رہبرانقلاب اسلامی سے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر کی ملاقات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274392-رہبرانقلاب_اسلامی_سے_جمہوریہ_آذربائیجان_کے_صدر_کی_ملاقات
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے جمہوریہ آذربائجان کے صدر الھام علی اف سے ملاقات میں جمہوریہ آذربائیجان کے عوام اور حقیقی اسلام کی طرف ان کے رجحان کی تعریف کرتے ہوئے اس امر کو جمہوریہ آذربائیجان کے مسلمان عوام اور حکومت کی خیر و صلاح کا سبب قراردیا ۔
(last modified 2026-07-27T14:26:43+00:00 )
Mar ۰۶, ۲۰۱۷ ۱۰:۵۳ Asia/Tehran
  •  رہبرانقلاب اسلامی سے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر کی ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے جمہوریہ آذربائجان کے صدر الھام علی اف سے ملاقات میں جمہوریہ آذربائیجان کے عوام اور حقیقی اسلام کی طرف ان کے رجحان کی تعریف کرتے ہوئے اس امر کو جمہوریہ آذربائیجان کے مسلمان عوام اور حکومت کی خیر و صلاح کا سبب قراردیا ۔

رہبرانقلاب اسلامی نے جمہوریہ آذربائیجان (Azerbaijan) کے صدر الھام علی اف سے فرمایا کہ حکومت باکو کی خیر و صلاح اسی میں ہےکہ وہ عوام کے مذہبی جذبات کے ساتھ اس طرح چلے کہ انہیں حکومت کی جانب سے اپنے مذہبی مسائل کے تعلق سے کسی بھی طرح کی تشویش لاحق نہ ہو۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں فرمایا کہ مشترکہ مذہب جمہوریہ آذربائیجان کے عوام اور حکومت سے ایرانی قوم کی قربت اور اپنائیت کے احساس کا باعث ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایران اور جمہوریہ آذربایئجان کے درمیان اقتصادی تعاون، توانائیوں اور گنجائشوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ شرح کی نسبت دس گنا زیادہ ہوجانا چاہیے۔

رہبرانقلاب اسلامی کے یہ بیانات ایسے عالم میں سامنے آرہے ہیں کہ باکو کی حکومت نے آذری مومنین کی سرگرمیوں کی راہ میں  کافی محدودیتیں اور رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں اور بہت سے شیعہ مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ہے۔ واضح رہے کہ جمہوریہ آذربائیجان کی صورتحال متزلزل ہے اور کسی بھی لمحے جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آرمینیا کے ساتھ جنگ شروع ہونے کی صورت میں باکو کے حکام  اور اس ملک کے سرمایہ دار اپنے بچوں کو جنگ کے میدان میں ملک کے دفاع کے لئے نہیں بھیجیں گے جبکہ آذری مومنین جو کہ جمہوریہ آذربائیجان کے حقیقی وارث ہیں جنگ کے محاذ پر پہنچ جائیں گے اور ہر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں جمہوریہ اذربائیجان کے عوام کا حکومت کا ساتھ دینا ہی اسکی سیاسی اور اقتصادی ترقی، حقیقی معنی میں آزادی کی برقراری اور ارضی سالمیت کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔ ادھر باکو حکومت ایک دہائی سے  مساجد اور دینی مقامات کو بند اور مسمار کرنے کی پالیسی پر عمل پیراہے جس سے اس مسلمان ملک کی رائے عامہ غم و غصہ میں مبتلا ہے۔ ان حالات میں رہبرانقلاب اسلامی کی جانب سے بعض حقائق پر تاکید کرنے سے چند نکات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ آپ جمہوریہ آذربائیجان کے داخلی مسائل پر گہری نظر اور ان میں دلچسپی رکھتے ہیں اور قریب سے ان مسائل کا جائزہ لیتے ہیں، در حقیقت جمہوریہ آذربائیجان کے داخلی مسائل بالخصوص مذہبی اور دینی مسائل رہبرانقلاب اسلامی کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ دوسرے یہ کہ رہبر انقلاب اسلامی نے الھام علی اف کو نصحیت کی ہے اور بالواسطہ طور پر ان سے کہا ہے وہ اپنے ملک کے مسلمان عوام کے حقوق اور دینی آزادی کو یقینی بنائیں اور آذری مومنین کی قدر جانیں۔ اسی وجہ سے رہبرانقلاب اسلامی نے آذربائیجان کی حکومت کے حق میں عوام کی حمایت اور حکومت کا اپنے عوام پر بھروسہ کرنے کو طاقتوں کے مقابل جمہوریہ آذربائیجان کی حفاظت کا اہم ترین ذریعہ قراردیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ اگر آذربائیجان کی حکومت کو عوام کی حمایت حاصل رہے گی تو کوئی بھی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچاسکتی اور ہم بھی جمہوریہ آذربایئجان کی حکومت اور مسلمان عوام کے لئے دعا کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر آذری صدر اور ان کے ہمراہ وفد کی رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات کو الھام علی اف کے دورہ تہران کا فصل الخطاب قراردیا جانا چاہیے۔