امریکہ کے خلاف روس اور چین کا احتجاج
امریکہ کی فوجی پالیسیوں کے مقابلے میں روس کے موقف سے پتہ چلتا ہےکہ علاقے میں امریکہ کے خلاف کافی سنجیدگی سے صف آرائی ہورہی ہے۔
جنوبی کوریا میں امریکہ کی جانب سے تھاڈ میزائل سسٹم کی تنصیب سے جزیرہ نمائے کوریا کے حالات دوبارہ کشیدگی کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہ بات روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا میں تھاڈ میزائل سسٹم کی تنصیب سے علاقے میں اسٹراٹیجیک توازن بگڑجائے گا اور اس سے براہ راست روس کو خطرہ لاحق ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ بہت سے سیاسی مبصرین لاوروف کے اس نظریے سے متفق ہیں اور امریکہ کو جزیرہ نمائے کوریا اور پورے ایشیا میں استحکام کو خطروں سے دوچار کرنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کیونکہ جنوبی کوریا میں تھاڈ میزائل سسٹم کو شمالی کوریا کے لئے خطرہ پیدا کرنے کے فیکٹر سے کہیں بڑھ کر سمجھا جارہا ہے۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ امریکہ ایک تیر سے دو شکار کررہا ہے اس سے قبل چین ایشیا پیسفیک کے علاقے میں امریکہ کی توسیع پسندی کی مخالفت کرتا تھا اور اھل عالم کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا تھا کہ امریکہ ایشیا کے بحرانی علاقوں کوجیسے جزیرہ نمائے کوریا اور جنوبی چینی سمندر کو ملیٹرائز کرنے کے درپئے ہے۔چین کی نگاہ میں امریکہ کے فوبی اقدامات بلاشبہ بے شمار منفی نتائج کے حامل ہوں گے بالخصوص اس وجہ سے کہ ایشیا کے پرامن ماحول کو کشیدہ بنانے میں امریکہ کے ایشیائی اتحادیوں کا بھرپور کردار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ روس نے متعدد وجوہات یا پھر امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد جو تحفظات اپنائے ہیں ان کے پیش نظر امریکہ کی ملڑائریشن کی پالیسیوں پر بہت کم احتجاج کیا ہے۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ دو دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گذر رہا ہے کہ روس اور چین کے اسٹریٹیجک تعلقات چلے آرہے ہیں اور غالبا اسی بنیاد پر شمالی اور مشرقی ایشیا میں ماسکو اور بیجنگ اپنے مفادات کو الگ کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ کہا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا میں تھاڈ میزائل کی تنصیب کے خلاف روسی وزیر خارجہ کا سخت بیان اسی نظرئے کو بیان کرتا ہے۔واضح رہے روس کا ردعمل ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکہ نے جنوبی کوریا کے ایک گولف میدان میں تھاڈ میزائل سسٹم کو نصب کرنا شروع کردیا ہے۔ اس امر کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ روس کے وزیر خارجہ اس چیز کادفاع کررہے ہیں جسے وہ شمال اور مشرقی ایشیا میں روسی مفادات سے تعبیر کرتے ہیں۔ یقینا اگر حق کا دفاع بر وقت نہ کیا جائے تو بعد میں وہ حق نہیں لیا جا سکتا کیونکہ دشمن کے سامنے اگر کسی طرح کی استقامت نہ کی جائے تو یہی عمل دشمن کو سیاسی اور سماجی مقبولیت عطا کردیتا ہے۔ تھاڈ میزائل سسٹم کی خصوصیات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہےکہ یہ میزائل ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کے قابل نہیں ہیں لیکن ایک ہزار کلومیٹر کی رینج کی بنا پر دشمن کے میزائلوں کو تباہ کرسکتا ہے۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ شمالی کوریا کے میزائلوں کے خطرہ کا مقابلہ کرنے کےلئے تھاڈ میزائل داغے گئے تو کیا چـین اور روس کا مقابلہ کرپائیں گے؟