ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کا سرمائی اجلاس
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274528-ایٹمی_انرجی_کی_عالمی_ایجنسی_کا_سرمائی_اجلاس
ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس گذشتہ روز سے ویانا میں جاری ہے اس اجلاس میں آئی اے ای اے کے پینتیس رکن ممالک شرکت کر رہے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۲۸ Asia/Tehran
  • ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کا سرمائی اجلاس

ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس گذشتہ روز سے ویانا میں جاری ہے اس اجلاس میں آئی اے ای اے کے پینتیس رکن ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

اس اجلاس میں ایران کے نمائندے اور "گروپ ستتر اور چین" کے سربراہ رضا نجفی نے تاکید کی ہے کہ یہ ایجنسی بین الاقوامی کوششوں کو  ہماہنگ کرنے، دنیا میں ایٹمی سیفٹی کے معیارات کو ارتقا دینے میں اور فنی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے گروپ ستتر اور چین کے سربراہ کی حیثیت سے پیر کے دن بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس گروہ کا بیان پڑھ کر سنایا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بہت سے ممالک بالخصوص گروپ ستتر کے رکن ممالک نے اپنے ایٹمی پروگراموں کی سیفٹی کے لئے آئی اے ای اے سے مدد مانگی ہے۔ ان ملکوں نے کہا ہے کہ انہیں ریڈیو تھراپی اور ریڈی ایشن مینیجمنٹ نیز ماہرانہ اور فنی امداد فراہم کی جائے۔ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف طرح کی دستاویزات منجملہ خفیہ دستاویزات کی حفاظت کرتے ہوئے ایٹمی سیفٹی کے معیارات کو بڑھانے کے لئے مدد کرے۔

بورڈ آف گورنرز کے سرمائی اجلاس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ ان میں ایک موضوع ایٹمی ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ ہے۔ آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے نے اس سلسلے میں بارہا اسرائیل کی ایٹمی صورتحال پر تشویش کا  اظہار کیا ہے اور ایجنسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت سے لاحق خطرات سے ہونے والی تشویشوں کا خاتمہ کرے۔صیہونی حکومت نے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی کے کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں اور نہ ہی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی تحقیقات پر روک لگانے والے کسی کنونشن پر ہی دستخط کئے ہیں۔

اس وقت دنیا میں ہزاروں ایٹمی وارہیڈز پائے جاتے ہیں جو پورے کرہ ارض کو تباہ کرسکتے ہیں اس کے باوجود بھی  ایٹمی ہتھیاروں کے مالک ممالک بدستور ایٹمی ہتھیاروں کی جدید کاری پر اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔ اسرائیل نے بھی امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی مدد سے ایٹمی ہتھیار حاصل کرلئے ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ صیہونی حکومت کے پاس بھی سیکڑوں ایٹمی وار ہیڈز ہیں اور مشرق وسطی میں یہ واحد حکومت ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔  

ایٹمی مسائل کے تعلق سے ایک اور چیلنج ایٹمی تنصیبات پر حملے اور ریڈیو ایکٹیو مواد کی چوری کا خطرہ ہے۔ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے رپورٹ دی ہے کہ اب تک ریڈیو ایکٹیو مواد کی اسمگلنگ، اس مواد کے غائب ہوجانے یا غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کے دوہزار آٹھ سو واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

ایٹمی مسائل کے تعلق سے دو نکتے قابل بحث ہیں۔ پہلا یہ کہ ایٹمی  ہتھیاروں کو اپنی سلامتی کا سبب سمجھنا ایٹمی ترک اسلحہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اسی وجہ سے جب تک ایٹمی ترک اسلحہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا یہ چیلنج بدستور برقرار رہے گا۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ایٹمی سیفٹی کو یقینی بنانا ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی ذمہ داری ہے۔اس سلسلے میں بے حد کوششیں کی جاتی ہیں کہ دنیا کی اقوام کو یہ باور کرایا جائے کہ امریکہ عالمی سطح پر ترک اسلحہ میں سب سے پیش پیش ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ۔ امریکہ کی ایٹمی اسٹریٹجی میں ایٹمی دہشتگردی کا موضوع سمونے سے امریکہ کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ ایٹمی خطرات کی اپنے من سے لمبی چوڑی فہرست تیار کرلے اور اس بہانے سے دیگر ملکوں کے امور میں مداخلت کرسکے۔ این پی ٹی معاہدے میں تین بنیادی اصول ہیں، پہلا اصول عام ترک  اسلحہ، دوسرا اصول ایٹمی ہتھیاروں کا عدم پھیلاو ہے اور تیسرا اصول ایٹمی ٹیکنالوجی سے پرامن طریقوں سے استفادہ کرنا ہے۔ان  تینوں اصولوں میں سے امریکہ اور ایٹمی ہتھیاروں کے مالک دیگر ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر بہت زیادہ تاکید کرتے ہیں کیونکہ اس طرح سے دیگر ملکوں کے سامنے پرامن ایٹمی استعمال کے سامنے رکاوٹیں پیدا کرسکتے ہیں اور عالمی برادری کے مد نظر ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے دور رہ سکتے ہیں۔