آذربائیجان کے صدر کا دورہ تہران
آذربائیجان کے صدر الہام علی اف اتوار کی صبح تہران پہنچے جہاں صدر حسن روحانی نے ان کا سرکاری استقبال کیا -
آذربائیجان کے صدر کا گذشتہ تین برسوں میں یہ تیسرا دورہ تہران ہے۔ اس دورے کے سبب ایک بار پھر دونوں پڑوسی ملکوں کے تعلقات اور گہرے مذہبی اور ثقافتی اشتراکات لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہیں- آذرربائیجان کے وزیر اقتصاد اور ایران و آذربائیجان کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے سربراہ شاہین مصطفی یف نے الہام علی اف کے دورہ تہران سے پہلے ، دونوں ملکوں کے سربراہان مملکت کے عزم و ارادے کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم قرار دیا اور کہا کہ اس وقت تمام شعبوں میں اچھا تعاون انجام پا رہا ہے اور اقتصادی شعبے میں بھی گذشتہ ایک سال میں دونوں ملکوں کے تجارتی لین دین کے حجم میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے-
اس دورے کی اقتصادی اہمیت سے ہٹ کر کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریہ آذربایئجان ، ایران کے نقطہ نگاہ سے صرف ایک پڑوسی ملک نہیں ہے بلکہ ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں کے عوام کا ایران کے عوام کے ساتھ گہرا بندھن قائم ہے- بالفاظ دیگر ایران اور آذربائیجان کی قوموں کے درمیان بہت زیادہ اشتراکات اور بااثر تاریخی تعلقات کی اہمیت کے باعث ، آذربائیجان کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نقطہ نگاہ ایک ہمسایہ ملک ہونے سے کہیں زیادہ ہے-
مشترکہ مذہبی اعتقادات اور باہمی دلچسپی کے امور سے متعلق مسائل نے ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کی قوموں کو ایک دوسرے سے قریب کردیا ہے اور یہی اشتراکات اور دین اسلام پر مبنی اعتقادی اقدار، دونوں ملکوں کی قوموں کے لئے مشترکہ میراث اور باکو اور تہران کی حکومتوں کے لئے مستحکم حمایت ہے - یہی وجہ ہے کہ آذربائیجان کے عوام کے لئے سیاسی ، سیکورٹی استحکام اور رفاہ و آسائش کا مسئلہ ایران کے لئے ہمیشہ اہم رہا ہے- یہ اہمیت علاقے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بڑھ گئی ہے- کیوں کہ دو اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کومشترکہ خطرات منجملہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے- چنانچہ اگر آپ ان فتنہ گروں اور انتہا پسندوں کے وجود میں آنے کی بنیادی وجوہات پر نظر ڈالیں گے تو آپ جان جائیں گے کہ ان انحرافی نظریات کے حامل گروہوں کے وجود میں آنے کا ایک سبب ، اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ان کی عدم شناخت ہے-
ان حقائق کے پیش نظر ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے تعلقات اور تعاون میں توسیع کے لئے نہ صرف حالات محدود نہیں ہیں بلکہ چند جانبہ اہمیت کے حامل ہیں ان میں سے ایک اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان طے شدہ معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان آستارا- آستارا ریلوے لائن پروجیکٹ پر عملدرآمد ہے کہ جس کا افتتاح آذربائیجان کے صدر کے اس دورے میں ہوگا- یہ تعاون، ایران اور یوریشیا کے درمیان تعاون کی صورت میں چند جانبہ تعلقات میں توسیع کے لئے بھی اہم ہے کہ جس کے علاقے کے تمام ملکوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے- اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مشترکہ مفادات اور دو طرفہ اور چند طرفہ تعاون سے ترقی حاصل کی جاسکتی ہے اور یہ وہی ھدف ہے جس کی علاقے کے ملکوں کو ضرورت ہے۔
ایک اور مسئلہ کہ جس نے دونوں ملکوں کے درمیان مستحکم رشتہ قائم کیا ہے، مشترکہ کیسپیئن سی کے علاقے میں باہمی تعاون ہے جو بلاشبہ تمام پڑوسی ملکوں کے لئے ایک گرانبہا منبع اور سرچشمہ ہے لیکن کیسپیئن سی وسطی ایشیا کی جمہوریاؤں کے خودمختاری حاصل کرنے کے وقت سے ماحولیات کے تعلق سے سخت چیلنجوں سے دوچارہے- بہرحال الہام علی اف کے دورہ تہران کو تمام معاملات میں خوش آیند سمجھنا چاہئے اور یہ توقع رکھنی چاہئے کہ تہران اور باکو تمام سمجھوتوں پر عملدرآمد کے ساتھ ہی درپیش خطروں سے بھی غافل نہیں ہوں گے، ایسے خطرات جو دہشت گردی اور انتہا پسندی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان خطرات کو ہر جگہ اور تمام پہلوؤں میں اغیار کے اثرو رسوخ اور دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات کو ختم کرنے والے عناصر اور عوامل کی سازشوں میں دیکھا جاسکتا ہے اور انہیں سنجیدہ لئے جانے کی ضرورت ہے۔