عراق میں داعش کے ہاتھوں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274286-عراق_میں_داعش_کے_ہاتھوں_کیمیاوی_ہتھیاروں_کے_استعمال_پر_تشویش
عالمی ریڈکراس سوسائٹی نے ایک بیان میں موصل کے نہتے عوام کے خلاف داعش کے دہشت گردوں کے ذریعے کیمیاوی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۲ Asia/Tehran
  • عراق میں داعش کے ہاتھوں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر تشویش

عالمی ریڈکراس سوسائٹی نے ایک بیان میں موصل کے نہتے عوام کے خلاف داعش کے دہشت گردوں کے ذریعے کیمیاوی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے-

عالمی ریڈ کراس سوسائٹی نے اسی طرح زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ اپنے تعاون کی خبر دی ہے- عراق میں انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کی کوآرڈینیٹر لز گرانڈ نے ایک بیان میں موصل میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کو ہولناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی اعتبار سے قابل جواز نہیں ہے- واضح رہے کہ گذشتہ دنوں میں مشرقی موصل میں کیمیاوی ہتھیاروں کے حملے پر مبنی رپورٹیں سامنے آئي ہیں- عراق کی ریپیڈ ٹاسک فورس کے ایک کمانڈر سعدون خالد الرمضانی نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ داعش نے کلورین گیس کے حامل  کیٹوشا راکٹوں سے موصل کے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے-

اس سے قبل بھی بزنس وائر "Business Wire"   ایجنسی نے امریکہ کے اسٹڈیز سینٹر  "IHS" کی رپورٹ کے حوالے سے اعلان کیا تھا کہ داعش کے دہشت گردوں نے دوہزار چودہ سے اب تک اکہتر بار سے زائد مرتبہ عراق اور شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے- عراق کے سیکورٹی ذرائع کے مطابق ترکی نے بھاری مقدار میں کیمیاوی بموں کی ساخت میں استعمال ہونے والے مواد کو سعودی عرب اور قطر کے پیسوں سے، یوکرین اور بعض مغربی حکومتوں سے خریدا اور انہیں داعش کے اختیار میں دیا ہے- 

دہشت گردوں کو مہلک ہتھیاروں سے مسلح کرنے اور ان کو اس طرح کے ہتھیار بنانے والے مواد فراہم کرنے میں مغربی حکومتوں کے اقدامات ، بین الاقوامی کنوینشنوں کی کھلی خلاف ورزی ہے- واضح رہے کہ ان کنوینشنوں میں مہلک ہتھیاروں کی پیداوار اور ان کی توسیع سے روکا گیا ہے- سیاسی مسائل کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ موصل میں اپنی مکمل ناکامی کی روک تھام کے لئے کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے-

ایسے حالات میں کہ جب موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی کے دوران داعش کو پے در پے ناکامیوں کا سامنا ہے اور عراق میں اس دہشت گرد گروہ کا خاتمہ قریب ہے، داعش کے توسط سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا امکان بڑھ جائے گا- داعش کی جانب سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا مقصد عراقی شہریوں کے درمیان خوف و دہشت پیدا کرنا ہے تاکہ وہ ان کو تسلیم کر لیں- قانونی حلقوں نے شام اور عراق میں سرگرم مسلح مخالفین کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان گروہوں کو جنگی جرائم انجام دینے میں کھلی چھوٹ حاصل ہے اور وہ ہر طرح کی قانونی گرفت سے محفوظ ہیں-

داعش دہشت گرد گروہ نے دوہزار چودہ سے امریکہ اور اس کے مغربی حامیوں اور بعض عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب اور ترکی کی مالی اور فوجی حمایت کے ذریعے عراق پر حملہ کرکے اس ملک کے شمال اور مغرب کے وسیع علاقوں پر اپنا قبضہ جمالیا اور بہت زیادہ جارحیتیں انجام دی ہیں اور عراق  اور شام کے مظلوم عوام کے خلاف کیمیاوی ہتیھیاروں کا استعمال بھی داعش کی جارحیتوں میں شدت کی علامت ہے- قابل غور نکتہ تو یہ ہے کہ داعش دہشت گرد مغربی اور عرب ملکوں کی حمایت سے شام اور عراق کے عوام پر اپنے کیمیاوی حملوں پر پردہ ڈالنے اور اس مسئلے سے رائےعامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے ان کیمیاوی حملوں کا الزام عراق اور شام کی حکومتوں پر عائد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حملے خود ان حکومتوں نے کئے ہیں-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ جنگی کارروائیوں میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے توسط سے بارہا کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے سبب، کیمیاوی دہشت گردی کا خطرہ بہت ٹھوس اور ہمہ گیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اس لئے اس کے خلاف عالمی سطح پر مقابلے کی ضرورت ہے- اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا لیت و لعل اس بات کا باعث بن سکتا ہے کہ اس کے نتائج شام اورعراق تک ہی محدود نہ رہ جائیں اور دنیا کے دیگر علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں-