امریکہ میں ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپ
امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شہر برکلے میں جھڑپ ہوگئی۔ جھڑپ کے دوران پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔
امریکہ کی متعدد ریاستوں میں "ٹرمپ کے لئے مارچ" کے سلوگن کے ساتھ مظاہروں میں ٹرمپ حامی اور مخالف گروپوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے- امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے تیس کے قریب ریاستوں میں چار مارچ کو ایک مارچ کا اہتمام کیا۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی، نیو یارک اور فلوریڈا جیسے متعدد شہروں اور ریاستوں میں مظاہرے عام طور پر پُرامن رہے لیکن کیلیفورنیا کے شہر برکلے میں ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفوں کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ گروپوں نے مکّوں اور ڈنڈوں کے ساتھ جھڑپ کی۔ پولیس کی مداخلت سے دونوں گروپ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے، واقعے میں بعض افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ پانچ کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
کیلیفورنیا، امریکہ کی ایک ایسی ریاست ہے جہاں ٹرمپ کی پالیسیوں کو لے کر زیادہ ہنگامے ہوئے ہیں اور امیگریشن اور غیر قانونی مہاجروں کے بارے میں آزادانہ پالیسی کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ کیلیفورنیا کے عوام نے امریکی صدر ٹرمپ پر نسل پرستانہ اور مہاجر دشمن پالیسی اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ سمیت عالمی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کے مخالفین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے- ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جب سے اقتدار میں آئے ہیں نہ صرف امریکی سماج و معاشرے میں بلکہ عالمی سطح پر بحران و بدامنی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ریاست مینیسوٹا میں بھی کم از کم تین سو افراد پر مشتمل ٹرمپ حامی افراد کے مارچ میں پچاس افراد پر مشتمل مخالف گروپ کی مداخلت کی وجہ سے جھڑپ ہو گئی اور پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا ۔ واشنگٹن کے مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں چار اور ٹینیسے میں دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے حامیوں نے نیو یارک میں بھی ٹرمپ ٹاور کے سامنے جمع ہو کر صدر ٹرمپ کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا۔ اگرچہ ٹرمپ کی حمایت میں مظاہروں کا متعدد شہروں میں اہتمام کیا گیا لیکن مظاہروں میں ٹرمپ کے حامیوں کی شرکت، ٹرمپ مخالف مظاہرین کی شرکت سے کم دیکھی گئی ہے۔
اس وقت امریکی حکومت ، روس کے ساتھ ٹرمپ کے قریبی افراد کے ساتھ خفیہ رابطے کے مسئلے پر، دباؤ میں ہے- اب تک یہ دباؤ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر کے اہم عہدے سے مائیکل فلین کی برطرفی پر منتج ہوا ہے- وزیر انصاف اور اٹارنی جنرل پر بھی الزام ہے کہ گذشتہ سال واشنگٹن میں روس کے سفیر کے ساتھ ملاقات کی تھی، اس وقت جف سشنز سینیٹر تھے- ٹرمپ کے ناقدین کو توقع ہے کہ دباؤ جاری رکھنے کے صورت میں سشنز کا بھی انجام فلین جیسا ہوسکتا ہے- اس صورت ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی مواخذہ کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی برطرف ہوسکتے ہیں- ان ہی جیسی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹرمپ کے حامی سڑکوں پر نکل آئے ہیں تاکہ امریکی صدر کے با اثر مخالفین کو کنارے لگاسکیں-
ٹرمپ کے مخالفین یہ محسوس کر رہے ہیں کہ گذشتہ برسوں میں اقتصادی، سماجی اور ثقافتی شعبوں میں انہوں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ نابودی کے دہانے پرہیں اور اگر اس وقت وہ خاموش بیٹھ گئے تو سماجی و رفاہی منصوبوں اور چند قومیتی پالیسیوں کا خاتمہ ہوجائے گا- اس کے بالمقابل ٹرمپ کے حامی ہیں جو اس کوشش میں ہیں کہ لیبرل افکار کی یلغار کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں- اسی سبب سے ان دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں اور دونوں گروہ کے افراد ایک دوسرے کا خون بہانے سے بھی نہیں ہچکچا رہے ہیں- فی الحال یہ خونریز جھڑپیں امریکہ کے متعدد شہروں میں جاری ہیں جس کے سبب حالات سنگین رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں-