شام کے خلاف ترکی کے جارحانہ عزائم
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274132-شام_کے_خلاف_ترکی_کے_جارحانہ_عزائم
ترک فوج کی جانب سے شام کی سرزمین کے ایک حصے پر قبضہ کئےجانے کے بعد صوبہ ادلب کے عوام نے احتجاجی مظاہرہ کرکے ترک فوج کے قبضے سے شامی سرزمینون کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
(last modified 2026-07-27T14:26:43+00:00 )
Mar ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۱:۵۰ Asia/Tehran
  • شام کے خلاف ترکی کے جارحانہ عزائم

ترک فوج کی جانب سے شام کی سرزمین کے ایک حصے پر قبضہ کئےجانے کے بعد صوبہ ادلب کے عوام نے احتجاجی مظاہرہ کرکے ترک فوج کے قبضے سے شامی سرزمینون کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حال ہی میں ترک فوج اور اس کے حمایت یافتہ دہشتگردوں نے شہر الباب پر قبضہ کیا ہے۔ ترکی نے دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے گذشتہ اگست میں سپر فرات نامی فوجی آپریشن شروع کرکے حکومت شام کے مخالف دہشتگردوں کی حمایت کا آغاز کیا تھا۔ شام نے اگست دوہزار سولہ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے سربراہ کو دو الگ الگ خط بھیج کر شمالی شام میں ترکی کی فوجی دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی اور جنگی جرم نیز انسانیت سوز کارروائی قراردیا تھا۔

قابل ذکرہے کہ شام میں دوہزار گیارہ سے بحران شروع ہوا ہے اور یہ بحران امریکہ اور اس کے اتحادی ترکی اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کی کارروائیوں سے شروع ہوا تھا یہ دہشتگرد صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کو سرنگوں کرنا چاہتے ہیں۔

بلاشک شام  کے امور میں بیرونی ملکوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی شام کے عوام کی تشویش کا سبب بن چکی ہے کیونکہ اس مداخلت نے انہیں تکفیری دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو نہایت وحشیانہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ شام کے عوام اپنے ملک میں ترکی کی  جارحانہ کارروائیوں اور امریکہ کی سربراہی میں  داعش کے خلاف نام نہاد اقدامات کے پیش نظر یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے ملک کے  بعض علاقوں پر  تسلط پسند ملکوں اور دہشتگردوں کا قبضہ ہورہا ہے۔ شام کے عوام کی نظر میں ترکی جیسے جارح ممالک اور دہشتگرد ایک سکے کے دو رخ ہیں اور ان کا خطرہ یکساں ہے جن کا ھدف امریکہ کی سازشی پالیسیوں کے تحت شام کے ٹکڑے کرنا ہے۔ ایسے حالات میں ترکی کی طرف سے شام میں جارحانہ اقدامات میں وسعت لانے سے شام کی سرزمین کے تعلق سے ترکی کی لالچ نمایاں ہوجاتی ہے۔ شام میں ترکی کے فوجی اقدامات میں توسیع اور شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی ایسے عالم میں جاری ہے کہ ترکی نے ماسکو بیان کے مطابق جو کہ ایران روس اور ترکی کا مشترکہ بیان تھا اور آستانہ مذاکرات میں یہ وعدہ کیا تھا کہ شام کی ارضی سالمیت کا احترام کرے گا۔ماسکو بیان میں آیا ہے کہ شام کا تنازعہ فوجی راہ سے حل نہیں ہوگا بلکہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں قرارداد بائیس چون  کے تحت مفاہمت آمیز طریقے سے حل کیا جائے گا۔

شام میں ترکی کی مداخلت اور اسکے غیر قانونی رویے کے پیش نظر شام نے برابر کا جواب دینے سے احتراز کرتے ہوئے جو اس کا قانونی حق ہے قانونی روش سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ذریعے ترکی کے غیر قانونی اقدامات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ شام کے عوام نے بھی مظاہرے کرکے شام کے خلاف ترکی کے مخاصمانہ اقدامات سے اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے۔

ترکی کے مہم جویانہ اقدامات جو شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی پر منتج ہوئے ہیں، اس پر شام کے حکام اور عوام کے بڑھتے ہوئے احتجاج سے پتہ چلتا ہے کہ شام کے حکام اور عوام ترکی کے مہم جویانہ اور کشیدگی پھیلانے کے اقدامات کے مخالف ہیں اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی کے جارحانہ اقدامات پر شام کے عوام اور حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے ہی والا ہے۔