پاکستان کی جانب سے ہندوستان اور افغانستان پر الزامات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i274546-پاکستان_کی_جانب_سے_ہندوستان_اور_افغانستان_پر_الزامات
پاکستان کے وزیر دفاع نے قومی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے ہندوستان اور افغانستان پر الزام لگایا ہے کہ یہ دونوں ممالک پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے  تعاون کررہے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Mar ۰۷, ۲۰۱۷ ۱۳:۱۴ Asia/Tehran
  • پاکستان کی جانب سے ہندوستان اور افغانستان پر الزامات

پاکستان کے وزیر دفاع نے قومی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے ہندوستان اور افغانستان پر الزام لگایا ہے کہ یہ دونوں ممالک پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے  تعاون کررہے ہیں۔

 

پاکستان کے وزیر دفاع نے قومی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے ہندوستان اور افغانستان پر الزام لگایا ہے کہ یہ دونوں ممالک پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے  تعاون کررہے ہیں۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو بند کرنے کا پاکستان کا اقدام سیاسی نہیں ہے بلکہ اسلام آباد نے اپنی قومی سلامتی کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر افغانستان کے ساتھ سختی سے سرحدوں کو کنٹرول نہ کیا جائے گا تو پاکستان میں دہشتگردوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پاکستان کے وزیر دفاع کے سخت بیانات جن میں انہوں نے ہندوستان اور افغانستان پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا ہے اس اسٹریٹجی کا حصہ ہیں جس پر حکمران پارٹی مسلم لیگ ن کی حکومت ایک سال سے سختی سے عمل کرتی آرہی ہے۔

صوبہ سندھ میں گذشتہ مہینے دہشتگردانہ حملے اور اس میں افغانستان کے ملوث ہونے کے الزام لگائے جانے کے بعد سے اسلام آباد اور کابل کے درمیاں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص مشترکہ سرحد پر دہشتگردوں کے حملوں میں پاکستان کے پانچ فوجیوں کے مارے جانے کے بعد اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے ہندوستان اور افغانستان پر ایسے عالم میں پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا ہے کہ نئی دہلی اور کابل نے بھی پاکستان پر اسی طرح کے الزامات لگائے ہیں۔ البتہ پاکستان کی قومی پارلیمنٹ میں خواجہ آصف کے سخت الزامات کے بعد یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ انہوں نے دو اھداف کے پیش نظر یہ الزامات لگائے ہیں جن سے افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی آ‎سکتی ہے۔ ایسے عالم میں جبکہ پاکستان میں دہشتگردی کے نتیجے میں تشدد اور بدامنی میں اضافہ ہونے سے حکومت پاکستان پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے تنقیدوں کی بوچھار ہورہی ہے پاکستان کی جانب سے ہندوستان اور افغانستان پر یہ الزام لگانا کہ وہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے تعاون کررہے ہیں پاکستان میں ان دونوں ملکوں کے خلاف ایک طرح سے اتفاق رائے پیدا کرسکتا ہے۔ پاکستان کی حکومت جو ملک میں بدامنی کی وجہ سے مخالف پارٹیوں کے شدید دباؤ میں ہے ہندوستان اورافغانستان کو اپنے ملک میں بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرا کر اپنے عوام کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ پاکستان اپنے دو ہمسایہ ملکوں کے مخاصمانہ سناریو کا شکار بن چکا ہے جس کا مقابلہ کرنا نہایت دشوار ہوجائے گا۔ پاکستانی حکومت کا اس بیان سے دوسرا ھدف یہ ہے کہ وہ داخلی سطح پر اپنے اوپر ہونے والی تنقیدوں کوکم کرنا چاہتی ہے۔ اسلام آباد کی حکومت پر تنقید کرنے والے ، حکمران پارٹی مسلم لیگ ن کو دہشتگردی کے خلاف کمزور کارکردگی اور دوہرے معیارات اپنانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ حکومت پاکستان، افغانستان اور ہندوستان پر الزامات لگا کر اپنی مخالف پارٹیوں کی  توجہ بیرونی عوامل کی طرف مبذول کرانا چاہتی تاکہ انتہا پسند گروہوں کے مقابل اپنی کمزوری کو چھپاسکے۔