امریکہ کی معاندانہ پالیسیاں جاری
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ نام نہاد دہشتگردی میں ہلاک ہونے والوں نے جن کے حق میں اور ایران کے خلاف ایک امریکی عدالت نے ان کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا تھا اب ایک حیرت انگیز اقدام کے تحت یورپی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ لگزمبرگ کی عدالت کے جج نے اسی اساس پر چپکے سے ایران کے سینٹرل بینک کے اثاثوں میں سے ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ضبط کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔
نیویار ٹائمز نے لگزمبرگ کی عدالت کے فیصلے پر بہت کم توجہ دیے جانے کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ مقدمہ نہایت خفیہ طرح سے چلایا گیا تھا البتہ اس مقدمے کی تفصیلات ایک خط کی صورت میں پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ خط واشنگٹن میں لوگوں کی دسترس میں ہے۔ بظاہر نام نہاد دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہونے والے گھرانوں نے یہ خط لگزمبرگ کے وزیر اعظم کو بھیجا تھا اور ان کی حکومت سے ایران کا مقابلہ کرنے کی درخواست کی تھی جو اپنے اثاثوں کو بحال کرانے کی کوششیں کررہا ہے۔ اس خط کی ایک کاپی واشنگٹن کے حکام کو بھی بھیجی گئی ہے۔ جس چیز سے یہ سناریو پیچیدہ ہوجاتا ہے وہ یہ ہے یہ درخواست جو خط کی صورت میں ہے اور ایران کے خلاف غائبانہ فیصلے کا سبب بنی ہے اسے گیارہ ستمبر کے حملوں میں متاثر ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے تیار کیا ہے اور ایران سے پیسے وصولنے کے عدم امکان کے پیش نظر امریکی عدالت کا فیصلہ صیغہ راز میں رکھا گیا تھا یہانتک کہ لگزمبرگ کی عدالت نے ایران کے اثاثوں سے ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ضبط کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ واضح رہے ایران کا یہ پیسہ پابندیوں کی بنا پر کلیر اسٹریم کمپنی کی تحویل میں تھا اور لگزمبرگ میں رکھا گیا تھا۔ گذشتہ سال گیارہ ستمبر کے واقعات میں متاثر ہونے والے خاندانوں کے وکیل نےلگزمبرگ کے جج کو اس بات پر آمادہ کرلیا تھا کہ ایران کے اثاثے ایک بار پھر منجمد کر دیے جائیں۔ ان افراد نے ایران کے خلاف درخواست تیار کی اور اسے لگزمبرگ کی عدالت میں دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکی عدالت کے غائبانہ حکم پر عمل درآمد کے لئے ایران کے اثاثوں کے استعمال کی اجازت دی جائے۔ یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ امریکی کانگریس کی تائید شدہ رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں میں طیاروں کے انیس اغواکاروں میں پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ امریکہ کی رائے عامہ سعودی عرب کو گیارہ ستمبر کے حملوں کا ذمہ دار سمجھتی ہے اور اسے سعودی عرب کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لئے موقع کا منتظر رہنا چاہیے لیکن سعودی عرب کا نام ان ملکوں کی فہرست میں نہیں دکھائی دیتا جن کے شہریوں کے امریکہ جانے پر پابندی ہے۔ ایسی فضا میں گذشتہ اپریل امریکہ کے سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ سناتے ہوئے امریکہ کی ایک عدالت کو اجازت دی تھی کہ وہ دہشتگردانہ واقعات سے متاثر افراد کی درخواستوں کی سماعت کرنے کے بعد ایران کے ضبط شدہ اموال سے ان افراد کو تاوان دے سکتی ہے۔ امریکی عدالت کے اس حکم کی بنا پر ایک عدالت نے اعلان کیا کہ بیروت میں انیس سو تراسی میں مارے جانے والے دو سو بیالیس امریکی بحری فوجیوں کے اھل خانہ دو ارب ڈالر تک ایران کے ضبط شدہ اموال میں سے تاوان وصول کرسکتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے سینٹرل بینک کے اموال کے ایک حصے کو ضبط کئے جانے کی وجہ سے عالمی عدالت انصاف میں امریکہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے لیکن ایران کے خلاف امریکہ کی معاندانہ پالیسیاں مختلف شیووں سے جاری ہیں یہاں تک کہ امریکہ کی وزارت خارجہ نے ایران کی عمارتوں کو کرائے پر دے دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی دشمنی صرف ایٹمی مسئلے تک محدود نہیں ہے بلکہ ایران کے اموال و اثاثوں کی چوری بھی امریکہ کی مخاصمانہ پالیسیوں میں شامل ہے۔ اوباما نے وائٹ ہاوس میں اپنے آخری دنوں میں ایران کے خلاف پابندیوں کی مدت میں توسیع کردی تھی اور اس روش کو جاری رکھنے کی تمام راہیں کھلی رکھی تھیں۔ امریکہ ان نے اقدامات سے ایرانوفوبیا کی پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں لیکن اس طرح کے اقدامات سے ایک اور واقعہ جو پیش آیا ہے وہ امریکہ کی عدالتوں کے فیصلوں سے ایران کے اموال اور اثاثوں کی لوٹ کھسوٹ ہے۔ اب یہ سازشیں یورپ کی عدالتوں تک بھی پہنچ گئی ہیں اور امریکہ نے ایک اور سناریو بنا کر عدالتوں کے راستے ایران کے خلاف اپنی معاندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کا سامان مہیا کررکھا ہے۔