان علاقوں میں خود آپریشن کرنے کی دھمکی دے ڈالی جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو ان علاقوں میں ضرب ‏عضب کے نام سے فوجی آپریشن کرنا پڑا اور پھر پاکستانی فوج نے اس علاقوں کے سرداروں کے تعاون سے ان علاقوں میں اپنی چیک پوسٹیں قائم کر لیں۔ ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اپنے قابو میں لینے کے بعد پاکستانی حکومت ان علاقوں کی اقصادی بدحالی دور اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ غربت کی وجہ سے ان علاقوں کے جوان دہشت گرد گروہوں میں شامل نہ ہوں۔ ان علاقوں نے چونکہ کبھی بھی وفاقی حکومت کے زیر سایہ رہنا  پسند نہیں کیا ہے اس لئے حکمران پارٹی نواز شریف نے فاٹا اصلاحات کمیٹی تشکیل دے کر یہ ظاہرکرنے کی کوشش کی ہے کہ وفاقی حکومت ان علاقوں کے عوام کی معاشی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔اس طرح وہ ان علاقوں پر وفاقی حکومت کی بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے۔ پاکستانی حکومت نے سرحدی علاقوں خصوصا قبائلی علاقوں کے جوانوں کے دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں میں شامل ہونے کا ایک اہم سبب بے روزگاری اور غربت کو قرار دیا ہے اور اس کا خیال ہے کہ ان علاقوں میں حفظان صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کئے جانے سے نہ صرف ان علاقوں کے جوان دہشت گرد گروہوں میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ قبائلی علاقوں کے لوگ کاشتکاری اور صنعتی امور میں حصہ لے کر قومی پیداوار میں اضافہ کرنے اور ان علاقوں میں دہشت گردی کے پنپنے سے متعلق بین الاقوامی تشویش میں کمی لانے میں بھی مدد دیں گے۔ البتہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ پاکستانی حکومت پانچ سال کے دوران فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنا سکے گی کیونکہ قبائلی علاقوں میں ہر طرح کے اقتصادی اور سماجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے اور یہ سرمایہ کاری صرف پائیدار امن کے قیام کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ بہرحال قبائلی علاقوں کے لوگ اپنے معیار زندگی کی سطح بلند ہونے اور جوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے پیش نظر فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کی حمایت کرتے ہیں اوران کے نزدیک ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے لئے ایک امتحان شمار ہوتا ہے۔