انڈونیشیا: سعودی بادشاہ کے دورے کے خلاف مظاہرہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274140-انڈونیشیا_سعودی_بادشاہ_کے_دورے_کے_خلاف_مظاہرہ
سعودی عرب کے بادشاہ کے دورہ انڈونیشیا پر اس ملک کے عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
(last modified 2026-07-27T14:26:43+00:00 )
Mar ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۸ Asia/Tehran
  • انڈونیشیا: سعودی بادشاہ کے دورے کے خلاف مظاہرہ

سعودی عرب کے بادشاہ کے دورہ انڈونیشیا پر اس ملک کے عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

انڈونیشیا کے عوام نے سعودی عرب کے سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرکے سعودی بادشادہ کے دورے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ مظاہرین نے نعرے لگا کر مشرق وسطی کے علاقے اور عالم اسلام کے تعلق سے سعودی عرب کی پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔سعودی بادشاہ کے وفد میں ایک ہزار پانچ سو افراد شامل ہیں جسے انڈونیشیا کی سکیورٹی سسٹم کی توہین سمجھا جارہا ہے۔ انڈونشیا عالم اسلام کا سب سے زیادہ آبادی والا اور جنوب مشرقی ایشا کی تعاون تنظیم آسیان  کا اہم ترین رکن ملک ہے۔ اسی بنا پر انڈونیشیا کے عوام کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ جو اسوقت عالم اسلام میں فتنہ اور تفرقے کا سبب سمجھے جارہے ہیں ان کے ملک کا دورہ کرکے ان کے ملک کی توہین کریں ۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا کے عوام کے لئے مزید تین مسئلے اہمیت کے حامل ہیں جنہیں ان کی حکومت نے سعودی بادشاہ کے دورہ جکارتا میں نظر انداز کیا ہے۔ سب سے پہلا مسئلہ وہ انسانیت سوز جرائم ہیں جن کا ارتکاب سعودی عرب نے شام اور یمن میں دہشتگردوں کی مدد سے کیا ہے اور جو عالم اسلام میں فتنہ انگیزی اور خونریزی شمار ہوتا ہے۔ ان حالات میں انڈونیشیا کے عوام کو یہ توقع نہیں تھی کہ ان کی حکومت ایسے فرد کی میزبانی کرے گی جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔ دوسرا مسئلہ انڈونیشیا کے مزدوروں بالخصوص خاتون مزدوروں کے ساتھ سعودی حکام اور کام دینے والوں  کا غیر انسانی سلوک ہے۔انڈونیشیا کی خاتون مزدوروں پر سعودی عرب میں جنسی تشدد کی دسیوں رپورٹیں سامنے آچکی ہیں۔جن خواتین کو سعودی عرب سے  نکالا گیا ہے انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں برسوں تک جنسی کنیز بنی رہی تھیں۔انڈونیشیا میں مزدوروں کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف مظاہرے بھی اس بات کا سبب نہیں بنے ہیں کہ حکومت جکارتا اپنے مزدوروں کے حقوق کا دفاع کرے۔ ان حالات میں سعودی بادشاہ کے دورہ جکارتا سے انڈونیشیا کے عوام غم و غصے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ تیسرا مسئلہ سعودی عرب کی جانب سے انڈونیشیا کے بارہ حجاج کو تاوان ادا کرنے سے انکار ہے کہ جو حرم میں کرین کے حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ انڈونیشیا کی حکومت نے بھی اس مسئلے کو بار بار اٹھایا ہے۔ ان حالات میں انڈونیشیا کے عوام کی نظر سے ایسے فرد کی میزبانی کرنا جو کہ حرمین شریفین کی سیکوریٹی برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے قابل جواز نہیں ہے بلکہ انڈونیشیا کے عوام کی توہین ہے۔ بہرحال جس چیز سے سب سے زیادہ ملیشیا اور انڈونیشیا کے عوام سعودی حکام کے دوروں سے تشویش میں مبتلا ہیں وہ وہابیت کو مضبوط بنانا ہے جس کی ایک مثال حالیہ برسوں میں میلیشیا میں وہابیوں کی طرف سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف کئے گئے اقدامات ہیں۔ان اقدامات سے ملیشیا فرقہ واریت کی طرف بڑھتا جارہا ہےاورجنوب مشرقی ایشیا میں داعش کو بڑھاوا مل رہا ہے اور یہ کام سعودی عرب کی سرپرستی اور پیسے سے ہورہا ہے۔ وہابیوں کے ان اقدامات سے علاقے میں تشویش پھیل گئی ہے۔ اسی وجہ سے حال ہی میں اور اب جبکہ سعودی بادشاہ انڈونیشیا کے دورے پر ہیں وہابیت کے مخالفین نے وہابی مبلغ ذاکر نائیک کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔